روشنی اور اس سے زیادہ کی رفتار پر نیوٹرینوز کے شان دار پہلو

AsiaNet 46868

نیو یارک، 24 اکتوبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

ستمبر 2011 میں نیوٹرینو کی ایک شعاع نے، جنیوا میں موجود سرن (CERN) تجربہ گاہ سے 454 میل دور اٹلی میں واقع آئی این ایف این گران ساسو (INFN Gran Sasso) تجربہ گاہ کا سفر بظاہر روشنی کی رفتار سے 0.0025 فیصد تیزی سے طے کیا۔ اگر یہ تجربہ، قابلِ اعادہ ثابت ہوتا ہے تو کلاسیکی طبیعیات کے اب تک کے کئی غیر متنازع مانے جانے والے ستون گر پڑیں گے۔ یوں تو آئن سٹائن کے نظریات میں روشنی سے زیادہ تیز سفر کرنے والے ناقابلِ مشاہدہ ذرات کی گنجائش ہے۔ ان ذرات کو ٹیکیون (tachyon) کہا جاتا ہے۔ البتہ ان ذرات کی اطلاع کی آمد و رفت کے ذریعے کے طور پر استعمال کی کوئی ممکنہ صورت نہیں ہے۔ آئن سٹائن کے مطابق اطلاع کے سفر کی زیادہ سے زیادہ رفتار سختی کے ساتھ روشنی کی رفتار تک ہی محدود ہے۔ ایسی قابلِ مشاہدہ نیوٹرینو شعاع کا شان دار پہلو کم نوعیت کی دریافت ہوگی کہ شاید نیوٹرینو ہی درحقیقت ٹیکیون ہیں، جبکہ اطلاع کا روشنی کی حدِ رفتار سے تیز تر سفر کرنا زیادہ ہوگا۔ چونکہ سپر نووا دھماکوں کے مشاہدات میں ایسی کوئی بات کبھی سامنے نہیں آئی کہ نیوٹرینو کی اشعاع وہاں کے فوٹونز سے پہلے پہنچی ہوں، اس لیے سرن میں کیے گئے اس تجربے کو گہرے تنقیدی جائزے کی ضرورت ہے۔ سپرنووا 1987اے سے آنے والے نیوٹرینوز کا سراغ جاپان میں موجود کامیوکا نیوکلیان ڈیکے ایکسپیریمنٹ نے لگایا تھا۔ یہ نیوٹرینوز اس سپر نووا واقعے کی روشنی سے صرف تین گھنٹے پہلے زمین پر پہنچے تھے۔ چونکہ روشنی ایک مختصر وقفے تک سپر نووا کے اندر ہی قید رہتی ہے، اس سے اشارہ ملتا ہے کہ نیوٹرینوز روشنی کی رفتار پر ہی سفر کرتے ہیں۔ اگر سرن کے نتائج درست ہیں تو ان نیوٹرینوز کو سپر نووا کی روشنی سے گھنٹوں کے بجائے برسوں پہلے پہنچنا چاہیے تھا۔

آئن سٹائن کی مقرر کردہ روشنی کی رفتار کی حد اور اس کے اس اصولِ موضوعہ کہ بیریونی مادہ (baryonic matter) اس حد تک نہیں پہنچ سکتا کیونکہ اس کی اضافیتی کمیت بڑھنے کے باعث اسے دھکیلنے میں لامحدود توانائی درکار ہوگی، کی اس بظاہر تجرباتی تردید کی دو کافی سادہ وضاحتیں ہو سکتی ہیں۔

1۔ اگر یہ تجربہ قابلِ اعادہ نہیں ہے، تو آنکنے کے طریقۂ کار میں ابھی تک کوئی نامعلوم غلطی موجود ہے۔ چونکہ نیوٹرینو بمشکل ہی مادے کے ساتھ کوئی عمل کرتے ہیں، اس وجہ سے ان کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

2۔ اگر یہ تجربہ قابلِ اعادہ ہے یا نیوٹرینو عین روشنی کی رفتار پر سفر کر رہے ہیں، تو سادہ ترین وضاحت یہ ہوگی کہ خلاء کا چہار جہتی زمان و مکان خالصتاً ایک جیومیٹریکل گرڈ نہیں ہے جیسا کہ آئن سٹائن نے تصور کیا تھا، بلکہ یہ ایک خاص طرح کا توانائی سے بھرپور سٹوریج میڈیم ہے جو کہ بس کلاسیکی طبیعیات کی گرفت میں ابھی تک نہیں آ پایا تھا۔ اس میڈیم کے متعلق ایک معلوم حقیقت یہ ہے کہ بعض مخصوص ذرات اس میں روشنی سے تیز تر رفتار پر سفر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عموماً روشنی کے مظاہر پیش آتے ہیں جنہیں چیرنکوف ریڈی ایشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ چیرنکوف اثر ایک بالاصوتی طیارے کی صوتی گرج (سونک بوم) کی طرح کا ہے۔ اگر نیوٹرینو بالکل روشنی کی رفتار پر یا اس حد سے بھی اوپر سفر کرتے ہیں، تو وہ اپنی انتہائی کم کمیت ایک ملتے جلتے اثر کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ جس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ ہم روشنی کی یا اس سے قریب رفتار پر، آئن سٹائن کے تصورات اور بیریونی مادے کے لیے اس کی مساواتوں کے برعکس، ان کی بلند اضافی رفتار کے باوجود ان کی اضافیتی کمیت میں کوئی زبردست بڑھوتری کا مشاہدہ کیوں نہیں کر پاتے۔

