بل گیٹس نے کڑے انتخاب کا خاکہ پیش کر دیا: غریب ترین افراد کے لیے جدید منصوبوں میں سرمایہ کریں یا لاکھوں افراد کو بھوک سے مرنے دیں

AsiaNet 48131

لندن، 25 جنوری 2012ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

–        چوتھا سالانہ خط ترقی پذیر ممالک میں ہونے والی پیشرفت پر روشنی ڈالتا اور غریب ترین افراد کو خود کفالت تک لانے کے نئے طریقوں کا احاطہ کرتا ہے

بل گیٹس [http://www.gatesfoundation.org/leadership/Pages/bill-gates.aspx ]، شریک چیئر بل اینڈمیلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، نے اپنے چوتھے سالانہ خط میں غربت کے خلاف پیشرفت کو تیز کرنے والے عالمی رہنماؤں کو جدید منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے یا پھر ایسے مستقبل کا خطرہ مول لینے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جہاں لاکھوں افراد فاقہ کشی پر مجبور ہوں۔

خط ترقی پذیر دنیا میں ہونے والی نمایاں پیشرفت کوبیان کرتا ہے اور تقویت بخشی ہے کہ ان کوششوں میں مستقل سرمایہ کاری دنیا کے غریب ترین لاکھوں افراد کی زندگی میں تبدیلی لائی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ  50سالوں میں غربت کی زد میں رہنے والی آبادی کا تناسب  40 فیصد سے گھٹ کر  15 فیصد ہو گیا ہے، یعنی تقریباً ایک ارب افراد۔ گیٹس مانتے ہیں کہ اس پیشرفت کو جاری رکھنا ممکن ہے، لیکن صرف چھوٹے کاشتکاروں کو زیادہ خوراک پیدا کرنے میں مدد دینے جیسے شعبوں میں جدید انداز میں سرمایہ کاری سے، جو غریبوں میں بھوک اور غربت کے خاتمے کا بہترین طریقہ ہے۔

خط میں گیٹس لکھتے ہیں کہ “دنیا کے سامنے دو راستے ہیں۔ آزمودہ حلوں پر نسبتاً کم پیسہ خرچ کر کے ہم غریب کاشتکاروں کو اپنی اور اپنے اہل خانہ کی بھوک مٹانے میں مدد دے سکتے ہیں اور یوں مستقل ایک زیادہ مساوی دنیا کی کہانی لکھ سکتے ہیں۔ یا پھر ایک بالکل مختلف دنیا کو برداشت کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں جہاں ہر سات میں سے ایک فرد فاقہ کشی کے باعث موت کے دہانے پر رہتا ہو۔”

گیٹس نے چاہے پودوں کی بیماریوں کے خلاف کوششیں ہوں، یا ایڈز سے متاثرہ افراد کا علاج، یا دور دراز علاقے کے کسی بچے کو پولیو ویکسین فراہم کرنا، معقول سرمایہ کاری نے بڑا فرق پیدا کیا ہے۔

گیٹس نے پیشرفت کو واضح کرنے کے لیے کامیابیوں کی تعداد کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ “ان سرمایہ کاریوں کے لیے ہمارے رہنما اصول بالکل ویسے ہی ہیں جیسے زراعت کے لیے: جدت طرازی لازم ہے، اور مساوات حتمی ہدف ہے۔”

مشکل اقتصادی ایام دنیا بھر کے رہنماؤں اور عوام کو اپنے امدادی وعدوں پر سوال اٹھانے کا سبب بن رہے ہیں، لیکن گیٹس مانتے ہیں کہ عہد سے پاسداری کا اب اِس وقت کہیں زیادہ اہم ہے تاکہ ہم لوگوں کو خود کفالت تک پہنچانے اور دست گیری کی ضرورت کے خاتمے میں مدد دے سکیں۔

