تحقیقاتی ایف ڈی اے آلات کے انسانوں پر تجربات کا راز افشا کرنے پر نارتھ ویسٹرن یونیورسٹ، شکاگو، الینوائے سے خارج ہونے پر نالینی ایم راجامنن کا بیان

AsiaNet 46789

شکاگو، 14 اکتوبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

مندرجہ ذیل بیان ARRA/NIH وفاقی فنڈنگ کی حامل نالینی راجامنن، ایم ڈی کی جانب سے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر میڈیسن اخراج پر جاری کیا گيا ہے:

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20111013/CG86104)

30 ستمبر 2011ء سے موثر فیصلے کے مطابق مجھے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے خارج کر دیا گیا، جو میرے خیال میں میری اپنے اُن مریضوں کو تحفظ بخشنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے جن کے دلوں میں تحقیقی آلات لگائے گئے ہیں۔ اس کی تصدیق حال ہی میں کرونیکل آف ہائیر ایجوکیشن مورخہ 11 اکتوبر 2011ء میں پال باسکن کے لکھے گئے مقالے میں ہوئی ہے۔ 2007ء میں میں نے نارتھ ویسٹرن میں موزوں چینلوں کو یہ حقیقت پیش کی کہ متعدد مریض ایسے غیر منظورہ شدت آلات کے حامل ہیں جو ان کے علم میں لائے بغیر ان کے دلوں میں نصب کیے گئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مریض اب بھی اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کے بارے میں نہیں جانتے اور نتیجتاً نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ نارتھ ویسٹرن نے اس خیال کی تردید کی ہے، اگرچہ اس امر کی تصدیق ہو چکی تھی کہ تجرباتی آلہ درحقیقت تنصیب کے وقت ایف ڈی اے کی جانب سے منظورہ شدہ نہیں تھا۔

میری رپورٹنگ کے بعد سے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی اور دیگر متعلقہ اداروں، بشمول نارتھ ویسٹرن میموریل ہسپتال اور نارتھ ویسٹرن میڈیکل فیکلٹی فاؤنڈیشن، مجھے مختلف انضباطی معاملات میں گھسیٹا جس کا میرے ہم مرتبہ عہدیداروں کو سامنا نہیں کرنا پڑا۔ منطقی طور پر اس کا واحد سبب یہی ہو سکتا ہے کہ میں نے اپنی اخلاقی ذمہ داریاں پوری کیں اور نامناسب عمل کو بیان کیا۔ گو کہ نارتھ ویسٹرن نے بالآخر میری ملازمت کا خاتمہ میری آواز بند کرانے کی امید کے ساتھ کیا ہے، لیکن یہ امر واضح ہے کہ وہ غیر منظورہ شدہ آلہ لگائے جانے کے مریضوں پر ہونے والے اثرات اور تحفظ کے لیے اداائیگی کرنے والوں کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ ان میں سے کئی مریض جراحی کے بعد اب بھی نقصان اٹھا رہے ہیں اور ہو سکتا ہے ان کے ذہن میں شائبہ تک نہ ہو کہ ان کی پریشانی کا سبب کیا ہے۔

کانگریشنل اور ایف ڈی تحقیقات جاری ہیں، لیکن مریض 5 سال بعد بھی بے خبر ہیں۔ قوانین جنہیں ان انسانوں کو تحفظ دینا چاہیے دوسری جنگ عظیم کے بعد نافذ کیےگئے نورمبرگ قوانین سے ماخوذ ہیں، جنہیں عام قانون کہا جاتا ہے۔ ان قوانین کا مطلب انسانوں کو انسانی تجربات سے محفوظ رکھنا ہے۔ میرا یقین ہے کہ اس صورت میں ان قوانین پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے، اور یہ معصوم لوگ نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

ذریعہ: نالینی راجامنن، ایم ڈی

رابطہ: نالینی راجامنن، ایم ڈی

+1-312-498-9496

nrajamannan@gmail.com