سال 2020ء تک منطقہ حارہ کے غفلت برتے گئے 10 امراض سے نمٹنے کے لیے نجی و سرکاری شراکت دار متحد ہوں گے

AsiaNet 48174

لندن، 30 جنوری 2012ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

شراکت داروں کا عالمی ادارۂ صحت کے نئے اہداف کی جانب جدید اور متعاون عملدرآمد کا عہد

آج، 13 ادویات ساز اداروں، امریکہ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، عالمی بینک اور صحت کی دیگر عالمی انجمنوں نے دہائی کے اختتام تک منطقہ حارہ کے 10 غفلت برتے گئے امراض (این ٹی ڈیز) کے خاتمے یا ان پر قابو پانے کی جانب پیشرفت کو تیز کرنے کے لیے ایک نئے تعاون کا اعلان کیا ہے۔

این ٹی ڈی سے متاثرہ ممالک کے ساتھ کوششوں کو ملا کر شراکت داروں نے ان امراض کو شکست دینے کے لیے بے مثال توجہ اور دنیا بھر میں این ٹی ڈیز سے متاثرہ 1.4 ارب افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا ہے، ان میں سے بیشتر افراد دنیا کے غریب ترین لوگ ہیں۔

این ٹی ڈیز سے نمٹنے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی مشترکہ کوشش میں گروپ نے رائل کالج آف فزیشنز میں منعقدہ ایک تقریب میں اعلان کیا ہے کہ وہ 2020ء تک طلب کو پورا کرنے کے لیے موجودہ ادویات عطیہ پروگرام کو برقرار رکھے گا یا مزید آگے بڑھائے گا؛ نئی ادویات پر تحقیق اور پیشرفت کو تیز تر کرنے کے لیے تجربات و مرکبات کو شیئر کرے گا؛ اور آر اینڈ ڈی کوششوں میں مدد اور ادویات کی تقسیم و فراہمی کے منصوبوں کو مضبوط کرنے کے لیے 785 ملین امریکی ڈالرز سے زائد فراہم کرے گا۔ شراکت داروں نے “غفلت برتے گئے منطقہ حارہ کے امراض پر میثاق لندن” کی بھی توثیق کی، جس میں انہوں نے مشترکہ کوششوں کو نئی سطحوں پر لے جانے اور پیشرفت کی راہ متعین کرنے کا عہد کیا ہے۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک-چیئر بل گیٹس نے کہاکہ “آج، ہم اپنی سرمایہ کاریوں کے اثر کو بڑھانے اور اب تک ہونے والی شاندار پیشرفت پر آگے بڑھنے کے لیے ملے ہیں۔ اس جدید طریقے کو دیگر عالمی ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی لازماً ایک نمونے کی حیثیت اختیار کرنی چاہیے اور لاکھوں کروڑوں لوگوں کو خود کفیل بنانے اور مدد کی ضرورت کے خاتمے میں مدد دے گا۔” گیٹس فاؤنڈیشن نے این ٹی ڈی مصنوعات اور آپریشنل تحقیق کی مدد کے لیے پانچ سال میں 363 ملین امریکی ڈالرز کے عہد کا اعلان کیا ہے ۔

این ٹی ڈیز کے خلاف کوشش کی رہنمائی کے لیے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رواں ہفتے ایک نئی حکمت عملی کی رونمائی کی، غفلت برتے گئے منطقہ حارہ کے امراض کے عالمی اثر پر قابو پانے کے لیے کام کو تیز تر کرنا – ایک نقشہ راہ برائے نفاذ [http://whqlibdoc.who.int/hq/2012/WHO_HTM_NTD_2012.1_eng.pdf]، جو ان اہداف کو مقر رکرتا ہے جو دہائی کے اختتام تک حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مارگریٹ چین نے کہا کہ “ڈبلیو ایچ او، محققین، شراکت داروں اور صنعت کے حصہ داروں  کی کوششوں نے این ٹی ڈیز کی صورت تبدیل کر دی ہے۔ ان کہنہ امراض کو اب تیز رفتاری سے اپنے گھٹنوں پر جھکا دیا گیا ہے۔ آج پائی گئی اس رفتار سے ، میں یقین ہے کہ تقریباً ان تمام امراض کو اس دہائی کے اختتام تک ختم کیا جا سکتا ہے یا ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔”

