میکسیکو کے گونزالوسانتیاگوباؤتستا نے تیسرے واشوکوورلڈ چیلنج میں سونے کا تمغہ جیت لیا

ٹوکیو، 4 دسمبر 2015ء/کیوڈو جے بی این-ایشیانیٹ — 9 ممالک کے 10 باورچیوں کے درمیان جاپانی کھانے پکانے کی مہارت کا مقابلہ ہوا، لازمی طعام اور اپنی مرضی کی تخلیق کے ذریعے دنیا بھر میں جاپانی کھانوں کو وسعت دینے اور اسے آنے والی نسل تک پہنچانے کی امیدوں کے ساتھ وزارت زراعت، جنگلات و ماہی گیری نے “تیسرے واشوکوورلڈ چیلنج” کا انعقاد کیا (https://washoku-worldchallenge.jp/3rd/en/)، ایک ایسا مقابلہ جو بیرون ملک جاپانی کھانے اور کھانوں کی ثقافت کو پھیلانے والے غیر ملکی باورچیوں کے لیے کھانے پکانے کے جاپانی فن کی معلومات اور مہارت کا مقابلہ تھا۔ نو ممالک/خطوں سے تعلق رکھنے والے، جن میں فرانس، میکسیکو، روس اور تائیوان شامل تھے ، دس واشوکو باورچیوں نے ابتدائی اسکریننگ مراحل مکمل کیے، اور حتمی مقابلے کے لیے جاپان پرواز کی۔ حتمی مرحلہ 23 نومبر کو ہاتورینیوٹریشن کالج اینکسیمیں ہوا، جس کے بعد ہاپو-این (ہاکوہو-کان) میں 24 نومبر کو واشوکو کے دن پر اعزازات کی ایک تقریب منعقد ہوئی۔

(باضابطہ فلم: https://youtu.be/KP65hlxTees)
(دستاویز کاری: http://prw.kyodonews.jp/prwfile/release/M103572/201512036168/_prw_OA1fl_0OvsBJNO.pdf)

سونے کا تمغہ جیتنے والے میکسیکو کے جناب گونزالوسانتیاگوباؤتستا نے کہا کہ “میں بہت خوش ہوں۔ میں منتظمین کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، ان لوگوں کا جن کے ساتھ میں نے اپنے ریستوراں پر کام کیا، اور اپنے اہل خانہ کا بھی۔ میری نظریں اب اس انعام کو گھر لے جانے اور جاپانی کھانوں کو میکسیکو میں مزید پھیلانے پر لگی ہوئی ہیں۔”

“تیسرے واشوکوورلڈ چیلنج” کے حتمی مقابلے میں مقابل افراد نے پہلے لازمی طعام “فوروفوکی دی کون” بنایا (60 منٹ کے اندر اندر) اور پھر اپنی اصل تخلیق (90 منٹ کے اندر) پیش کی۔ ججوں کے پینل نے، جو واشوکو کی صنعت کی نمائندگی کرنے والے چھ ماہرین پر مشتمل تھا، تینوں انعامات سونے کا تمغہ، اصلی کھانا انعام اور معینہ کھانا انعام کا تعین کیا ، جبکہ ہارورسٹر انعام کا فیصلہ دیکوپون کمپنی کے صدر اور سی ای او ہیروشیاجیری کی جانب سے کیا گیا، جو کسانوں کو صارفین سے جوڑتی ہے اور اس مقابلے میں استعمال ہونے والے دیکون (مولی) اجزا کی پیداوار میں شامل ہے۔ (*ہاروسٹر پرائز ایسے فرد کو دیا گیا ہے جو لازمی فوروفوکیدیکون ڈش میں بہترین دیکون بنانے میں کامیاب ہوا۔)

