پاکستان موبائل اور ایجنٹ بینکاری میں جدت طرازی کے لیے ایک آزمودہ میدان

Asianet 46741

واشنگٹن، 12 اکتوبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

مالیاتی خدمات روایتی طور پر پاکستان کے غربت زدہ اور دور دراز علاقوں میں مقیم افراد کی پہنچ سے دور ہیں۔ لیکن اب متعدد پیشرفتیں ملک کو جدت طرازیوں کی ایک حقیقی تجربہ گاہ میں تبدیل کر رہی ہیں جو مالیاتی عدم شمولیت کا خاتمہ کرنے کا عہد ہیں۔ عالمی صنعتی ادارے سی جی اے پی ، جو دنیا کے غریبوں کے لیے مالیاتی رسائی کو بہتر بنانے سے وابستہ ہیں، کے مطابق حکومت اور نجی شعبہ دونوں پاکستان کو ایک قابل قدر مارکیٹ بنانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110412/MM81963LOGO)

حکومت پاکستان کی جانب سے اپریل 2008ء میں بغیر شاخ کی بینکاری (برانچ لیس بینکنگ) متعارف کرائے جانے کے بعد، بڑے پیمانےکے دو منصوبوں نے جڑیں پکڑیں اور مارکیٹ میں دو دیگر رہنما منصوبے بھی متعارف کرائے گئے۔

ایک نئی دستاویز میں سی جی اے پی نے پیش گوئی کی ہے کہ مزید افراد کے لیے مالیاتی خدمات فراہم کرنے کی خاطر اگلے 12 ماہ میں ملک بھر میں نئی موبائل اور ایجنٹ بینکنگ سروسز میں کہیں زیادہ تیز رفتاری سے ابھار پیدا ہوگا۔

بینکوں کا منتظم اسٹیٹ بینک آف پاکستان ان منصوبوں کی مدد کر چکا ہے اور اب بینکوں کے لیے چار نئی بغیر شاخ کی بینکاری کے اجازت نامے (لائسنس) جاری کرچکا ہے، جن میں سے چند نے خدمات کو جاری کرنے کے لیے موبائل آپریٹرز اور دیگر عاملین کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ ضوابط میں حالیہ تبدیلی ایک کھاتہ کھولنے کے عمل کو اور زیادہ آسان کرے گی، کیونکہ بایومیٹرک معلومات فراہم کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔

دو منصوبے تعمیر مائیکرو فنانس بینک، جس کی ملکیت موبائل نیٹ ورک آپریٹر ٹیلی نار کے پاس ہے، اور بڑے کمرشل بینک یو بیل ایل نے شروع کیے ہیں۔ فرسٹ مائیکروفنانس بینک اور دبئی اسلامک بینک پاکستان نے بھی برانچ لیس بینکاری کے لیے اجازت نامے حاصل کیے ہیں اور پائلٹ پروگرام شروع کر چکے ہیں۔

ٹیلی نار اور تعمیر مائیکروفنانس بینک، “ایزی پیسہ” سروس چلاتے ہیں، جن کے ذریعے صارفین – تعمیر میں کھاتہ یا ٹیلی نار کا فون نہ رکھنے والے بھی – بلوں کی ادائیگی کر سکتے ہیں اور 12 ہزار ایزی پیسہ ایجنٹوں میں سے کسی کے ذریعے رقوم منتقل کر سکتے ہیں۔ جولائی 2011ء کے اختتام تک ایزی پیسہ نے رقوم منتقلی  کے 23 ملین کے معاملات نمٹائے جو مجموعی طور پر 500 ملین امریکی ڈالرز کے برابر تھے۔ انہوں نے حال ہی میں ٹیلی نار موبائل صارفین کے لیے ایک موبائل کھاتے کو فروغ دینے کے لیے بڑی مہم شروع کی ہے۔