شراکت داریوں کی جانب سے نئے عہد گنی ورم مرض کے خاتمے کے لیے رقوم کے خلا کو پر کرے گا اور لم فیٹک فلاریارسس، بلائنڈنگ ٹراکوما، سلیپنگ سک نیس اور جذام کے خاتمے، اور مٹی سے ہونے والے ہیل منتھس، اسکسٹوسومیاسس، ریور بلائنڈنیس، چاگس مرض اور وسکیرل لیش مانیاسس پر قابو پانے کے 2020ء تک کے اہداف کی جانب تیزی سے سفر کو ممکن بنائیں گے۔

شامل 13 ادویات ساز اداروں کے سی ای اوز کی جانب سے گفتگو کرتے ہوئے گلیکسو اسمتھ کلائن کے سی ای او سر اینڈریو وٹی نے کہا کہ “کئی ادارے اور انجمنیں دہائیون سے ان خوفناک امراض سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لیکن کوئی ایک ادارہ یا انجمن اسے تن تنہا انجام تک نہیں پہنچا سکتی۔ آج، ہم نے ان امراض سے آج اور مستقبل میں جنگ کے لیے راہ کے تعین کو انقلابی جہت عطا کرنے کی خاطر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کام کرنے کا عہد کیا ہے۔”

انٹرنیشنل فیڈریشن آف فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز اینڈ ایسوسی ایشن (IFPMA) کے مطابق نئے اور موجودہ عہد کو ملا کر ادارے ہر سال ضرورت مند افراد کے لیے اوسطاً 1.4 ارب علاج عطیہ کرے گا۔ مزید برآں، نئی تحقیق اور 11 اداروں اور آر اینڈ ڈی انجمن ڈرگز فار نیگلیکٹڈ ڈیزیزز انیشی ایٹو (DNDi) کے ساتھ مشترکہ کوششوں کی پیشرفت اور رسائی کے معاہدے کمپاؤنڈ لائبریریوں تک غیر معمولی رسائی فراہم کر رہے ہیں جو نئے علاج کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ عہد دیگر کوششوں کے ساتھ متوازی طور پر کام کریں گے تاکہ اہم این ٹی ڈی علاج کی پیشرفت کو تیز تر کیا جا سکے، جن میں ریسرچ کمپاؤنڈز، معلومات اور تجربے کا ایک ڈیٹا بیس ویپو ری:سرچ شامل ہے۔

گنی ورم کی بیخ کنی کے لیے رقوم کی دستیابی میں موجود کمی کو پورا کرنے کے لیے، عزت مآب شیخ خلیفہ بن زید النہیان، صدر متحدہ عرب امارات، گیٹس فاؤنڈیشن اور چلڈرنز انوسٹمنٹ فنڈ فاؤنڈیشن کارٹر سینٹر کو 40 ملین امریکی ڈالرز کا عطیہ دیں گی۔ ان رقوم میں برطانیہ کے محکمہ بین الاقوامی ترقیات (DFID) کی جانب سے اکتوبر کے لیے کیا گیا وعدہ بھی شامل ہے کہ اگر دوسرے ادارے بھی آگے بڑھیں تو وہ –چار سالہ منصوبے کے تحت- 20 ملین پاؤنڈز دے گا، گزشتہ ہفتے ڈی ایف آئی ڈی کی جانب سے این ٹی ڈیز کے کے لیے 195 ملین پاؤنڈز کا وعدہ کیا ہے۔

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) نے بھی امریکی کانگریس کی جانب سے 89 ملین ڈالرز مختص کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ادویات کی فراہمی اور تقسیم کے منصوبوں کو مضبوط کیا جا سکے، رقوم کی یہ فراہمی 2006ء سے کی گئی 212 ملین امریکی ڈالرز کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ مزید برآں عالمی بینک افریقی ممالک کو مضبوط مقامی صحت کے نظام بنانے کے لیے مالی و تکنیکی مدد کی فراہمی کو توسیع دے گا جو این ٹی ڈی کے خاتمے اور ان پر قابو پانے کی تکمیل کرے گی، ساتھ ساتھ افریقہ میں ریور بلائنڈنیس اور دیگر قابل علاج این ٹی ڈیز سے نمٹنے کے لیے ایک ٹرسٹ فنڈ کو توسیع دینے کے لیے دیگر شراکت داروں کے ہمراہ بھی کام کرے گا۔

