ہالی ووڈ لیجنڈ مائیکل ڈوگلس کی تمام جوہری دھماکوں پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگانے والے معاہدے کی حمایت میں گفتگو

AsiaNet 47478

ویانا، 30 نومبر/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

آسکر یافتہ اداکار اور پیش کار مائیکل ڈوگلس جوہری تخفیف اسلحہ سے وابستگی کے باعث مشہور ہیں۔ اب انہوں نے جامع جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے کی انجمن (کمپری ہنسو ٹیسٹ بین ٹریٹی آرگنائزیشن ) کی حمایت میں اضافے کا مقصد لیے چند سخت لیکن طاقتور ٹی وی اسپاٹس کے سلسلے میں اُن کے ساتھ شمولیت اختیار کی ہے۔

ملٹی میڈیا نیوز ریلیز دیکھنے کے لیے کلک کیجیے:

http://multivu.prnewswire.com/mnr/prne/ctbtoprepatorycommission/52793/

ڈوگلس کہتے ہیں کہ “جامع جوہری تجربات پر پابندی کا معاہدہ جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے راستے کی رہنمائی کرنے والی روشنی ہے۔ ایک مرتبہ نافذ العمل ہو جانے کے بعد یہ ماضی میں جاری رہنے والی جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے میں مدد دے گا اور جوہری اسلحہ خانے ترتیب دینے کے عمل کو جاری رکھنے کو مشکل بنائے گا۔”

ڈوگلس کہتے ہیں کہ جوہری تخفیف اسلحہ کے ساتھ ان کی وابستگی کی جڑیں سرد جنگ میں اسلحے کی دوڑ کے پس منظر میں گزرے بچپن میں پیوست ہیں۔ “میں امریکہ میں ایسے وقت میں پلا بڑھا جب جوہری ہتھیاروں کے تجربات روزمرہ کے امور تھے۔ ہم اسکول میں فضائی حملے سے بچنے کی مشقیں کیا کرتے اور میرے والد نے کیلی فورنیا میں اپنے آنگن میں ایک بم سے بچنے کی پناہ گاہ بھی بنا رکھی تھی۔ ایک بچے کی حیثیت سے ارد گرد کی اس صورتحال کو سمجھنا مشکل تھا۔ یہ ایک برا خواب تھا، جو بھوت کی طرح ہمیشہ مجھے ڈراتا رہا۔ بعد ازاں، میں نے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کو سمجھنا شروع کیا، تو جوہری اسلحہ کی تخفیف سے میری وابستگی میں اضافہ ہوا۔”

جنگ عظیم دوئم کے بعد پانچ دہائیوں میں دنیا بھر کے 60 سے زائد مقامات پر 2 ہزار سے زیادہ جوہری بموں کا تجربہ کیا گیا۔ دھماکے سے پیدا ہونے والا ریڈیو ایکٹو غبار [http://www.ctbto.org/nuclear-testing/the-effects-of-nuclear-testing ] انسانوں، جانوروں اور ماحول پر اثر انداز ہوا ہے۔ کئی تجرباتی مقامات آنے والے ہزاروں سالوں کے لیے ناقابل بود و باش ہو چکے ہیں۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امید بھرے ماحول میں جامع جوہری تجربات پر پابندی کا معاہدہ 1996ء میں سامنے آیا اور جوہری تجربات کے پاگل پن کے خاتمے کے لیے تحسین و امید کے ساتھ برآمد ہوا۔ آج دنیا بھر کے 180 سے زائد ممالک کی وسیع پیمانے پر حمایت کا لطف اٹھانے کے باوجود یہ معاہدہ نافذ العمل نہیں ہے جب تک جوہری ٹیکنالوجی کے حامل 9 نمایاں ممالک اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ یہ چین، مصر، بھارت، انڈونیشیا، ایران، اسرائیل، شمالی کوریا، پاکستان اور ریاستہائے متحدہ امریکہ ہیں۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب دنیا دیگر ممالک کی جانب سے اس معاہدے میں شامل ہونے کا انتظار کر رہی ہے جوہری تجربات کے دوبارہ آغاز اور ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔

