دنیا کے غریبوں سے رخ نہ پھیریں، بل گیٹس کا جی 20 رہنماؤں سے مطالبہ

AsiaNet 47102

کانے، فرانس، 4 نومبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

– رپورٹ مستقبل کے لیے ترقیاتی وسائل کو پھیلانے میں جدت کے کردار کو نمایاں کرتی ہے

جی 20 اجلاس میں ترقی کے لیے سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک رپور پیش کرتے ہوئے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک چیئر بل گیٹس نے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ترقی سے وابستہ وسائل کی مقدار کو بڑھانے سے وابستگی دکھائیں یا دنیا کے غریب ترین کروڑوں افراد کی زندگیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والے خطرات کا سامنا کریں۔ ان سفارشات کی بنیاد میں ایک خیال ہے کہ جدت طرازی ترقی کے لیے مختص وسائل پر اثر کو کئی گنا کر سکتی ہے۔

کانے، فرانس میں جی20 کے چیئرمین فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی کی درخواست پر گیٹس کی رپورٹ “جدت اثر کے ساتھ: 21 ویں صدی کی ترقی میں سرمایہ کاری” سربراہ مملکت و حکومت کو پیش کی گئی۔

گیٹس نے کہا کہ “جی20 کے رہنما بہت اہم ہیں، خصوصاً ان مشکل معاشی حالات میں۔ ہمیں گزشتہ دہائی میں صحت اور ترقی میں ہونے والی غیر معمولی پیشرفت کی بنیاد پر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں دنیا کے غریب ترین افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے آنے والی دہائیوں میں کہیں زیادہ آگے بڑھنا ہوگا۔”

رپورٹ میں گیٹس نے امیر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سخاوت کا مظاہرہ جاری رکھیں اور بیرونی امداد کے وعدوں کی تکمیل کریں – جو عموماً ان کی حکومتوں کے بجٹ کا ایک سے دو فیصد ہوتی ہیں – ساتھ ساتھ یقینی بنائیں کہ امداد صحت اور زراعت جیسے شعبہ جات میں موثر انداز میں استعمال ہوئی۔

گیٹس نے کہا کہ “اگر وعدے کرنے والے ممالک ان پر قائم رہیں، تو یہ 2015ء سے سالانہ اضافی 80 ارب ڈالرز تخلیق کریں گے۔ بہتر طریقے سے ترتیب دی گئی امداد اس وقت غربت کو کم کر رہی ہے اور غریب ممالک کی اس سمت میں ترقی کی رفتار کو بڑھاتی ہے جب انہیں اس کی ضرورت نہیں ہوگی۔”

امیر ممالک کی ذمہ داریوں کے علاوہ گیٹس کہتے ہیں کہ جی 20 میں نمائندگی رکھنے والی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں نے  بھی ترقی کے عمل کو تیز کرنے میں بڑھتا ہوا کردار ادا کیا۔ اپنی رپورٹ میں انہوں نے ان ممالک کی پیش کردہ اختراعات – خصوصا صحت و زراعت کے شعبے میں جیسا کہ ویکسین اور بیج – کی تیز تر منتقلی کو ممکن بنانے کے لیے خیالات تجویز کیے، تاکہ افریقہ اور اس سے آگے غریب لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کیا جا سکے۔

گیٹس نے کہا کہ “گزشتہ دہائی میں چین، برازیل، میکسیکو، انڈونیشیا اور ترکی جیسے ممالک نے شرح نمو میں تیزی اور غربت کی شرح میں تیزی سے کمی دیکھی۔ کیا کیا جا سکتا ہے اور حاصل کیا جا سکتا ہے یہ ممالک اس کی عظیم مثالیں ہیں۔”

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ ممالک، جنہوں نے غربت میں کمی اور تکنیکی گنجائش میں زبردست اضافہ کیا ہے، نے ترقی دینے کے لیے جدید ٹولز تخلیق کرنے کی خاطر صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے انوکھے طریقے اور مہارتیں لائے۔

اپنی رپورٹ میں گیٹس کہتے ہیں کہ “میں خصوصا تیزی سے ابھرتے ہوئے ممالک، روایتی عطیہ دہندگان اور غریب ممالک  کے درمیان ‘سہ فریقی شراکت داریوں’ کے امکانات کے حوالے سے پرجوش ہوں، کیونکہ یہ مختلف ممالک کے تقابلی فوائد کو کام میں لائے گا۔”

گزشتہ ہفتے کے دوران گیٹس فاؤنڈیشن نے دو شراکت داریوں کا اعلان کیا: ایک زراعت پر تجربہ پیش کرنے کے لیے برازیل، خاندانی صحت اور ویکسین پر افریقی ممالک، اور ایک اور عالمی صحت اور زراعت کے لیے نئی مصنوعات پر جدید تحقیق اور مدد دینے اور ان کو بہتر بنانے اور تیار کرنے پر چین کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور چینی اداروں کے لیے۔

گیٹس کی رپورٹ نے برازیل، جاپان اور موزمبیق کے درمیان شراکت داری کی جانب بھی اشارہ کیا ہے جس کا مقصد برازیل کے “کیراڈو” جیسا ماحول اور مٹی رکھنے والے موزمبیق کے ہموار علاقوں میں سویا بین، چاول اور دیگر فصلوں کو اختیار کرنے میں موزمبیق کی مدد کرنا ہے۔ جاپان اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں موزمبیق کی مدد کر رہا ہے۔