برطانیہ کے وزیر برائے بین الاقوامی ترقیات اسٹیفن او برائن نے کہا کہ “دنیا ان خطرناک امراض سے غفلت کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو چکی ہے جو دنیا کے لاکھوں کروڑوں غریب ترین افراد کو معذور، اندھا کرنے کے علاوہ جان سے بھی مار رہے ہیں۔ برطانیہ اور دیگر شراکت دار لاکھوں کروڑوں افراد کے لیے ضروری علاج کی فراہمی کے لیے راہ متعین کر رہے ہیں، جو بچوں کو اسکول جانے اور والدین کو اپنے اہل خانہ کو فراہم کرنے کے قابل بنا رہی ہے تاکہ وہ خود کو غربت سے نکالنے میں مدد دے سکیں اور بالآخر انہیں کسی مدد کی ضرورت نہ رہے۔”

آج کے وعدے اور میثاق ڈبلیو ایچ او کی 2010ء رپورٹ، منطقہ حارہ کے غفلت برتے گئے امراض کے عالمی اثرپر قابو پانے کے لیے کام [http://whqlibdoc.who.int/publications/2010/9789241564090_eng.pdf]،  کے جواب میں سامنے آئی ہیں، جس نے این ٹی ڈیز پر قابو پانے کے لیے نئے وسائل کا مطالبہ کیا ہے۔ ادویات ساز صنعت کے نمائندگان، گیٹس فاؤنڈیشن اور دیگر شراکت داروں نے گزشتہ سال مل کر کام کیا تاکہ اس توسیع شدہ اور مشترکہ کوشش کو تیار کیا جا سکے۔

حکومت بنگلہ دیش، برازیل، موزمبیق اور تنزانیہ، جہاں این ٹی ڈیز عام ہیں، نے اعلان کیا کہ وہ این ٹی ڈیز کو شکست دینے کے لیے مکمل منصوبوں کو نافذ کریں گی اور ان امراض سے جنگ کے لیے سیاسی و مالی وسائل وقف کریں گی۔ تمام شراکت داروں نے 2020ء اہداف کی جانب پیشرفت کو باقاعدہ ٹریک کرنے کے لیے طریقہ ہائے کار تلاش کرنے کے ذریعے احتساب کا عہد کیا ہے۔

موزمبیق کے وزیر صحت الیگزینڈر مینگوئیلے نے کہا کہ “موزمبیق میں این ٹی ڈیز کے بہت زیادہ بوجھ کا ثبوت ملتے ہی، حکومت موزمبیق نے قدم اٹھایا اور ان امراض کے خاتمے یا قابو پانے کے لیے مستقل اپنی وابستگی اور سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔ آج وعدہ کیے گئے وسائل کے ساتھ اس شراکت داری کے کے ضمن میں اب حکومت موزمبیق پہلے سے کہیں زیادہ یہ سمجھتی ہے کہ یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔”

آج اعلان کردہ خصوصی شراکت دار وعدوں میں شامل ہیں:

ادویات کی فراہمی کو برقرار رکھنا، توسیع اور پھیلاؤ:

–        این ٹی ڈی ادویات عطی پروگرام سے منسلک تمام اداروں نے دہائی کے خاتمے تک اپنے منصوبوں کو برقرار یا مزید پھیلانے کا عہد کیا، اور چند نے اپنی وابستگی کو مزید پھیلانے کا عہد کیا ہے۔ ان وعدوں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

–        سنوفی،ایسائی اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن عالمی ادارۂ صحت کو اپنے عالمی لم فیٹک فلاریاسس ایلی منیشن پروگرام کے لیے 120 ملین ڈی ای سی گولیاں فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ ایسائی کی عطیات سے وابستگی کے ساتھ جو 2014ء میں شروع ہوگی، یہ نئی گولیاں 2012ء سے 2020ء تک وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنائیں گی۔

–        بایر چاگس مرض کے علاج کے لیے نیفرٹی موکس کے موجودہ عطیات کو دوگنا کرے گا۔

–        ایسائی 2020ء تک ایل ایف کے لیے ڈی ای سی کی2.2 ارب گولیوں کے موجودہ عطیے کومزید بڑھائے گا۔