ڈوگلس کہتے ہیں کہ “دنیا اس معاہدے کے عالمی قانون بننے کے لیے کافی انتظار کر چکی ہے، اس لیے آج، ایک اداکار اور اقوام متحدہ کے پیغامبر برائے امن کی حیثیت سے، میں اپنی آواز اور نام کو اس اہم معاہدے کے بارے میں شعور اجاگر کرنے اور اس کی حمایت کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہوں۔ میں اب تک معاہدے کی توثیق نہ کرنے والے نو ممالک سے مطالبہ کر رہا ہوں کہ مزید کسی تاخیر کے اس پر عمل کریں، تاکہ یہ نافذ العمل ہو سکے اور ایسے مہلک ہتھیاروں کے خطرے کو فوری طور پر اور سب کے لیے ختم کر دیں۔”

جامع جوہری تجربات پر پابندی کا معاہدہ

جامع جوہری تجربات پر پابندی کا معاہدہ  کہیں بھی، کبھی بھی اور کسی کی جانب سے بھی جوہری دھماکوں کو خلاف قانون قرار دیتا ہے۔ یہ ایک محفوظ تر اور زیادہ محفوظ دنیا کی علامت ہے کیونکہ یہ نئے جوہری ہتھیاروں کو بنانے پر پابندی لگاتا ہے اور ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کے موجودہ اسلحہ خانے میں کسی بھی اضافے سے روکتا ہے۔

ماضی میں معاہدے کی تصدیقیت کے حوالے سے خدشات تھے جنہیں اس کی توثیق نہ کرنے کے لیے وجوہات کی بنیاد پر پیش کیا جاتا تھا لیکن آج، جبکہ سی ٹی بی ٹی کا اربوں ڈالرز کا جدید پڑتال کا نظام [http://www.ctbto.org/verification-regime ]تقریباً مکمل ہو چکا ہے، اس لیے اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ ڈوگلس کہتے ہیں کہ “سی ٹی بی واضح طور پر قابل تصدیق ہے، انٹرنیشنل مانیٹرنگ سسٹم کے نافذ العمل ہونے پر کوئی بھی جوہری تجربہ نامعلوم نہیں رہے گا۔”

انٹرنیشنل مانیٹرنگ سسٹم  (آئی ایم ایس) تصدیق کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ دنیا بھر میں اس کی تنصیبات –زیر زمین، زیر آب اور فضائی – جوہری دھماکوں کے زمین پر موجود نشانات کو صاف کرتی  ہیں۔ نیٹ ورک اپنی تکمیل کے قریب ہے جس کی منصوبے کے مطابق 337 میں سے 285 تنصیبات پہلے ہی سے سرگرم ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں جاپان میں پیدا ہونے والے بحران [http://www.ctbto.org/verification-regime/the-11-march-japan-disaster ] نے – زلزلوں کو مانیٹر کرنے، سونامی کے خطرے کے انتباہ کو تیز تر بنانے اور جوہری حادثوں سے ہونے والے ریڈیو ایکٹو انتشار کا کھوج لگانے کے لیے- سسٹم کی سول ایپلی کیشنز کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کیا۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے:

اینجلا لویکر ، سی ٹی بی ٹی او پبلک انفارمیشن

ٹیلی فون: +43-1-260-30-6470

موبائل: +43-664-3918-136

ای میل: angela.leuker@ctbto.org

یا

تھامس میوزلبرگ، سی ٹی بی ٹی او پبلک انفارمیشن

ٹیلی فون: +43-1-260-30-6421

موبائل: +43-699-1459-6421

ای میل: thomas.muetzelburg@ctbto.org

ذریعہ: سی ٹی بی ٹی او پریپیریٹری کمیشن