گزشتہ نومبر میں کان، فرانس میں جی 20 اجلاس میں پیش کردہ اپنی رپورٹ کے عین مطابق گیٹس نئے وسائل اور تجربے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں جو برازیل، چین اور بھارت جیسے تیزی سے بڑھتے ہوئے ممالک ترقی کے لیے لائے۔ وہ غریبوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں نجی شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار، اور دور اندیشانہ شراکت داریوں کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں جو غریب ملکوں کو امداد سے بالاتر ہو کر آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

خط 2012ء میں فاؤنڈیشن کی دیگر کلیدی ترجیحات کا خاکہ بھی مرتب کرتا ہے، جس میں پولیو کے خاتمے میں مدد،  ایڈز کے خلاف جنگ  کو سہارا، امریکہ میں تعلیم میں بہتری، اور خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے ماؤں اور بچوں کی صحت کو بہتر بنانا شامل ہیں۔

گیٹس نے اس خط میں پہلے گیٹس ویکسین انوویشن ایوارڈ حاصل کرنے والے کا بھی اعلان کیا، اور حاملہ خواتین کو داخل دفتر کر کے بنگلہ دیش کے دو اضلاع میں مامونیت کی شرح میں اضافے میں کامیابی پر صحت کے شعبے سے وابستہ عہدیدار ڈاکٹر اسم امجد حسین کے جدید کام کو سراہا ہے۔ گیٹس کہتے ہیں کہ “گو کہ بظاہر یہ چھوٹی جدت لگتی ہے، لیکن یہ ظاہر کرتی ہے کہ کہنہ مسائل پر نئے طریقوں سے نظر ڈالنا گہرا اثر پیدا کر سکتا ہے۔”

انہوں نے بھارت کی کامیابی کا بھی حوالہ دیا، جس نے رواں ماہ گزشتہ ایک سال سے ملک بھر میں پولیو وائرس سے متاثرہ کسی کیس کے سامنے نہ آنے کا جشن منایا ہے۔ صرف تین سال قبل بھارت میں کسی بھی ملک سے زیادہ پولیو کے کیسز تھے۔ یہ پولیو کے عالمی سطح پر خاتمے اور دنیا بھر میں بچوں کی صحت کی بہتری کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔

گیٹس نے اپنے خط کی رونمائی جنوبی لندن کے ایک ہائی اسکول میں طلبہ سے ملاقات کے دوران کی، جہاں انہوں نے طلبہ اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں دیگر افراد کا اپنے خطوط جمع کرانے پر شکریہ ادا کیا۔ پھر وہ لندن اسکول آف اکنامکس کے بین الاقوامی ترقیات کے طلبہ کی محفل میں خط کے مندرجات پر گفتگو کے لیے گئے، جس کا اہتمام گلوبل پاورٹی پروجیکٹ نے برطانیہ کے عالمی غربت سفیر پروگرام کے آغاز کے موقع پر کیا تھا۔

خط دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے: http://www.gatesfoundation.org/annualletter

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے بارے میں

ہر  زندگی یکساں اہمیت کی حامل ہے، اس یقین کے ذریعے اپنی راہیں متعین کرنے والی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن دنیا بھر کے افراد کو صحت مند و سیر حاصل زندگی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں، اس کی نگاہیں لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے اور انہیں خود کو بھوک اور انتہائی غربت سے باہر نکلنے میں مدد دینے کا موقع فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔ریاستہائے متحدہ  امریکا میں، اس کی خواہش اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ تمام افراد – بالخصوص وہ جن کے پاس وسائل کم ہیں – کو تعلیم اور زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری مواقع تک رسائی حاصل ہو۔ سیاٹل، واشنگٹن میں واقع فاؤنڈیشن کی قیادت سی ای او جیف ریکس اور شریک چیئر ولیم ایچ گیٹس سینئر کر رہے ہیں، اور بل اور میلنڈا گیٹس اور ویرن بوفیٹ کی زیر ہدایت کام کر رہے ہیں۔

ذریعہ: بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

رابطہ: بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، +1-206-709-3400، media@gatesfoundation.org