یو بی ایل نے اپریل 2010ء میں یو بی ایل اومنی کا آغاز کیا، جو ایزی پیسہ کی طرح کی فوری خدمات کی ملتی جلتی اقسام پیش کر رہا ہے، جس میں صارفین اپنے ذاتی کھاتوں تک موبائل فونز کے ذریعے رسائی رکھ سکتے ہیں۔ یو بی ایل اومنی حکومتی و غیر سرکاری ایجنسیوں، بشمول بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، حکومت کی سیلاب زدگان کے لیے کوششیں اور عالمی غذائی پروگرام کی جانب سے لاکھوں ادائیگیوں کے معاہدے بھی حاصل کر چکا ہے۔

مارکیٹ میں داخل ہونے کی منصوبہ بندیاں کرنے والوں میں پاکستان کا سب سے بڑا کوریئر اور نقل و حمل ادارہ ٹی سی ایس، ملک بھر میں پھیلے اپنے 400 مقامات کے ساتھ، اور 1100 سے زائد شاخوں کا حامل کمرشل بینک ایم سی بی شامل ہیں۔

گو کہ کسی بھی جدت کی طرح کامیابی یقینی نہیں ہے، چاہے وہ بڑے پیمانے ہونے والی کوششیں ہی کیوں نہ ہو۔ سی جی اے پی پیپر کے مصنف کرس بولڈ نے کہا کہ “یہ کامیابی کے لیے ایک مشکل کاروبار ہے۔ ایسے صارفین کو، جن میں سے کئی کے پاس پہلے کبھی بینک کھاتہ نہیں تھا، کا ان خدمات پر اعتماد قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کاروباروں کو ایسی قیمت پر خدمات پیش کرنے کی ضرورت ہے جو انہیں صارفین کے لیے غیر روایتی متبادل طریقوں سے زیادہ پرکشش بنائیں، اور بایں ہمہ انہیں اپنے صارفین – اور خود کو بھی—دھوکہ دہی اور ناجائز طریقوں سے بھی بچانا ہوگا۔”

ابتدائی منصوبوں کے لیے صارفین کی قبولیت کے اشارے، اور سنجیدہ کاروبار چلانے والوں کی وابستگی ظاہر کرتے ہوئے بولڈ کہتے ہیں کہ اس امید کی وجوہات موجود ہیں کہ پاکستان بغیر شاخ کی بینکاری کے تجربات کی ایک حقیقی تجربہ گاہ کے طور پر پیشرفت کر سکتا ہے کہ رسائی نہ رکھنے والے افراد کے لیے ذمہ دارانہ مالیاتی خدمات فراہم کے لیے راستہ کس طرح کام کرتا ہے۔ بولڈ نے کہا کہ “پاکستان بغیر شاخ کی بینکاری کے لیے چند اسباق کی یقین دہانی کرا سکتاہے جو دنیا دیکھے گی۔”

سی جی اے پی دستاویز کا مطالعہ کریں: http://www.cgap.org/p/site/c/template.rc/1.9.55438

سی جی اے پی کے بارے میں

سی جی اے پی ایک آزاد پالیسی اور تحقیقی مرکز ہے جو دنیا کے غریب افراد کے لیے مالیاتی رسائی میں اضافے سے وابستہ ہے۔ اسے 30 سے زائد ترقیاتی اداروں اور نجی فاؤنڈیشنز کی مدد حاصل ہے جو غربت کے خاتمےکے مشترکہ ہدف سے وابستہ ہیں۔سی جی اے پی کا ٹیکنالوجی اینڈ بزنس ماڈل  انوویشن پروگرام موبائل فون اور دیکر ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے غریب افراد کے لیے مالیاتی خدمات میں اضافے کے لیے کام کرتا ہے، اور اسے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، سی جی اے پی اور برطانیہ کے محکمہ بین الاقوامی ترقی (DFID)  کی مالی مدد حاصل ہے۔ مزید جاننے کے لیے http://www.cgap.org۔

ذریعہ: سی جی اے پی

رابطہ:

جینٹ تھامس

Jthomas1@cgap.org

+1-202-473-8869

+1-202-744-4829 موبائل