–        جائی لیڈ نے، جس نے 2011ء میں وسکیرل لیش مانیاسس کے لیے ایم بائی سم کے عطیات کا اعلان کیا تھا، وی ایل کے لیے اپنے پروگرام کو جاری رکھے گا اور محدود وسائل کے حامل ممالک میں اخراجات کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور عمل کا جائزہ اور اس میں سرمایہ کاری سے بھی وابستہ ہے۔

–        گلیکسو اسمتھ کلائن مٹی سے ہونے والے ہیل منتھس کے علاج کے لیے البین ڈیزول کے موجودہ عطیات میں اضافہ کرے گا اور 2020ء تک اضافی پانچ سالوں کے لیے 400 ملین گولیاں سالانہ عطیہ کرے گا، اور ساتھ ساتھ لم فیٹک فلاریارسس سے جنگ کے لیے سالانہ 600 ملین گولیاں عطیہ کرنا بھی جاری رکھے گا۔

–        جانسن اینڈ جانسن 2020ء تک 200 ملین گولیاں سالانہ فراہم کر کے مٹی سے ہونے والے ہیل منتھس کے لیے میبن ڈیزول کے موجودہ عطیے میں اضافہ کرے گا ۔

–        ایم ایس ڈی ریور بلائنڈنیس اور لم فیٹک فلاریاسس (جہاں یہ ریور بلائنڈنیس کے ساتھ موجود ہوگا) کے خلاف جنگ کے لیے ایورمیکٹن کے لامحدود عطیے کو جاری رکھے گا ، ساتھ ساتھ دیگر امراض کے خاتمے کے لیے ایورمیکٹن کے استعمال پر بھی غور کرے گا۔

–        مرک ک جی اے اے غیر معینہ مدت کے لیے پریزی کوینٹل کے سالانہ عطیے کو 25 ملین سے 250 ملین گولیاں تک بڑھائے گا۔

–        نووارٹس دنیا بھر میں جذام کے مرض کو آخری دھکا دینے کے لیے مریضوں کو مختلف ادویات (ریفام پیکن، کلوفازیمائن اور ڈیپ سون) کے ذریعے علاج کے ذریعے اپنی وابستگی کو مزید بڑھائے گا۔

–        فائزر کم از کم تک بلائنڈنگ ٹراکوما کے لیے ایزتھرومائسن، اور ساتھ ساتھ ایزتھرومائسن کے زیر علاج بچوں میں شرح اموات میں کمی کے لیے ایک ادویات کا عطیہ بھی جاری رکھے گا۔

–        سنوفی سلیپنگ سک نیس کے لیے 2020ء تک ایفلورنتھائن، میلارسوپرول اور پینٹامائڈین کے موجودہ عطیات میں اضافہ کرے گا، اور ساتھ ساتھ نقل و حمل کی مدد بھی فراہم کرے تاکہ یقینی بنایا جا سکے ادویات بغیر کسی قیمت کے مریضوں کو اپنی علاج گاہوں میں مستقل دستیاب رہیں۔

تیز تر آر اینڈ ڈی برائے نئے علاج:

–        ڈی اینڈ ڈی آئی کی ایبٹ، جانسن اینڈ جانسن اور فائزر کے ساتھ تعاون کے تحت پروڈکٹ ڈیولپمنٹ شراکت داریاں ہیل منتھ انفیکشن کے علاج کے لیے نئی ادویات، خصوصاً میکروفلاریسائیڈ، جو ریور بلائنڈنیس اور لم فیٹک فلاریاسس کا سبب بننے والے بالغ کیڑے کو مارتا ہے، تیار کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

–        ایبٹ ابتدائی جانسن اینڈ جانسن کی تکنیکی و رسدی مددکے ساتھ نئی نسخہ سازی تحقیق اور قبل از طبی پیشرفت کے لیے سائنسی تجربہ فراہم کر رہا ہے۔

–        اگر قبل از طبی پیشرفت کامیاب ہوتی ہے، تو طبی پیشرفت کے لیے، دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر، جن میں فائز کے عملے کے سائنس دانوں کی جانب سے تکنیکی مدد بھی شامل ہو گی، جانسن اینڈ جانسن بھی عطیہ کرے گا، ۔ جے اینڈ جے ضوابط کی منظوری کو حاصل کرے گا۔

