ایم کے مولا: امن مذاکرات کے از سر نو آغاز کے لیے شرائط سے دستبردار ہو جائیں

AsiaNet 46799

نیو یارک، 14 اکتوبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

ایک یہودی ہونے کے باعث ایتھوپیا میں جائیداد خریدنےسے قاصر رہنے والے ایم کے شلومو مولا [http://www.facebook.com/shlomo.molla ] (کدیما) نے جمعرات کو ون وائس کے نیو یارک صدر دفاتر میں فلسطینی باشندوں کے ریاستی حق کے بارے میں ہی نہیں بلکہ اُن کی پریشانیوں پر بھی ہمدردی کا اظہاربھی کیا۔

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110117/DC31246LOGO-b)

کنیست کے پہلے ایتھوپیائی نائب اسپیکر ایم کے مولا نے ون وائس شراکت داروں کے متحرک سامعین سے اسرائیلی-فلسطینی تنازع پر گفتگو کی۔ اسرائیلی آباد کاری اور فلسطینی باشندوں کے واپسی کے حق پر مذاکرات میں ایسی رکاوٹوں پر بے لاگ گفتگو کرتے ہوئے ایم کے مولا نے امن عمل کے سفر کو تیز کرنے کے لیے نچلی سطح پر فعالیت کی ضرورت کے حوالے سے نوجوان رہنماؤں غبی انور [http://blog.onevoicemovement.org/one_voice/2011/10/maryland-teenager-joins-israeli-army-en-route-to-onevoice-israel.html ] اور انس اشقر [http://blog.onevoicemovement.org/one_voice/2011/10/19-day-detainment-does-not-detain-anas-efforts-to-know-israelis.html ] کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

ایم کے مولا نے کہا کہ “میں ذاتی طور پر ایتھوپیا میں ایک یہودی ہونے کی وجہ سے مصیبتیں برداشت کر چکا ہوں، میرے دل میں فلسطینیوں کے لیے بہت ہمدردی ہے جنہیں اپنے اختیار، اپنی ثقافت اور اپنی ریاست کی ضرورت ہے۔”

دو ریاستی حل کی حمایت کے ساتھ ایم کے مولا کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں کو امن کے لیے اپنی شرائط سے دستبردار ہونا ہی مذاکرات کے از سر نو آغاز کا واحد راستہ ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کی حیثیت سے اپنی تسلیم شدگی کے مطالبے کو چھوڑ دینا چاہیے، ایم کے مولا نے کہا کہ شدید مشکلات کے باوجود فلسطینیوں کو  اپنے واپسی کے حق میں کچھ نرمی برتنے کی ضرورت ہے۔

اس امر پر کہ انہیں اسرائیل کو ایک یہودی ریاست تسلیم کرنے کے لیے فلسطینیوں کی ضرورت کیوں نہیں ، گفتگو کرتے ہوئے انور نے کہا کہ “ایک عظیم تر اسرائیل ان کے دل میں ہمیشہ جگہ پائے گا، الخلیل کی طرح، جہاں سے ان کی تاریخی وابستگی ہے، اور میں کبھی  اپنی تاریخ سے دستبردار نہیں ہوگا جیسا کہ میں انس کو نہیں کہہ سکتا کہ وہ تاریخی فلسطین سے دستبردار ہو۔ یہ ایک عوامی سوال ہے، سیاسی نہیں۔”

اپنے اہم سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود ایم کے مولا نے کہا کہ یہ نچلی سطح ہے جو دو ریاستی حل کے آگے بڑھتے دیکھنے کی قوت رکھتی ہے۔ ایم کے مولا نے کہا کہ رہنما امن قائم نہیں کر رہے ہیں، یہ امن لوگ قائم کر رہے ہیں۔ اسرائیلی کنیست میں پہلی بار دو ریاستی حل کے لیے گروہ موجود ہے۔”

دو ریاستی حل کے لیے اسرائیلی گروہ [http://blog.onevoicemovement.org/one_voice/2011/01/knessets-two-state-solution-caucus-launches-amid-political-shakeup-.html ] اپنی نوعیت کا پہلا گروہ نہیں ہے، بلکہ لیکن اسرائیلی اور فلسطینی چیلنجز کو مشترکہ طور پر تسلیم کرنے کا مشاہدہ کرنے والی بریفنگ اس مقام پر ہوئی جہاں اشقر ایم کے مولا سے خطاب کرنے کے قابل تھے۔

ون وائس کے سی ای او ہاورڈ سومکا نے کہا کہ “میں نے اِسے سیاسی قیادت اور نچلی سطح کی فعالیت کو یکجا کرنے ، اور غبی اور انس کے لیے اسرائیلی قیادت کے ساتھ گفتگو کرنے اور انس کے کنیست کے رکن کے ساتھ بیٹھنے اور بطور فلسطینی خیالات پیش کرنے کے موقع پر طور پر دیکھا۔”

ون وائس [http://www.onevoicemovement.org ] ایک بین الاقوامی نچلی سطح کی تحریک ہے جس کا مقصد اسرائیلی و فلسطینی اعتدال پسند حلقوں کی آواز اور دو ریاستی حل کے لیے ان کے مطالبے کو تقویت بخشنا ہے۔ تحریک اسرائیلی و فلسطینی نوجوانوں کی قائدانہ مہارتوں، غیر متشدد تحریک اور جمہوری اقدار کے حوالے سے تعلیم و تربیت کرتی ہے۔ ون وائس میں شمولیت اور اس کی مدد کے لیے http://www.onevoicemovement.org ملاحظہ کیجیے۔

ذریعہ: ون وائس موومنٹ

رابطہ: آئیون کیراکاشیان،

کمیونی کیشنز ڈائریکٹر،

پیس ورکس فاؤنڈیشن،

ون وائس موومنٹ،

+1-212-897-3985 x 124،

+1-212-897-3986،

ivan@onevoicemovement.org