لیکن اس مخصوص طرز کا زمانی و مکانی میڈیم ہوگا کیسا؟ یہ یقینی طور پر ایتھر کی طرز کا تو نہیں ہو سکتا جسے لورنٹز اور دوسرے سائنس دانوں نے آئن سٹائن کی جیومیٹریکل زمان و مکان والی پہنچ کے تمام برسوں کے دوران تصور کیا تھا، کیونکہ اس کے نتیجے میں روشنی کی رفتار کسی بھی مبصر کے لیے مستقل نہیں رہے گی۔

اس پہیلی کو اس کا پہلا قابلِ عمل حل ملتا ہے اگر آئن سٹائن کی زمان و مکان کی تصویر میں کوانٹم میکانیاتی پہلوؤں، اور ساتھ ہی جانے مانے ہم وقتی کی اضافیت کے ایک گرداں عنصر کو شامل کر دیا جائے؛ اس طرح مکان کے خلاء میں ایک طرح کا کوانٹم توانائی جھاگ ظاہر ہوتا ہے۔ آئن سٹائن نے اپنے خصوصی اور عمومی اضافیت کے نظریات میں وقت اور لمبائی کی کسی کوانٹائزیشن کا خیال نہیں کیا تھا کیونکہ انتہائی چھوٹی سطح پر ایسی کوئی حد اس وقت تک نہ دریافت ہوئی تھی نہ زیرِ بحث آئی تھی۔ نیوٹرینوز بھی اس وقت معلوم نہیں تھے۔ سب سے پہلے کوانٹم میکانیاتی پہلو ہائزنبرگ کے اصولِ عدم یقینی اور پلانک کے کوانٹائزیشن پیمانے کی صورت میں اس کے برسوں بعد ہی طبیعیات میں داخل ہوئے۔

ہم آئن سٹائن کے زمانے سے جانتے ہیں کہ ایک مبصر کے لیے ایک خلائی جہاز میں جہاز کے متحرک محور کے ساتھ ہم وقت ہونے والے واقعات بلند آپسی رفتار کی صورت میں ایک اور مبصر کے لیے ایک دوسرے کے بعد ہونے والے واقعات میں بدل جائیں گے کیونکہ روشنی کی رفتار دونوں مبصرین کے لیے مستقل رہتی ہے جس کے نتیجے میں یہ ہم وقتی کی اضافیت پیدا ہوتی ہے۔ اب اگر ہم دو ہم وقت روشنی کے جھماکوں کے درمیانی فاصلے کو ایک انتہائی چھوٹی کم از کم قدر تک محدود کر دیں، تو ایک اور مبصر خلائی جہاز کی ایک مخصوص رفتار پر ان ہم وقت واقعات کی پیمائش یکے بعد دیگرے ہونے والے واقعات کے طور پر پائے گا۔ اس کا یقینی طور پر اس مبصر کے لیے ایک توانائی سے بھرپور اثر ہے کیونکہ آئن سٹائی کی زمان و مکان گرڈ نے اس صورت میں دوسرے جھماکے کے لیے اس کی ٹائم لائن کے ساتھ ایک طرح کا توانائی سٹوریج کا اثر حاصل کر لیا۔ آئن سٹائن کی خصوصی اضافیت کے اس جانے پہچانے فنکشن کی ایک دو جہتی گراف پر تصویر کشی کی جا سکتی ہے جس میں ہم وقت واقعات کو x-لمبائی محور پر جبکہ یکے بعد دیگرے واقعات کو y-وقت محور پر نشان زد کیا جائے۔

اب اضافیتی میکانیات کے ثابت شدہ اور غیر متنازع فارمولوں کے مطابق ہم وقتی واقعات کو یکے بعد دیگرے واقعات میں بدلنے اور مکانی فاصلے اور زمانی ترقی کی چھوٹی حدود پر اس سادہ کوانٹائزیشن ترتیب پر غور کرنے سے مجموعی تصویر میں کوانٹائزڈ گرداں عناصر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اضافی تاریک توانائی اور تاریک مادے کے ذخیرے کے علاقوں کے ساتھ زمان و مکان کی ایک وسیع تر بناوٹ کی طرف اور نیوٹرینوز کی عجیب و غریب فطرت اور طرزِ عمل کی ایک قابلِ عمل وضاحت کی طرف رہنمائی کرتا ہے، چاہے وہ آخر میں عین روشنی کی رفتار پر سفر کریں، یا اس سے ذرا سی کم، یا بالکل غیر متوقع طور پر، اس سطح سے بھی کچھ اوپر۔

ہنرک فریستاکی، پی ایچ ڈی

رکن رشین اکیڈمی اف ٹیکنیکل سائنسز، ماسکو

بیرونی بورڈ رکن انسٹیٹیوٹ آف گریویٹیشن اینڈ کوسموس برائے پین اسٹیٹ یونیورسٹی، امریکہ

ہوم پیج  http://www.frystacki.de

فون: +49(0)8157924137

ذریعہ: پین اسٹیٹ یونیورسٹی، امریکہ