–        11 اداروں – ایبٹ، ایسترا زینے کا، بایر، برسٹل مایرز اسکوئب، ایسائی، گلیکسو اسمتھ کلائن، جانسن اینڈ جانسن، ایم ایس ڈی، نووارٹس، فائزر اور سنوفی – کی جانب سے ڈی اینڈ ڈی آئی کے ساتھ جدید لائسنسنگ یا تعاون کے معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں یا وہ ریور بلائنڈنیس، لم فیٹک فلاریاسس، سلیپنگ سک نیس، چاگس مرض یا  وسکیرل لیش مانیاسس جیسے امراض کے لیے نئی ادویات تخلیق کرنے کے لیے کمپاؤنڈز یا معلومات کی شیئرنگ کے مرحلے میں ہیں۔

–        ڈی اینڈ ڈی آئی اور سنوفی نے پہلے سے طبی مرحلے میں موجود فیکسینی ڈیزول کے ساتھ ساتھ ، سلیپنگ سک نیس کے لیے ایک نئی امیدوار دوا، اوکسابورول/ایس سی وائی ایکس-7158، کی مشترکہ تیاری کے لیے تعاون کا اعلان کیا ہے۔

ادویاتی مصنوعات اور آپریشنل تحقیق، فراہمی اور منصوبوں کے نفاذ، بشمول حفاظت، مانیٹرنگ اور تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے قوم کی فراہمی میں اضافہ کر رہے ہیں:

–        متعدد شراکت داروں نے گنی ورم کے خاتمے کے لیے مالی مسائل میں موجود خلا کو پر کرنے کی خاطر دی کارٹر سینٹر کے لیے نئی فنڈنگ میں 40 ملین امریکی ڈالرز کا اعلان کیا ہے۔ دی گیٹس فاؤنڈیشن 23.3 ملین امریکی ڈالرز کا حصہ دے گی۔ صدر متحدہ عرب امارات عزت مآب خلیفہ بن زید النہیان 10 ملین امریکی ڈالرز عطیہ کریں گے جبکہ چلڈرنز انوسٹمنٹ فنڈ فاؤنڈیشن 6.7 ملین امریکی ڈالرز دے گی۔

–        رقوم کی یہ فراہمی ڈی ایف آئی ڈی کی جانب سے 20 ملین پاؤنڈز کے ساتھ تکمیل کو پہنچتی ہے، جس کا اعلان گزشتہ ہفتے 2015ء تک 195 ملین پاؤنڈز کے عہد کے طور پر کیا گیا تھا، جس کا ہدف گنی ورم بیماری، لم فیٹک فلاریاسس، ریور بلائنڈنیس اور اسکسٹوسومیاسس کے ساتھ ساتھ بلائنڈنگ ٹراکوما، وسکیرل لیش مانیاسس پر تحقیق اور ممالک تک مکمل رسائی کے لیے نئے منصوبے تشکیل دینا ہوگا۔

–        گیٹس فاؤنڈیشن نے 2020ء تک ہدف پر رکھی گئی این ٹی ڈیز پر قابو پانے یا ان کے خاتمے کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اہم خلاؤں کو پر کرنے اور کامیابی کی راہ میں رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ایک 5 سالہ 363 ملین امریکی ڈالرز کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

–        یو ایس ایڈ 20 سے زائد ممالک کو مکمل این ٹی ڈی پروگراموں کو متعارف اور/یا آگے بڑھانے کے لیے مدد فراہم کرتا رہے گا، جن میں تین نئے ممالک: موزمبیق، سینی گال اور کمبوڈیا، شامل ہیں۔ امریکی کانگریس مالی سال 2012ء میں این ٹی ڈی کنٹرول کے لیے یو ایس ایڈ کے لیے 89 ملین ڈالرز مختص کیے ہیں۔

–        ملکی سطح پر، عالمی بینک ممالک کو مضبوط صحت کے ایسے مستحکم مقامی نظام تشکیل دینے میں مدد دینے کے لیے اپنی مالیاتی و تکنیکی مدد کو مزید بڑھائے گا تاکہ وہ این ٹی ڈی کے خاتمے اور ان پر قابو پانے کو مکمل کر سکیں۔ علاقائی سطح پر عالمی بینک موجودہ ٹرسٹ فنڈ کے امین کی حیثیت سے نگرانی جاری رکھے گا جو افریقہ میں ریور بلائنڈنیس کے خلاف جنگ کی مدد کرتے ہیں، اور بر اعظم میں قابل علاج این ٹی ڈیز کے خاتمے یا ان پر قابو پانے کے لیے ٹرسٹ فنڈ کی توسیع کے لیے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

