ون وائس کے وفد کا اسرائیل و مغربی کنارے کا اہم دورہ مکمل

Asianet 47016

نیو یارک، 28 اکتوبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

با اثر کاروباری رہنماؤں، جن کی قیادت ون وائس کے بانی ڈینیل لوبیزکی [http://www.onevoicemovement.org/about-onevoice/daniel.php] اور سین فیلڈ اداکار جیسن الیگزینڈر [http://www.twitter.com/IJasonAlexander] نے کی ، نے جمعرات کو حکومتی عہدیداران کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے چار مصروف ایام مکمل کیے جس کے دوران انہوں نے اسرائیل اور مغربی کنارے میں نچلی سطح کی سرگرمیوں میں بھی شرکت کی۔

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20111027/DC95548)

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110117/DC31246LOGO-b)

وفد، جو برنسٹائن مینجمنٹ کارپوریشن کے جوشوا برنسٹائن، میک کینزی کارپوریشن کے پیٹ پیٹرسن اور نیو کسٹمر سروس کمپنیز کے فریڈ شافیلڈ شامل ہیں، نے تل ابیب کے ڈان ہوٹل میں جمعرات کی صبح جوڈی شالوم نر-موزیس جیسی مشہور شخصیات سے ملاقات کی۔ جیسن الیگزینڈر نے مشہور شخصیات اور عوامی سطح پر مقبول دیگر افراد کو کوششیں مجتمع کرنے اور اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کی جانب توجہ مبذول کرانے کی حوصلہ افزائی کی۔

الیگزینڈر نے کہا کہ “جب میں پہلی مرتبہ ون وائس کے ساتھ یہاں آیا، تو امن عمل کے لیے بہت زیادہ جوش و خروش اور امید پائی، لیکن دونوں معاشروں کے درمیان خلیج بہت زیادہ تھی ۔ اب یہ خلا کہیں کم ہو گیا ہے۔ واقعتاً ۔ لیکن یقین اور امید ختم ہے۔ ہمیں اس کو واپس لانے کی ضرورت ہے، ہمیں یہ سمجھنے اوریقین کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ممکن ہے۔ اگر ہم یہ کرتے ہیں تو اس پر ایک سال کے اندر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔”

اسٹریٹجک لینڈاسکیپس کے سی ای اور اسرائیلی پیس انیشی ایٹو [http://israelipeaceinitiative.com ] کے شریک مصنف کوبی ہوبرمین بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ امن معاہدہ دوچار ہاتھ پر ہے۔ مشہور شخصیات پر مشتمل حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ہمیں مزید باتوں، الفاظ اور داؤ پیچ کی ضرورت نہیں۔ ہمیں دلیری کی ضرورت ہے، صرف اور صرف۔ سب کچھ کہا جاچکا ہے لیکن کیا کچھ نہیں گیا۔”

ہفتے بھر میں وفد نے مختلف اسرائیلی و فلسطینی سیاست دانوں سے ملاقات کی جن میں فلسطینی سمت پر وزیر اعظم سلام فیاض [http://blog.onevoicemovement.org/one_voice/2011/10/prime-minister-fayyad-talks-frankly-with-onevoice-delegation.html ] اور فتح کے سینئر عہدیدار نبیل شاث سے لے کر اسرائیلی جانب وزیر اعظم ایہود آلمرت اور صدر شمعون پیریز [http://blog.onevoicemovement.org/one_voice/2011/10/onevoice-delegation-meets-president-shimon-peres.html ] شامل ہیں۔ انہوں نے قلقیلیہ کے فلسطینی قصبے میں ٹاؤن ہال میٹنگ اور نابلوس میں یوتھ لیڈرشپ میٹنگ میں شرکت کی، دونوں تقاریب میں 100 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

ناتھن کمنگز فاؤنڈیشن کے جیمز کمنگز نے نابلوس میں موومنٹ کے نوجوان کارکنوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ “طلباء فرق پیدا کر سکتے ہیں اور اپنی حکومتوں کو تبدیلی کے لیے دباؤ میں لا سکتے ہیں۔  وہ طلباء کی “وابستگی اور جرات مندی” سے متاثر ہوئے، اور اسرائیلی اور فلسطینی دونوں معاشروں میں الزامات اور مزاحمت کی سطح کا حوالہ دیا۔

دورے کا مقصد امن کے لیے نچلی سطح سے ایک تحریک پیدا کرنے کے لیے ون وائس کے نوجوان کارکنوں کی کوششوں کی مدد کرنا تھا۔تحریک اپنے نوجوان کارکنوں کے جامع نیٹ ورک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں اطراف کے افراد کو مختیار بنانے اور متحرک کرنے پر آمادہ کرتی ہے   تاکہ وہ اپنے رہنماؤں کو امن کے لیے جرات مندانہ اقدامات اٹھانے پر مجبور کریں۔

ون وائس [http://www.onevoicemovement.org ] ایک بین الاقوامی نچلی سطح کی تنظیم ہے جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے معتدل مزاج حلقوں کی آواز کو جلا بخشنا اور دو ریاستی حل کے لیے انہیں تقویت دینا ہے۔ تحریک اسرائیل اور فلسطینی کے نوجوانوں کو قائدانہ مہارتوں، غیر تشدد پسند تحریک چلانے اور جمہوری اصولوں پر تعلیم و تربیت دیتی ہے۔

ذریعہ: دی ون وائس موومنٹ

رابطہ: آئیون کاراکاشیان

کمیونی کیشز ڈائریکٹر

پیس ورکس فاؤنڈیشن

ون وائس موومنٹ

+1-212-897-3985، ایکسٹینشن 124

فیکس +1-212-897-3986

ivan@onevoicemovement.org