پرتگال میں ہولوکاسٹ سے بچنے والے خاندانوں کے لیے تلاش کا آغاز

AsiaNet 47985

سیاٹل، 10 جنوری 2012ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

سوسا مینڈیس فاؤنڈیشن ان ہولوکاسٹ مہاجرین کی شناخت اور تلاش کا خواہشمند ہے جنہیں 1940ء کے موسم بہار میں آردتیدے سوسا مینڈس نے زندگی بچانے والے ویزے عطا کیے تھے۔ بوردے، فرانس میں مقیم پرتگیزی قونصل سوسا مینڈیس نے تقریباً 30 ہزار افراد کو ہولوکاسٹ سے بچایا تھا۔ انہوں نے پرتگیزی حکومت کی جانب سے اپنے قونصل خانوں کے اہلکاروں کو جاری کردہ “سرکلر 14” نامی دستاویز سے انحراف کرتے ہوئے، جس میں ویزے جاری کرنے سے منع کیا گیا تھا،  مہاجرین کو پرتگال کے ویزے جاری کیے تھے۔ نتیجتاً انہیں سالازار کی آمریت میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور سخت سزا دی گئی۔

آردتیدے سوسا مینڈس 1954ء میں غربت اور حکومت کی جانب سے ذلت کا شکار بنائے جانے کے بعد انتقال کر گئے اور تاریخ میں ان کا نام تقریباً بھلا دیا گیا۔ 1966ء میں اسرائیل کی ہولوکاسٹ اتھارٹی یاد ویشم نے انہیں بعد از “اقوام میں نیک کردار” کے اعزاز سے نوازا۔ 1980ء کی دہائی کے اواخر میں پرتگیزی حکومت نے سوسا مینڈیس کے اہل خانہ سے باضابطہ معافی مانگی اور ان کے درجے کو بعد از موت سفیر کے عہدے پر ترقی دی۔

2010ء میں اس عظیم شخصیت کے اہل خانہ اور ان کے بچائے گئے افراد کے عزیزوں کی جانب سے قائم کردہ سوسا مینڈیس فاؤنڈیشن نے اُن بچ جانے والے افراد کی تلاش کے انوکھے کام کا آغاز کیا۔ یہ افراد اور اہل خانہ یورپ کے تمام علاقوں سے آئے تھے جنہیں اپریل، مئی اور جون 19040ء میں جنوبی فرانس (بوردے، بایونے، ہیندیے اور طولوس) میں پرتگیزی ویزے ملے تھے، اور بعد ازاں ہسپانیہ کے ذریعے پرتگال تک کا سفر کیا جہاں سے وہ 1940ء سے 1942ء کے دوران امریکہ، کینیڈا، برازیل، برطانیہ اور دیگر ممالک کو منتقل ہو گئے۔

ایم آئی ٹی میں پروفیسر اور ان خوش نصیب افراد میں سے ایک امریطس ڈاکٹر سلوین بروم برجر کا کہنا ہے کہ “سوسا مینڈیس کی جانب سے بچائے جانے والے بیشتر افراد کو علم نہیں کہ انہیں کسی نے بچایا ہے۔” بروم برجر فاؤنڈیشن کے بورڈ میں خدمات انجام دیتے ہیں اور اس کوشش میں مدد کر رہے ہیں۔ اس تحقیق کی قیادت ایک اور بورڈ رکن ڈاکٹر اولیویا میٹس رضا کار محقق محترمہ میری جے گومیس کے ساتھ تعاون کے ذریعے کر رہے ہیں ۔

سوسا مینڈیس ویزا حاصل کرنے والی مشہور شخصیات میں سیلواڈور ڈیلی، ہانس اور مارگریٹ رے (کیوریئس جارج کے خالق)، ہیپس برگ خاندان، روتھس چائلڈ خاندان، فلم ساز کنگ وِڈور اور دیگر شامل ہیں۔ لیکن ویزےحاصل کرنے والے زیادہ تر افراد عام خاندان تھے جو نازیوں کے ہاتھوں ہولناک قتل عام سے بچنے کے لیے فرار ہو رہے تھے۔

ویزا حاصل کرنے والوں یا ان کے اہل خانہ کے حوالے سے مزید معلومات حاصل یا پیش کرنے کے لیے info@sousamendesfoundation.org پر رابطہ کیجیے یا فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ ملاحظہ کیجیے: http://www.sousamendesfoundation.org

بچائے گئے افراد کی فہرست

مندرجہ ذیل فہرست میں صرف چند وہ افراد یا اہل خانہ شامل ہیں جن کی آردتیدے سوسا مینڈس کے اقدامات کے نتیجے میں بلاواسطہ یا بالواسطہ جان بچی۔

ہملٹن فش آرمسٹرانگ، بانی مدیر، فارن افیئرز میگزین

تھامس بیننگ سن، اٹارنی، جن کی ماں کو بچایا گیا

ڈینیل برینٹن، پروفیسر سیل بایولوجی، ہارورڈ یونیورسٹی

ڈاکٹر سلوین بروم برجر، پروفیسر امریطس فلسفہ و لسانیت، ایم آئی ٹی

سیلواڈور ڈیلی،

الیا دییور، نمائندہ ہیبریو امیگرینٹ ایڈ سوسائٹی

رچرڈ ڈی گریب، فوٹوگرافر

آرک ڈیوک اوٹو وان ہیپس برگ اور ہیپس برگ خاندان

رابرٹ ہارٹورگ، کینیڈین کاروباری رہنما اور انسان دوست شخصیت

ڈاکٹر لسی یاروِک، پروفیسر امریطہ برائے طب، یوسی ایل اے

رابرٹ لیبل، فنی نقاد

کیزت دی لیم پیکا، مصورہ تمارا دی لیم پیکا کی صاحبزادی

الیگزینڈر لیبرمین، مجسمہ ساز، مصور اور ووگ میگزین کے آرٹ ڈائریکٹر

ڈاکٹر ڈینیل میٹس، پروفیسر طبیعات، جامعہ یوٹاہ

لیون موئیڈ، ماہر تعمیرات

الفریڈ مونتے سینوس، سابق صدر کارتے

یوناہ پیریتی، انٹرنیٹ گرو اور بانی ہفنگٹن پوسٹ، جن کی دادی ایدینا چرکن کو بچایا گیا

ہانس اور مارگریٹ رے، کیوریئس جارج سیریز کے مصنفین

بیرون مارس دی روتھس چائلڈ اور روتھس چائلڈ خاندان

بورس اسمولر، چیف یورپین نمائندہ، جیوش ٹیلی گرافک ایجنسی

تیریسکا توریس، نسوانی لکھاری اور چارلس دے گال کے لیے لڑنے والی اولین خواتین میں سے ایک

جولین تویم، پولینڈ کے شاعر اور پیانو نواز آرتھر روبنسٹائن کے بھتیجے

کنگ ویڈور، ہالی ووڈ فلم ہدایت کار

ول ہیلم وائن برگ، آرٹ کلیکٹر اور انسان دوست شخصیت

ڈاکٹر چارلس وائزمین، بایو میڈیکل محقق، اسکرپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ

ذریعہ: دی سوسا مینڈیس فاؤنڈیشن

رابطہ: زینا فیاض، +1-202-973-5312، ZFayyad@levick.com