چلی گزشتہ چار سالوں میں ایشیا کے لیے خوراک و مشروبات کی شپمنٹس میں 50 فیصد اضافہ کر چکا

AsiaNet 46897

سانتیاگو، چلی، 26 اکتوبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

2006ء سے 2010ء تک ایشیا کے لیے چلی کی خوراک و مشروبات کی شپمنٹس میں 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جو 2006ء میں 1,865 ملین امریکی ڈالرز سے 2010ء میں 2,801 ملین امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ سال چلی کی برآمدات کے اہم وصول کنندگان میں جاپان (51 فیصد)، چین (17.1 فیصد) اور تائیوان (5 فیصد) شامل ہیں۔

گزشتہ چار سالوں میں ایشیائی مارکیٹوں کے لیے برآمدات میں اضافے کی اہم وجہ دراصل چلی کے نجی برآمدی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے، جس سے گزشتہ 10 سالوں میں دنیا بھر کے لیے خوراک و مشروبات کی کل شپمنٹس میں اضافہ ہوا ہے۔

2009ء میں بین الاقوامی مالیاتی بحران کے باعث ہونے والی کمی کے علاوہ چلی کی برآمدات نے 2000ء سے 2010ء تک 137 فیصد کی شرح نمو ظاہر کی ہے، جس کی کل مالیت 2010ء میں 11 ہزار 700 ملین امریکی ڈالرز رہی۔ اس تناظر میں ملک کا ہدف 2015ء تک 20 ہزار ملین امریکی ڈالرز کی سالانہ برآمدات کے ذریعے خود کو دنیا کے 10 سرفہرست خوراک برآمد کنندہ ممالک میں شامل کرنا ہے۔

تاریخی طور پر زراعت چلی کی معیشت کے اہم ستونوں میں سے ایک  رہا ہے۔  یوں حالیہ سالوں میں زرعی شعبہ اور اس کی صنعتی شاخوں نے نقد کی پیدائش کے اعتبار سے – کان کنی کے بعد- چلی میں دوسرا مقام پا لیا ہے، جو ایک ایسی صورتحال جو چلی کو خوراک کی عالمی مارکیٹ میں ایک اہم پوزیشن پر پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے، جو اس وقت عالمی درجہ بندی میں اِن مصنوعات کا  16 واں سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔

سابوریس دے چلی، ایک کلیدی بین الاقوامی پروموشنل ایونٹ

ایک قابل بھروسہ غذائی مصنوعات کے فراہم کنندہ کی حیثیت سے بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ چلی اک ایسی تقریب میں ہر سال دنیا کے مختلف شہروں میں مقامی کاروباری شخصیات، درآمد کنندگان، تقسیم کار، ایگزیکٹوز اور رائے ساز رہنماؤں کو جمع کر کے بہتر اضافی قدر کی حامل مصنوعات کی حوصلہ افزائی کے ذریعے اپنی خوراک و مشروبات کی برآمدات کو متنوع بنانے اور بڑھانے توقع کرتا ہے۔

اس تقریب کا نام سابوریس دے چلی [‘چلی کے ذائقے’]ہے، جو چلی کو فوڈ پاور بنانے کے لیے حکمت عملی مرتب دینے کا بنیادی ڈھانچہ ہے ، اور درآمدات اور تقسیم کے شعبے سے وابستہ کاروباری افراد اور ساتھ ساتھ صارفین کو بھی چلی کی غذائی اشیاء کی  خصوصیات کی معلومات فراہم کرنے کا خواہاں ہے ، جس کا مقصد برآمد کنندگان کو صحت بخش اور محفوظ و معیاری خوراک کے قابل بھروسہ فراہم کنندگان کی حیثیت سے پوزیشن اختیار کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

2007ء سے اس نوعیت کی 20 سے زائد تقریبات ہیمبرگ، لندن، میڈرڈ اور میکسیکو سٹی میں منعقد ہو چکی ہیں۔ 2011ء میں ماسکو (23 تا 24 جون)، استنبول (27 تا 28 جون) اور ساؤ پالو (29 تا 30 اگست) ان سرگرمیوں کی میزبانی کر چکے ہیں، اور جلد ہی گوانگ چو (7 تا 8 نومبر) اور کوالالمپور (10 تا 11 نومبر) میں بھی منعقد ہوں گی جہاں 20 سے زائد چلی کی غذائی و مشروبات کمپنیاں شرکت کریں گی۔

