دبئی؛ ثقافتی نقشے پر

AsiaNet 47045

دبئی، متحدہ عرب امارات، 2 نومبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

ایسا بارہا نہیں ہوتا کہ ایک ای میل سے کسی پختہ ذہن شخص کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو ٹپک پڑیں۔ لیکن ان نوجوان ڈیزائنروں کی تعداد بھی زیادہ  نہیں ہے جنہیں وکٹوریا اینڈ البرٹ میوزیم کی جانب سے کہا جائے کہ وہ اُس کے پہلے شو کے جوتوں کو اپنے پاس  مستقل نمائش کے لیے رکھنا چاہتا ہے۔ بالکل یہی متحدہ عرب امارات کے سلطان الدرمکی کے ساتھ ہوا ہے جو رواں سال مشرق وسطیٰ کے پہلے جدید ڈیزائنر بن گئے ہیں جن کا کام آرائشی فن کی دنیا کی بہترین کلیکشن میں سے ایک میں پیش کیا جائے گا۔

یہ باصلاحیت الدرمکی کے لیے آگے کی سمت ایک عظیم قدم ہے۔ لیکن یہ مشرق وسطیٰ کے فنکاروں اور ڈیزائنروں کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے، اس خطے کے لیے جو  اب فنون کی دنیا کی حدود میں نہیں رہا۔

یہ تبدیل ہوتا درجہ آرٹ دبئی سے زیادہ کہیں اتنا زیادہ نمایاں نہیں ہوگا۔ سالانہ آرٹ میلہ صرف چار سال پرانا ہو سکتا ہے لیکن یہ عالمی تقویم میں ایک اہم تاریخ کے طور پر نمایاں ہو چکا ہے، جو 30 سے زائد ممالک کے شوقین افراد اور گیلریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا رہا ہے۔ لاس اینجلس کاؤنٹی میوزیم آف آرٹ نے رواں سال کے میلے کو اپنے ہم عصر مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی آرٹ شعبے کے اجراء کےلیے استعمال کیا۔

جلد ہی عظیم عجائب گھر مستقل یا خیرمقدمی مہمانوں کے بجائے مستقل مقام کے حامل ہوں گے۔  لوور ابوظہبی جو مانت، انگریس اور موندریان کے فن پاروں کے ساتھ ساتھ خطے کے یادگار نمونوں کا بھی حامل ہے اگلے چند سالوں میں یہاں اجراء کرے گا۔

علاقے کی ثقافتی نشاۃ ثانیہ کو مشرق کی جانب سے دلچسپی بھی حاصل ہو رہی ہے۔ اپنی 25 سالہ تاریخ میں پہلی بار رواں سال کا ٹوکیو ڈیزائنر ویک مشرق وسطیٰ سے حاصل ہونے والی اشیا کو پیش کرے گا۔ اس میں ‘دبئی فیوچرز: امارات کا ابھرتا ہوئی فنی منظرنامہ’ جو احمد اور راشد بن شبیب کے تصور براؤن بک کا اسپانسر یافتہ ہے۔

یہ صرف گیلریاں اور عجائب گھر نہیں جو سرگرمی کے ساتھ حرکت میں ہیں۔ اکتوبر میں دبئی نے بین الاقوامی میلہ برائے انٹیریئر ڈیزائن کی میزبانی کی اور علاقے کی ابھرتی ہوئی صلاحیت پر روشنی ڈالنے پر اپنے کردار پر داد و تحسین وصول کی۔ ایمرٹس ایئر لائن کا میلہ برائے ادب نے کہیں زیادہ بڑے ناموں اور حاضرین کے دل موہ لیے۔ رواں سال کا میلہ، جو مارچ میں منعقد ہوا، میں 26 ملکوں کی نمائندگی کرنے والے 100 مصنفین  شریک ہوئے، جن میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ لکھاری مارگریٹ ایٹووڈ اور مائیکل پالن بھی شامل تھے۔

اس وقت جبکہ خطے کے ادارے اور میلے دنیا بھر کے فن، ڈیزائن اور ادب کو پیش کر رہے ہیں، دبئی میں کوئی ہلچل ہو رہی ہے۔ القوز کے گرد آلود صنعتی علاقے میں ایک فنی علاقے کے خدوخال نمایاں ہو رہے ہیں۔ نیو یارک کے سوہو اور گوشت پیک کرنے کے علاقوں میں کارخانوں اور مکانات کی طرح القوز دبئی کے منتظم نوجوان فن کاروں کی جانب سے گیلریوں اور ورکشاپیں کھولنے کے لیے بہتر بنایا جا رہا ہے۔

ہو سکتا ہے القوز بیشتر سیاحوں کے سفری منصوبوں کا حصہ نہ ہو لیکن یہ زیادہ عرصے تک صیغہ راز میں نہیں رہے گا۔ اب جبکہ دبئی کے گودام فنی کاروباری اقدامات کے ساتھ پھٹے پڑ رہے ہیں، یہ واضح ہے کہ شہر خود کو ثقافتی نقشے پر رکھ رہا ہے۔

مزید معلومات اور متعلقہ تحاریر کے لیے ملاحظہ کیجیے:

http://www.vision.ae

ذریعہ: فیلکن اینڈ ایسوسی ایٹس FZ-LLC

رابطہ صرف برائے ذرائع ابلاغ:

نکی ہاؤز

ٹیلی فون: +971-4383-3500