گیٹس نے زور دیا کہ نیم صحراوی افریقہ کے ممالک سمیت متعدد غریب ملکوں میں نمو بہت مستحکم رہی۔

گیٹس کے مطابق، جو تجویز دیتے ہیں کہ جی 20 کے اقدامات غریب ممالک کو غربت میں کمی کے لیے اپنے وسائل کو بہتر سے بہتر کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں “بالآخر ترقی پذیر ممالک کے مقامی وسائل ترقی کے لیے رقوم کا سب سے بڑا ذریعہ بنیں گے۔”

خیالات میں ترقی پذیر ممالک کو محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے غیر ملکی امداد اور کان کنی اور تیل کے اداروں کے لیے شفافیت کی بڑھتی ہوئی ضروریات شامل ہیں، ان میں سے اول الذکر آج کے جی ڈی پی کے مطابق سالانہ تقریبا 20 ارب ڈالرز کا اضافہ کر سکتا ہے۔ گیٹس نے غریب ممالک سے وسائل کو ترجیحات پر رکھ کر نظر مرکوز رکھنے کا مطالبہ کیا جو براہ راست غریب افراد کے لیے فائدہ مند ہوں گے، جیسا کہ ان کی صحت اور زراعت کے لیے، اور افریقی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ میثاق ابوجا میں مقرر کردہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اپنے بجٹ کا کم از کم 15 فیصد صحت کو بہتر بنانے کے لیے اور اعلان ماپوٹو کو،  جو بجٹ کے 10 فیصد کو زراعت کے لیے مختص کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، استعمال کریں۔

جی 20 رہنماؤں کے لیے رپورٹ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے جدید طریقے اختیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے اور ترقی کے لیے امداد حاصل کرنے کے طریقے کے طور پر نجی شعبے کی پیشرفت کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ سفارشات میں غریب ممالک میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے دستیاب خود مختار ویلتھ فنڈز قائم کرنا، بیرون ملک مقیم آبادی کی جانب سے بھیجی گئی رقوم بھیجنے پر آنے والے خرچ کو مستقلا کم کرنا اور زرعی ٹیکنالوجیوں میں جدت کی حوصلہ افزائی کے لیے کڑا طریقہ کار استعمال کرنا شامل ہیں۔

گیٹس نے سرمایہ کاری کے نئے  ذرائع کی شناخت کے لیے بھی رپورٹ کو استعمال کیا ہے، جس میں فنانشل ٹرانزیکشن ٹیکس، سولیڈیرٹی ٹوبیکو کنٹریبیوشن اور ایک ہوا بازی اور بنکر فیول محصول کے ذریعے سرمائے کا ایک فیصد حاصل کی جانب اشارہ کیا ہے، تاکہ ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کو سرمایہ دیا جا سکے۔

گیٹس نے کہا کہ “تنوع اور قوتیت کے ذریعے جی 20 وہ کلیدی ادارہ ہے جو ترقی کی اک نئی دنیا پر عظیم اثرات مرتب کرنے کے لیے ان وسائل، جدید خیالات اور قیادت کو ایک مقام پر لا سکتا ہے۔ اگر جی20 اس چیلنج کو قبول کرے، تو مجھے امید ہے کہ ہم اس اقتصادی بحران سے نکل سکتے ہیں اور کروڑوں افراد کی زندگیوں کو بچا سکتے ہیں اور مزید کروڑوں کو غربت سے نکال سکتے ہیں۔”

مکمل رپورٹ تک رسائی کے لیے ملاحظہ کیجیے : http://www.thegatesnotes.com/G20

ملٹی میڈیا نیوز پیکیج، جس میں جناب گیٹس کی وڈیو کلپس شامل ہیں، کے لیے ملاحظہ کیجیے: نیوز مارکیٹ میں گیٹس فاؤنڈیشن [http://www.gatesfoundation.org/press-room/Pages/news-market.aspx ]

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

ہر  زندگی یکساں اہمیت کی حامل ہے، اس یقین کے ذریعے اپنی راہیں متعین کرنے والی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن دنیا بھر کے افراد کو صحت مند و سیر حاصل زندگی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں، اس کی نگاہیں لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے اور انہیں خود کو بھوک اور انتہائی غربت سے باہر نکلنے میں مدد دینے کا موقع فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔ریاستہائے متحدہ  امریکا میں، اس کی خواہش اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ تمام افراد – بالخصوص وہ جن کے پاس وسائل کم ہیں – کو اسکول اور زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری مواقع تک رسائی حاصل ہو۔ سیاٹل، واشنگٹن میں واقع فاؤنڈیشن کی قیادت سی ای او جیف ریکس اور شریک چیئر ولیم ایچ گیٹس سینئر کر رہے ہیں، اور بل اور میلنڈا گیٹس اور ویرن بوفیٹ کی زیر ہدایت کام کر رہے ہیں۔

ذریعہ: بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

رابطہ: بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، +1-206-709-3400،

media@gatesfoundation.org