–        منڈو سانو امریکین اور افریقہ کے منتخب مقامات پر این ٹی ڈی کنٹرول میں کام کو آگے بڑھانے اور پروگرام بہتر بنانے کے لیے 5 ملین امریکی ڈالرز کا حصہ ڈال چکا ہے۔

–        حکومت موزمبیق نے ملک کے زد پذیر علاقوں میں این ٹی ڈی پر قابو اور خاتمے کے لیے مخصوص اہداف کا اعلان کیا ہے، جن میں شامل ہیں:

–        لم فیٹک فلاریاسس، مٹی سے منتقل ہونے والے ہیل منتھس اور اسکسٹوسومیاسس سے متاثرہ تمام علاقوں کے جغرافیائی احاطے تک مکمل رسائی

–        2018ء تک ٹراکوما کی مکمل نقشہ سازی اور مکمل جغرافیائی احاطے کی تکمیل

–        ادویات کے وسیع انتظام کے منصوبوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو برقرار رکھنے کی نگرانی اور عمل کی گنجائش بنانا

–        برازیل، تنزانیہ، بنگلہ دیش اور دیگر این ٹی ڈی متاثرہ ممالک کی حکومتوں نے اپنے ممالک میں این ٹی ڈیز پر قابو پانے اور ان کے خاتمے کے لیے مکمل یا مشترکہ منصوبوں کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

–        تین ادویات ساز اداروں – مرک کےجی اے اے، نووارٹس اور سنوفی- تحفظ، مانیٹرنگ، شعور اجاگر کرنے اور امراض پر قابو پانے کی سخت کوششوں کی مدد کے لیے رقوم کا انتظام اور فراہمی کریں گے۔

–        لائنز کلب انٹرنیشنل نے 2017ء تک بلائنڈنگ ٹراکوما کے خاتمے کی کوششوں میں حکومت چین کی مدد کے لیے 6.9 ملین امریکی ڈالرز کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

این ٹی ڈی وعدوں کا تعاون اور پیمائش: صنعتی شراکت داروں نے 2020ء اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نقشہ راہ کی بنیاد پر ایک اسکور کارڈ کے ذریعے شراکت دار اجتماعی پیشرفت کا تعاقب کریں گے جو پیشرفت کو معمول کے مطابق اور باضابطہ طور پر ٹریک کریں گا جس میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا شریک انجمنیں اپنی رسد، تحقیق، کی فراہمی اور 2020ء اہداف کی سمت نفاذ کے عہد کو حاصل کر رہی ہیں یا نہیں۔ یہ عمل احتساب اور شفافیت کو یقینی بنائے گا اور رہ جانے والے خلا کو ظاہر کرے گا۔

رائل کالج آف فزیشنز میں منعقدہ آج کی تقریب کے مقررین میں شامل تھے:

–        ڈاکٹر مارگریٹ چین، ڈائریکٹر-جنرل، عالمی ادارۂ صحت

–        بل گیٹس، شریک-چیئر، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

–        اسٹیفن او برائن، پارلیمانی انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ، برطانوی محکمہ بین الاقوامی ترقیات

–        ڈاکٹر ایریل پابلوس-مینڈیز، نائب منتظم برائے عالمی صحت، امریکی محکمہ بین الاقوامی ترقی

–        ڈاکٹر یورگ رائنہارڈ، چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ، بایر ہیلتھ کیئر اے جی

–        لامبرتو آندریوتی، چیف ایگزیکٹو آفیسر، برسٹل-مایرز اسکوئب

–        ہارو نائتو، صدر اور سی ای او، ایسائی

–        سر اینڈریو وٹی، چیف ایگزیکٹو آفیسر، گلیکسو اسمتھ کلائن

–        ولیم ویلڈن، چیئرمین، بورڈ آف ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر، چیئرمین، ایگزیکٹو کمیٹی، جانسن اینڈ جانسن

–        کینتھ فریزیئر، چیئرمین بورڈ، صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایم ایس ڈی