چین، چلی کا اہم تجارتی شراکت دار

چین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد سے چلی کی برآمدات سالانہ 29 فیصد کے اوسط سے بڑھ رہی ہیں، جو چین کی چلی کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے، جو 2009ء میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ  کر اس درجے پر قابض ہے۔

اکتوبر میں معاہدے نے اپنا پانچواں سال مکمل کیا، جس کے دوران چلی کی برآمدات 29 فیصد کی اوسط سالانہ شرح سے بڑھیں۔ چلی کی عمومی انتظامیہ برائے بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت 2010ء میں 27.2 ملین امریکی ڈالرز پر کھڑی تھی، جو 2009ء کے مقابلے میں 46 فیصد اضافہ تھا۔ مزید تفصیلات میں جائے بغیر یہ اعداد و شمار 2010ء میں چلی کی کل بیرونی تجارت کے 21 فیصد کی نمائندگی کرتی ہے۔

چلی دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے چین کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ کیا تھا۔ اس پیشرفت کی روشنی میں چلی کی تجارتی حکمت عملی مستحکم دو طرفہ تعلقات اور قابل برآمد مصنوعات کے تنوع کے ذریعے ان تعلقات کو مضبوط بنانے پر مشتمل ہے۔

موخر الذکر کی وجہ سے، تانبے کی برآمدات کے علاوہ جو چلی کی چین کو ہونے والی برآمدات کا کل 55 فیصد ہے، اب چلی کی خوراک و مشروبات میں کی ورائٹی کو فروغ کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہوا ہے ، اس کے پیش نظر، فاصلے اور سخت مسابقت کے باوجود، چلی اس شعبے میں اس شعبے کے مختلف خطوط میں اہم فراہم کنندہ کی حیثیت سے اپنا مقام مضبوط کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

اور اس طرح 2010ء میں چین کی جانب سے درآمد کیے گئے 81 فیصد جمی ہوئی ٹراؤٹ مچھلی کے ٹکڑے چلی سے تعلق رکھتے تھے، جو ایک ایسی پوزیشن ہے جو تازہ چیری (75 فیصد)، تازہ آلو بخاروں (74 فیصد)، تازہ سیبوں (70 فیصد)، جمے ہوئے پھل (58 فیصد)، تازہ انگوروں (51 فیصد)، اور شراب کی زیادہ مقدار میں شپمنٹس میں پہلے ہی حاصل ہے۔

دوسری جانب، چلی نے خود کو اس پوزیشن میں لے آیا ہے کہ وہ چین کو مچھلی کا گوشت فراہم کرنے والا دوسرا، جمی ہوئی سالمن مچھلی کے ٹکڑوں کا تیسرا سب سے بڑا، اور بوتل میں بند شراب کا چوتھا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ اس وقت چین کو چلی کی برآمدات کا صرف دو فیصد خوراک کے شعبے پر مشتمل ہے، یہ ایسا منظرنامہ ہے جو آگے بڑھنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔

ملائیشیا، بڑھتی ہوئی معیشت کا ایک امکان

چلی اور ملائیشیا کے درمیان اچھے تجارتی تعلقات، جن کی تصدیق حال ہی میں آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط کے ذریعے ہوئی ہے، چلی کو تقریباً 28 ملین باشندوں کی ایک مارکیٹ تک رسائی کے قابل بنائے گی، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے نئے مرحلے کا آغاز ہے۔

الیکٹرانک آئٹمز کے اہم پیداواری ممالک میں شمار ہونے والا ملائیشیا حالیہ سالوں میں جنوب  مشرقی ایشیا میں توانائی ذرائع کا بڑا فراہم کنندہ بن چکا ہے، جو تجارتی معاہدہ کرنے کے لیے چلی کی دلچسپی کا واحد بہتر مرکز تھا۔ مزید برآں دونوں ممالک کی جانب سے کی گئی مشترکہ تحقیق کے بعد مارکیٹ کے کئی دیگر شعبہ جات سامنے آئے ہیں جیسا کہ زرعی کاروباری شعبہ۔

یوں، معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے بعد، چلی کی مصنوعات مثلاً بڑا گوشت، مچھلی، تازہ پھل، پاؤڈر والا دودھ، دہی، پنیر اور پنیر کی مصنوعات بغیر کسی درآمدی محصول کے ملائیشیا میں داخل ہو سکیں گی۔ جواب میں ملائیشیا اپنی کل برآمدات کا 95 فیصد بغیر کسی درآمدی محصول ادا کیے برآمد کر سکے گا۔

ذریعہ: پروچلی

رابطہ : ہورگے دیاز سالیناس

+56-2-827-5391

jodiaz@prochile.gob.cl