کنیست کے اراکین نے ون وائس وفد کو دو-ریاستی حل کے بارے میں آگاہ کیا

AsiaNet 46961

یروشلم، 25 اکتوبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

ریاستہائے متحدہ امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے با اثر کاروباری رہنماؤں کا ایک وفد، جس کی قیادت ون وائس کے بانی ڈینیل لوبیزکی [http://www.onevoicemovement.org/about-onevoice/daniel.php ] اور اداکار جیسن الیگزینڈر کر رہے تھے، نے دو ریاستی-حل جماعت [http://blog.onevoicemovement.org/one_voice/2011/01/knessets-two-state-solution-caucus-launches-amid-political-shakeup-.html ] کے کنیست کے اراکین سے پیر کو یروشلم میں ملاقات کی۔

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20111024/DC92570)

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110117/DC31246LOGO-b)

وفد، جس میں نیو کسٹمر سروس کمپنیز کے فریڈ شافیلڈ، میلٹزر گروپ کے ایلن میلٹزر اور ناتھن کمنگز فاؤنڈیشن کےجیمز کے کمنکز شامل تھے، نے دو ریاستی حل کے حوالے سے اسرائیلی معاشرے میں بڑے پیمانے پر اتفاق رائے کے باوجود امن معاہدے کو حتمی شکل دینے میں سیاسی خواہش کی کمی پر گفتگو کرنے کے لیے درجن بھر سے زائد کنیست اراکین کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ ون وائس اسرائیل[http://www.onevoice.org.il ] کا عملہ اور نوجوان رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔

دو ریاستی حل جماعت کے سربراہ ایم کے یوئیل حسون (کدیما) نے کہا کہ “ہمیں دو ریاستی حل پر اکثریت حاصل ہے، یقین کیجیے، یہ اکثریت یہاں موجود ہے۔ لیکن ہمیں دلیر قائد کی ضرورت ہے جو اس اتفاق رائے کو متحرک کر سکے۔”

کدیما، لیبر پارٹی اور اور میریٹز سے تعلق رکھنے والے کنیست اراکین نے حسون کی رائے کی تائید کی۔ کنیست کے نائب اسپیکر ایم کے شلومو مولا [http://blog.onevoicemovement.org/one_voice/2011/10/mk-molla-give-up-preconditio ns-for-peace-to-reignite-negotiations-.html ] (کدیما)نے کہا کہ “دو ریاستی حل کا متبادل ایک ریاستی حل نہیں ہے ۔۔۔ متبادل ایک بہت تیز اور ممکنہ طور پر خطے کی صورتحال میں تباہ کن بگاڑ لانے والا ہے۔”

ون وائس نے رواں سال نوجوان کارکنوں کے جامع نیٹ ورک کو استعمال کیا اور امن کے لیے دلیرانہ اقدامات اٹھانے کے لیے سرحد کے دونوں جانب کے لوگوں کو متحرک کیا۔ وفد گزشتہ ہفتے تل بیت کے سینماتھیک کے باہر ون وائس اسرائیل کے تاریخی موقع [http://blog.onevoicemovement.org/one_voice/2011/10/top-israeli-figures-talk-str aight-with-citizens-at-onevoice-event.html ] پر یہاں آیا جس میں 500 اسرائیلیوں نے ‘دوگری’ (براہ راست) حکومت اور سول سوسائٹی کے 30 اہم رہنماؤں سے بات کی۔

ون وائس انٹرٹینمنٹ کونسل [http://www.onevoicemovement.org/board/entertainment-council.php ] کے رکن جیسن الیگزینڈر نے کہا کہ “ون وائس معتدل مزاج طبقے کو تقویت بخشنے کے بارے میں بات کرتا ہے، لیکن معتدل مزاج اچھی ساکھ نہیں رکھتے کیونکہ انہیں دھیما سمجھا جاتا ہے۔ انہیں جذبے سے سرشار ہونا چاہیے۔ جب معتدل مزاج پرجوش ہوں گے، تو غیر معمولی کام ہو سکتے ہیں۔”

کنیست اراکین نے وفد اور امریکی یہودی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کی خواہاں معتدل مزاج اکثریت کی پشت پر کھڑے ہوں، لیکن زور دیا کہ صرف اسرائیلی اور فلطینی ہی حتمی و مستقل امن معاہدے پر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔

ون وائس اسرائیل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیل ہیرس [http://www.twitter.com/talharris1 ] نے حتمی گفتگو میں کہا کہ “بہت زيادہ لوگوں کا سوچنا ہے کہ دو ریاستی حل کے لیے ادا کردہ قیمت بہت سخت ہے۔ لیکن اس کو ادا کیے بغیر حتمی قیمت ہمیں شدت پسندوں کو کو ادا کرنی ہوگی کہ یا تو دستبردار ہو جائیں یہ ریاست اسرائیل کی یہودی یا جمہوری فطرت میں سے کسی کو قبول کر لیں۔”

وفد نے نائب وزیر اعظم ڈین میروڈور اور سابق وزیر اعظم ایہود المرت کے ساتھ ساتھ امریکی قونصل جنرل ڈينیل روبنسٹین سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وہ منگل کو سرفہرست فلسطینی عہدیداروں سے ملیں گے اور بدھ کو مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ میں ون وائس کی ٹاؤن ہال میٹنگ میں شرکت کریں گے۔

ون وائس [http://www.onevoicemovement.org ] ایک بین الاقوامی نچلی سطح کی تحریک ہے جس کا مقصد اسرائیلی و فلسطینی معتدل مزاج طبقے کی آواز کو تقویت بخشنا  اور دو ریاستی حل کی طلب کے لیے انہیں اختیار دینا ہے۔ تحریک اسرائیلی و فلسطینی نوجوانوں کو قائدانہ صلاحیتوں، غیر متشدد تحریک چلانے اور جمہوری اصولوں پر تعلیم اور تربیت دیتی ہے۔

ذریعہ: ون وائس موومنٹ

رابطہ: آئیون کیراکاشیان، کمیونی کیشنز ڈائریکٹر، پیس ورکس فاؤنڈیشن،

ون وائس موومنٹ، +1-212-897-3985 x 124، فیکس +1-212-897-3986،

ivan@onevoicemovement.org، http://www.OneVoiceMovement.org