–        ڈاکٹر اسٹیفن اوسکمان، ایگزیکٹو بورڈ ممبر، مرک کے جی اے اے، ادویات ساز کاروباری شعبے کی جانب سے ذمہ داری کے ساتھ

–        جوزف جیمی نیز، چیف ایگزیکٹو آفیسر، نووارٹس

–        کرسٹوفر اے ویباخر، چیف ایگزیکٹو آفیسر، سنوفی

–        پارل کارٹر، سینئر نائب صدر، انٹرنیشنل کمرشل آپریشنز، جائی لیڈ

–        ڈاکٹر برنارڈ پیکول، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈرگز فار نیگلیکٹڈ ڈیزیزز انیشی ایٹو

–        ڈاکٹر کیرولین انستے، مینیجنگ ڈائریکٹر، عالمی بینک

–        ڈاکٹر اے ایف ایم روح الحق، وزیر صحت و خاندانی بہبود، بنگلہ دیش

–        جرباس بربوسا دا سلوا جونیئر، وزیر برائے نگرانی صحت، وزارت صحت، برازیل

–        ڈاکٹر الیگزینڈر لورنسو جیمی مین گوئیلے، وزیر صحت، موزمبیق

–        ڈاکٹر دونان ایمباندو، ڈائریکٹر تدبیری خدمات، وزارت صحت و سماجی بہبود، تنزانیہ

ایونٹ کی ویب کاسٹ یہاں دیکھی جا سکتی ہے http://www.UnitingToCombatNTDs.org

فاؤنڈیشن کے کاموں کے بارے میں ضمنی مواد اور معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.thenewsmarket.com/gatesfoundation

ذریعہ: گلوبل ہیلتھ اسٹریٹجیز

رابطہ: وکٹوریا زونینا، گلوبل ہیلتھ اسٹریٹجیز، +44(0)75-5380-9731، vzonana@globalhealthstrategies.com؛

ہدایت برائے مدیران: شراکت داروں کے ابلاغی روابط یہ ہیں:

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن: +1-206-709 3400، media@gatesfoundation.org

ڈی ایف آئی ڈی: رابرٹ اسٹینزفیلڈ، +44(0)77-7165-2597، r-stansfield@dfid.gov.uk

یو ایس ایڈ: کرسٹوفر تھامس، +1-202-712-1092، chthomas@usaid.gov

ایسترا زینے کا: سارا لنڈگرین، +44(0)20-7604-8033، sarah.lindgreen@astrazeneca.com

ایبٹ: کولن میک بین، +1-847-938 3083، colin.mcbean@abbott.com

بایر ہیلتھ کیئر اے جی: اولیور رینر، +49(0)21-4304-3302، oliver.renner@bayer.com

برسٹل-مایرز اسکوئب: پیٹرک گرینڈ، +33(0)1-5883-6706، patrice.grand@bms.com

ایسائی: کریسیڈا رابسن، +44(0)79-0831-4155، cressida_robson@eisai.net

جائی لیڈ: ایمی فلڈ، +1-650-522-5643، aflood@gilead.com

گلیکسو اسمتھ کلائن (گلوبل): اسٹیفن رے، +44(0)77-1780-1794، stephen.e.rea@gsk.com | گلیکسو اسمتھ کلائن (امریکہ): سارا السپاخ، +1-215-287-6354، sarah.g.alspach@gsk.com

جانسن اینڈ جانسن، سیما کمار+1-908-218-6460، skumar10@its.jnj.com

مرک کے جی اے اے: ڈاکٹر گینگولف شرمپف، +49(151)1454-9591، gangolf.schrimpf@merckgroup.com

ایم ایس ڈی: کیلی ڈوہرٹی، +1-908-423-4291، kelley.dougherty@merck.com

نووارٹس: ایرک آلتھوف، +41(0)61-324-7999، eric.althoff@novartis.com

فائزر: اینڈریو ٹوپن، +44(0)79-6775-7688، andrew.topen@pfizer.com

سنوفی: ژاں-مارک پودوِن، +33(0)6-7457-5170، jean-marc.podvin@sanofi.com

ڈی این ڈی آئی: گیبریل لانڈری چاپوئس، +41(0)79-309-3910، glandry@dndi.org

عالمی بینک: ڈیرک ویرن، +44(0)20-7592-8402، dwarren1@worldbank.org