پانڈا کے عالمی تحفظ کی مہم کا ہانگ کانگ میں آغاز

ہانگ کانگ، چین، 23 اگست/سن ہوا نیوز ایجنسی – ایشیانیٹ/ ایشیانیٹ پاکستان —

جمعے کو یہاں گلوبل پانڈا کنزرویشن ٹور کے آغاز کے ساتھ منتظمین اور پانڈا سفیروں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ پانڈا اور دیگر نایاب نسل کے جانوروں کے تحفظ کے لیے کوششیں کریں۔

تقریب کے مرکزی منتظم اور قوی ہیکل پانڈا کی نسل افزائی کرنے والے چینگ ڈو ریسرچ بیس نے ایک بیان میں کہا کہ پانڈا کا تحفظ دراصل حیاتی تنوع کو بچانے کا عمل بھی ہے۔

اس میں کہا گیا کہ “ہمیں پانڈوں کو صرف اس لیے بچانے کی ضرورت نہیں کہ وہ ہمارے لیے قومی اثاثہ ہیں، بلکہ اس لیے بھی ان کے مساکن چین میں حیاتی تنوع کے مراکز ہیں۔”

“پانڈوں اور ان کے مساکن کی حفاظت کے ذریعے علاقے میں دیگر جانوروں اور نباتات کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔”

اوشین پارک میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں 1.16 ملین عالمی درخواستوں میں سے منتخب کی گئے تین پانڈا سفیروں یا “پیمبیسیڈرز” میں سے ایک ین رونگ نے کہا کہ پانڈوں کا تحفظ صرف پانڈا سفیروں کی ذمہ داری نہیں۔

انہوں نے کہا کہ “میں امید کرتی ہوں کہ پانڈوں اور دیگر جنگلی حیات کے تحفظ میں ہر کوئی اپنا حصہ ڈالے گا۔”

تین پانڈا سفیروں، چین سے چین، فرانس سے پولی اور امریکہ سے میلیسا کاٹز  کو ستمبر 2012ء میں چین کے اس شہرۂ آفاق جانور کے لیے سفیروں کی بھرتی مہم کے ذریعے منتخب کیا گیا تھا۔ منصوبے کے ایک اور منتظم سن ہوا نیوز ایجنسی کے ایشیا پیسفک بیورو کے ڈائریکٹر جو مینگیون نے کہا کہ یہ دورہ ایک امن کا دورہ بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہم امید کرتے ہیں کہ ہانگ کانگ سے شروع ہونے والا یہ دورہ چین سے دنیا بھر کے لیے ایک امن اور آشتی کا پیغام دے گا۔”

تین پیمبیسیڈرز دنیا بھر کے ان شہروں کے لیے اپنے دورے کا آغاز کریں گے جہاں اس وقت پانڈا موجود ہیں، ان میں ہانگ کانگ، سنگاپور، واشنگٹن ڈی سی، اٹلانٹا، پیرس اور ایڈنبرا شامل ہیں۔

پیمبیسیڈرز نے اوشین پارک کے پانڈا ولیج میں رہنے والے  پانڈوز کا دورہ کیا اور پانڈوں کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں مہمانوں سے گفتگو کی۔

چین کے مشرقی جیانگ سی صوبے سے آنے والے ایک سیاح ہی جیان منگ نے تقریب کے لیے لگائےگئے ایک پوسٹر بورڈ پر اپنے دستخط کے بعد کہا کہ “میرے خیال میں ہمیں پانڈوں اور ان کے مساکن کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات اٹھانے چاہیں، بصورت دیگر ہماری آنے والی نسلیں اس خوبصورت جانور کو صرف ٹیلی وژنز پر ہی دیکھ پائے گی۔”

ہانگ کانگ میں رہنے والے چار پانڈے – آن آن، جیا جیا، ینگ ینگ اور لی لی – شہر کی چین کو حوالگی کی دوسری اور دسویں سالگرہ کے موقع پر جوڑیوں کی صورت میں شہر کو تحفتاً دیے گئے تھے۔

پانڈا، جو قوی ہیکل پانڈا کے نام سے بھی مشہور ہیں، چین میں پیدا ہونے والا جانور ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ خطرے سے دوچار جانوروں کی نسلوں میں سے ایک ہے۔ تقریباً 1600 پانڈے جنگلوں میں رہتے ہیں، جن میں سے بیشتر چین کے مغربی صوبے سیچوان کے پہاڑی علاقوں میں ہیں جبکہ 300 سے زیادہ مختلف مقامات پر قید ہیں۔

ذریعہ: چینگ ڈو ریسرچ بیس آف جائنٹ پانڈا بریڈنگ

تصویری منسلکات کے روابط:

http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=231284

http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=231285

http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=231286

http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=231287