ون وائس اور اسرائیل کی اعلیٰ شخصیات کا اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے ووٹ سے آگے بڑھ کر دلیرانہ جواب دینے پر زور

Asianet 46469

نیو یارک، 23 ستمبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

سرفہرست اسرائیلی ثقافتی شخصیات نے جمعرات کو رواں ہفتے اقوام متحدہ میں ہونے والے ممکنہ مسابقتی مرحلے سے کہیں آگے کے اسرائیلی جواب کی حمایت کے لیے تل ابیب کے ایوان آزادی کے باہر ون وائس اسرائیل کی تقریب میں شرکت کی۔

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110922/DC73885)

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110117/DC31246LOGO-b)

سینکڑوںافراد متعدد اسرائیلی اعزاز یافتگان، جن میں جوزف اگاسی، یہودا بیور اور ڈیوڈ ہریل شامل تھے، اور سیفی راچلیوسکی اور یورام کینیوک جیسے معروف لکھاریوں کو سننے کے لیے روتھس چائلڈ بلیوارڈ پر جمع ہوئے جنہوں نے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے معاملے کی حمایت کی۔ اس موقع پر سابق سفیر ایلون لیل اور ایلن باروچ، کنیسٹ کے اراکین نتزان ہورووٹز، زاہاوا گال-اون، اور ڈوو خینن، اور تل ابیب شہری کونسل کے چیئر یائل دایان بھی موجود تھے۔

ون وائس اسرائیل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تال ہیرس نے کہا کہ “67ء کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا جس میں علاقائی تبادلے پر رضامند ظاہر کی جائے دو قومی ریاست کے نظریے میں شمار ہوتی  ہے۔ اسرائیل کی مدد ہمیں ناجائز یا بین الاقوامی طور پر اکیلا کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنادے گی۔”

ون وائس اسرائیل نے اس ہفتے اپنی آن لائن مہم کا آغاز کیا، جسے اسرائیلی اشرافیہ کے اراکین جانب سے مضبوط مدد حاصل ہے، جو اسرائیلی باشندوں کو اسرائیل کے ساتھ امن و استحکام کے ساتھ موجود فلسطینی ریاست کے ممکنہ فوائد پر غور کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

معروف ویب سائٹ Walla پر آن لائن ٹیزر اشتہارات نے وسیع پیمانے پر تشہیر حاصل کی ہے اور تقریباً 40 ہزار افراد کو کھینچا ہے۔ ہیرس نے کہا کہ “اقوام متحدہ کے ووٹ کی حمایت یا مخالفت میں اپنی آواز آزادی کے ساتھ پیش کرنے کے لیے شہریوں کو ایک آن لائن مقام فراہم کر کے  ہم نے انہیں براہ راست اس عمل میں شامل کیا ہے۔” آل فار پیس ریڈیو بھی ون وائس اسرائیل کے پیش کردہ ریڈیو اسپاٹس چلا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ووٹ  پر قومی ردعمل اور خصوصاً اس کے اثرات پر تصور باندھنے کے لیے اسرائیلی شہریوں کو پیش کرنے کی مستقل کوشش کے ذریعے ون وائس اسرائیل عوام کو 11 جون کو 50 گول میز کانفرنسوں میں مدعو کرے گا، جن کی قیادت اتنی ہی اعلیٰ شخصیات کریں گے، جس میں تنازع کے حوالے سے غیر معمولی گفتگو کی جائے گی۔

تقریب کے ماڈریٹرز میں سے ایک ریوٹ انسٹیٹیوٹ کے صدر گیڈی گرنسٹائن نے کہا کہ “مختصراً، ہمارا ماننا ہے کہ اسرائیل فلسطینی تحریک پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور دو افراد کے لیے دو ریاستوں کے تصور کو روک سکتا ہے، جو حالیہ و گزشتہ اسرائیلی حکومتوں کا بنیادی نصب العین رہا ہے۔”

فلسطین میں ون وائس کے دفتر نے بھی مغرب کنارے میں فلسطینی قرارداد کے حق میں ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس کا بنیادی مقصد دو ریاستی حل کے حامی ہزاروں فلسطینیوں کو متحرک کرنا ہے۔ ان کی سرگرمیاں ووٹ کے نتیجے میں غیر متشدد اور تعمیری جواب کی بنیاد ڈالیں گی۔

چاہے اقوام متحدہ میں ووٹ منظور ہو یا نہ ہو، ون وائس اسرائیل کی توجہ بدستور اسرائیلی باشندوں کی جانب سے اپنے قائدین کو دلیرانہ اسرائیلی امن منصوبہ پیش کرنے اور فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ کرنے پر مرکوز رہیں گی۔

ہیرس نے کہا کہ “ہمارے پاس کوئی اور متبادل نہیں سوائے اس کے کہ ہم اسرائیل میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے دو ریاستی حل کی پیروی کریں۔ ہمارے رہنماؤں کو ضرورت ہے کہ وہ تاریخی معاہدے پر مذاکرات کریں جو اسرائیل اور نئی فلسطینی ریاست کے پہلو بہ پہلو وجود رکھنا اور ہم سب کے لیے ایک روشن مستقبل کی تعمیر شروع کرنا ممکن بنائے۔”

ون وائس نچلے درجے تک کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تحریک ہے جس کا مقصد اسرائیل و فلسطین کے اعتدال پسند حلقے کی آواز کو تقویت بخشنا اور انہیں با اختیار بنانا ہے تاکہ وہ دو ریاستی حل کا مطالبہ کریں۔ یہ تحریک اسرائیلی و فلسطینی نوجوانوں کو قائدانہ مہارت، غیر متشدد فعالیت اور جمہوری قوانین کی تعلیم و تربیت دیتی ہے۔

ذریعہ: دی ون وائس موومنٹ

رابطہ: آئیون کاراکاشیان

کمیونی کیشنز ڈائریکٹر

پیس ورکس فاؤنڈیشن

ون وائس موومنٹ

+1-212-897-3985 x 124

فیکس: +1-212-897-3986