ون وائس اسرائیل کی ون وائس تقریب میں براہ راست شہریوں سے گفتگو

AsiaNet 46756

نیو یارک، 12 اکتوبر 2011ء/پی آرنیوزوائر –ایشیانیٹ/

ون وائس اسرائیل [http://www.onevoice.org.il ] منگل کو تل ابیب کے سینمادیک پلازا میں اسرائیل-فلسطین تنازع کے بارے میں مکالمے میں شمولیت کے لیے سیاسی منظرنامے کی اہم شخصیات کو سامنے لایا ہے۔

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110117/DC31246LOGO-b)

500 سے زائد شرکاء نے امن قائم کرنے میں عورتوں کے کردار سے لے کر ترکی کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات تک مختلف موضوعات پر 30 گول میز مذاکروں میں شرکت کی۔ صدر نشینوں میں نینو ابسادزے (کدیما)، ڈینیل بین-سائمن (لیبر)، ایتان کیبل (لیبر)، یوئیل حسن (کدیما)، سابق لیبر پارٹی رہنما امرام متزنا اور سابق انٹیلی جنس رسبراہ ایمی ایالون شامل تھے۔

ون وائس اسرائیل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تال ہیرس [http://www.twitter.com/talharris1 ] نے کہا کہ “ہدف اسرائیل میں رواں موسم گرما میں سماجی مظاہروں کی کامیابی اور تنازع پر مذاکرات کی توسیع کے عمل کو دہرانا تھا۔ ہمیں امید ہے کہ ہم نے لوگوں کو وہ سمجھ عطا کی ہے کہ ان کا سیاسی مستقبل ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔”

ون وائس اسرائیل نے عوام کو اختیار دینے کے عملی مظاہرے کے طور پر اسرائیلی رہنماؤں اور عوام کے درمیان کھلے بندوں گفتگو کے لیے بلیو وائٹ فیوچر [http://www.bluewhitefuture.org.il/english ] اور کونسل فار پیس اینڈ سیکورٹی [http://www.peace-security-council.org ] کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے۔ کئی مقررین نے تنازع کے حل پر گفتگو چاہنے والے اور کوئی کردار ادا کرنے کے خواہاں حاضرین کے ساتھ انوکھے تناظر پیش کیے۔

ایمی ایالون نے کہا کہ “میری میز پر، ہم نے بروقت یکطرفگی کا مطالبہ کیا۔ یہ ٹھیک ہے اگر فلسطینی یکطرفہ طور پر ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں – اسرائیل کو اس کے خلاف نہیں ہونا چاہیے؛ یہ درست ہے اگر اسرائیل یکطرفہ طور پر دو ریاستوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کام کرے، تاوقتیکہ وہ مشترکہ وژن کے ساتھ جڑا رہے۔”

امرام متزنا  کی زیر قیادت ایک اور مذاکرے میں اسرائیل کی سرحدوں اور سیکورٹی پر توجہ ڈالی گئی۔ متزنا نے کہا کہ “ایک مرتبہ سرحدوں اور حفاظتی اقدامات پر رضامندی کے بعد، ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوگی چاہے ہم مہاجرین اور القدس کے حوالے سے کسی معاہدے تک نہ بھی پہنچیں۔ ہمیں سرحدوں کو اپنا ہدف بنانا چاہیے ۔۔۔ پھر ہم ٹائم بم کو ناکارہ بنا سکتے ہیں جس کے اوپر ہم یہاں مشرق وسطیٰ میں ہمہ وقت بیٹھے ہیں۔”

گول میز مذاکروں کا ڈیزائن اسرائیلی سیاست میں کسی کی جانبداری کا انتخاب کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ بے کشادہ دل اور بے تکلفی کے ساتھ گفتگو کے لیے تھا۔ صدر نشین، بشمول ام ترتزو [http://en.imti.org.il ] اور نیو موومنٹ میریتز [ http://www.newmeretz.org.il] کے نمائندگان، اسرائیل میں سیاسی آراء کی طوالت کو چلاتے ہیں۔

ہیرس نے کہا کہ “ہمیں یقین ہے کہ تنازع دائیں اور بائیں بازو کے درمیان نہیں، نہ ہی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ہے، یا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان – یہ انتہا پسندوں کے چھوٹے گروہوں کے درمیان ہے۔”

تقریب، جس میں زیادہ تر اسرائیل کے نوجوانوں نے شرکت کی، نے مہمان مقررین کی جانب سے اضافی امید قائم کی، جنہوں نے اپنے آپ کو امن کے نئے مطالبے کی عوامی خواہش سنتے ہوئے پایا۔ کنیسٹ کی دو ریاستی حل جماعت کے سربراہ ایم کے ہیسن [http://blog.onevoicemovement.org/one_voice/2011/01/knessets-two-state-solution-caucus-launches-amid-political-shakeup-.html ] نے کہا کہ “ایک لڑکی نے کہا کہ اب وہ یقین رکھتی ہے کہ ہمارے پاس اسرائیلی قیادت ہے جو دو ریاستی حل کے لیے امن عمل کو فروغ دے سکتی ہے۔

اس تقریب کے بعد ون وائس اسرائیل اسرائیل کی قیادت اور اس کے عوام کے درمیان ہونے والے مکالموں کے جاری رہنے کی امید کرتا ہے۔ ہیرس نے کہا کہ “یہ ایک شعلہ ہے جو ہم نے سیاسی اکھاڑے میں پھینکا ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ آگ پکڑ لے اور بڑے واقعات کا سبب بنے۔”

ون وائس [http://www.onevoicemovement.org ] ایک بین الاقوامی نچلی سطح کی تنظیم ہے جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے معتدل مزاج حلقوں کی آواز کو جلا بخشنی اور دو ریاستی حل کے لیے انہیں تقویت دینی ہے۔ تحریک اسرائیل اور فلسطینی کے نوجوانوں کو قائدانہ مہارتوں، غیر تشدد پسند تحریک چلانے اور جمہوری اصولوں پر تعلیم و تربیت دیتی ہے۔

ذریعہ: ون وائس موومنٹ

رابطہ: ایوان کیراکاشین، کمیونی کیشنز ڈائریکٹر، پیس ورکس فاؤنڈیشن،

ون وائس موومنٹ،  +1-212-897-3985 x 124،  فیکس +1-212-897-3986،

http://www.OneVoiceMovement.org