پارلیمانی سیکرٹری برائے زراعت، جنگلات و ماہی گیری ہیدی میچی ساتو نے جاپانی کھانوں اور مستقبل میں کھانوں کی ثقافت کے بیرون ملک پھیلاؤ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں امید ہے کہ حتمی مقابلے تک پہنچنے والے دس مقابل اپنے متعلقہ ممالک میں کھانے کی ثقافت اور جاپان کے کھانوں کا تقابل کرتے ہوئےواشوکو کی رغبت اور صلاحیت پر ایک اور نظر ڈالیں گے، اور اس کی کشش کی اطلاع دیں گے، صرف جاپانی زاویے سے ہی نہیں بلکہ عالمی نظر سے بھی۔”

ایگزیکٹو کمیٹی چیئرمین کی جانب سے تبصرہ

-یوزابوروموگی، اعزازی چیئرمین کیکوم انکارپوریشن “اس تقریب کی پہلی بار میزبانی کے وقت پر میرا احساس ہے کہ صحت بخش اور مزیدار جاپانی کھانوں کے حوالے سے بیرون ملک توجہ میں اضافہ ہوا ہے، اور مقابلے میں شریک افراد میں جاپانی کھانوں کی بہت گہری سمجھ بوجھ موجود ہے۔ مجھے امید ہے کہ دس باورچی اپنی مہارتوں کو مزید بہتر بنائیں گے اور جاپانی کھانوں کی کشش دنیا کے سامنے لائیں گے۔”

منتظمین کی جانب سے تبصرہ

ہیدی میچی ساتو، پارلیمانی سیکرٹری برائے زراعت، جنگلات و ماہی گیری “مجھے امید ہے کہ حتمی مقابلے تک پہنچنے والے دس باورچی ان کھانوں کا مختلف ملکوں کی غذائی ثقافت سے تقابل کرتے ہوئےواشوکو کی کشش اور صلاحیت پر دوبارہ غور کریں گے اور اس کو پھیلانا جاری رکھیں گی، صرف جاپانی نقطہ نظر ہی سے نہیں بلکہ عالمی زاویے سے بھی۔”

ججوں کے تبصرے

– کیہاچیکوماگائی، ریستوراں کیہاچی کے بانی “مجھے مقابلے کے شریک افراد کو پروقار انداز میں کھڑے ہوئےاور ہوچو چاقو تھامے دیکھ کر بہت تحریک ملی۔ یہ حتمی مقابل جنہیں دنیا بھر کے مختلف مقامات سے منتخب کیا گیا تھا، اور ان کی تخلیق کے درمیان بہت کم فرق رہا۔ مجھے امید ہے کہ وہ اپنی مہارتوں کو مزید بڑھائیں گے اور اگلی مرتبہ اس مقابلے میں پھر حصہ لیں گے۔”

-یوکیوہاتوری، بورڈ چیئرمین اور صدر ہاتورینیوٹریشن کالج “مجھے بہت خوشی ہے نے کہ اس تقریب لوگوں کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کھانا پکانے کے جاپانی طریقے سیکھیں اور انہیں اسے پھیلانے کا موقع ملے۔”

ڈومینک کوربی، ریستوراں “فرنچ کاپوڈومینک کوربی” کے مالک “یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے غیر جاپانی باورچیوں کے ہاتھ سے بنے ہوئےواشوکو کا جائزہ لیا، اور میں ان کے اعلیٰ معیارات سے بہت متاثر ہوا۔ تمام مقابل افراد مہارتوں سے لیس ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ دنیا بھر میں جاپانی کھانوں کو پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے قابل ہوں گے۔”

ناؤیوکییاناگی ہارا، نائب صدر یاناگی ہارا اسکول برائے روایتی جاپانی کھانے “مجھے مقابل افراد کو ‘مینتوری’ جیسی جاپانی مہارت استعمال کرتے، دیکون کے کنارے صاف کرتے اور ‘کاکوشی-بوچو،’ دیکون کی سطح پر ایکس کی شکل کے کٹ لگاتا دیکھ کر حیرت ہوئی۔ میرے خیال میں ان کی صلاحیتیں مزید پروان چڑھیں گی اگر وہ غور کریں کہ کھانا پکانے کے دوران یہ تکنیک کیوں استعمال کی جاتی ہیں۔”

ذریعہ: “تیسرا واشوکوورلڈ چیلنج” دفتر تعلقات عامہ