وِزمان: آئی اے اے آٹوموٹو صنعت کے جدت طرازی کے استحکام کا متاثر کن مظاہرہ

AsiaNet 46363

فرینکفرٹ ایم مین اور برلن، جرمنی، 16 ستمبر/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

– چانسلر مرکل نے نقل و حرکت کے لیے دنیا کے سب سے اہم تجارتی میلے کا افتتاح کیا

جرمن ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو انڈسٹری (VDA) کے صدر ماتھیس وزمان نے فرینکفرٹ ایم مین میں آئی اے اے کے افتتاح کے موقع پر زور دیا کہ “یہ آئی اے اے آٹومٹو صنعت کے ان تھک احیاء اور اختراع کی صنعت کا مظاہرہ کرتی ہے: 1 ہزار سے زائد نمائش کنندگان نے نمائش کی، اور اتنے بڑے رقبے پر منعقد ہو رہی ہے جو 33 فٹ بال میدانوں کے برابر ہے۔ 183 عالمی پریمیئرز 8 لاکھ مہمانوں کے منتظر ہیں، اور 90 ممالک سے تعلق رکھنے والے 11 ہزار صحافی نقل و حرکت کے لیے دنیا کے اس اہم ترین تجارتی میلے کی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ آئی اے اے آٹوموٹو صنعت کی ‘جادوئی گیند’ ہ: یہاں لوگ، یکجا صورت میں، نقل و حرکت کا حال اور مستقبل دونوں دیکھ سکتے ہیں۔” وفاقی چانسلر اینجلا مرکل نے ایک تقریب میں 64 ویں آئی اے اے کارز کا افتتاح کیا جس میں سیاست، کاروبار اور سماج سے تعلق رکھنے والے کئی اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔

وزمان نے کہا کہ آئی اے اے کا نعرہ– “ایک معیار کی حیثیت سے مستقبل کی آمد” – اس کو واضح کرتا ہے کہ معروف تجارتی میلہ صرف پیش کردہ گاڑیوں کے خیالات پیش کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ان کاروں کے لیے بھی ہے جو جلد سڑکوں پر دوڑنے کے لیے سلسلہ وار ماڈلوں میں سامنے لائی جائیں گی۔ “ترقی اور اس میں پنہاں قوتیت کشش ثقل کی طرح ہیں: جو واضح طور پر ناقابل گفت و شنید ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں جرمن آٹوموٹو صنعت نے ترقی میں تقریباً 100 بلین یورو کی سرمایہ کاری کی ہے اور صرف 2010ء میں اس نے جرمنی میں 3 ہزار سے زائد نئے پیٹنٹ کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ “اس تخلیق کے نتائج کو دیکھنے کے لیے آپ کو پیٹنٹ دفتر جاری کی نہیں ضرورت نہیں بلکہ آپ آئی اے اے آئیے۔” انہوں نے وضاحت کی کہ اختراعات کا بڑا حصہ فراہم کنندگان کی جانب سے آیا ہے، جو کار میں قدر کے اضافے کے 75 کے ذمہ دار ہیں۔

وی ڈی اے صدر نے زور دیا کہ “ساخت اور فراہم کنندگان مل کر ہماری صنعت کے جدت طرازی کے بے مثال استحکام کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ اور یہ صرف ہم ہی نہیں جو ایسا سوچتے ہیں۔ ارنسٹ اینڈ ینگ کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق غیر ملکی آٹوموٹو مینیجرز نے جرمنی کو دنیا کے پرکشش ترین آٹوموٹو مقام کے طور پر منتخب کیا  ہے۔ یہ صرف جدت پسندی کی طرف سفر کی وجہ سے نہیں بلکہ معیار اور حاصل خیزی کی وجہ سے بھی ہے۔”

وزمان نے تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سال 2008ء اور 2009ء میں “انتظامی اور کام کی انجمنوں، تجارتی اتحاد آئی جی میٹل اور وی ڈی اے، تمام نے مجتمع ہو کر، بمع جرمن حکومت کی خصوصی ہدایات کے ساتھ مختصر وقتی کام کی توسیع نے بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آئیے اس تاریخ کو مل جل کر رقم کرتے ہیں۔” افرادی قوت میں بھی بحالی بھی آئی ہے: آج آٹوموٹو صنعت میں جرمنی میں 7 لاکھ 24 ہزار 100 افراد ملازم ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ وی ڈی اے صدر نے چانسلر مرکل کی توجہ نقل و حرکت کو سستا رکھنے کے لیے اتحادی معاہدے میں کیے گئے سیاسی وعدےکی جانب دلائی۔ “یہ آپ کو گاڑیاں چلانے والوں کی جانب سے خصوصی شناخت دے گا۔”

کاربن ڈائی آکسائیڈ کےاخراج کے حوالے سے وزمان نے کہا کہ “ہم صرف باتیں نہیں کرتے – عمل کر کے دکھاتے ہیں۔” چار سال قبل جرمنی میں نئی رجسٹر ہونے والی مسافر گاڑیاں اوسط 170 گرام فی کلومیٹر کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی تھیں، لیکن دو سال قبل ہی یہ اوسط 154 تک گر گیا تھا۔ اس وقت یہ 145 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ فی کلومیٹر ہے۔ اس کے سبب فی 100 ایندھن کی کھپت 5.9 لیٹرز ہے۔” جرمن گروپ برانڈز خاص طور پر بڑی پیشرفت کرنے کے قابل ہیں۔ مثال کے طور، جرمن برانڈز کے لیے نئی رجسٹر شدہ مسافر گاڑیوں کی کاربن ڈائی آکسائیڈ قدر، اوسطاً، تمام دس شعبہ جات میں حریفوں سے کم تھی۔

وزمان نے کہا کہ “یہاں فرینکفرٹ میں ہم مستقبل کی کاربن ڈائی آکسائیڈ خوراک کی تراکیب کا مظاہرہ کر رہے ہیں: آپٹمائزڈ اعلیٰ درجے کا داخلی آتش گیری انجن، ہائبرڈ کاریں، پلگ-اِن گاڑیاں اور رینج ایکسٹینڈرز، جمع 100 فیصد بیٹری سے چلنے والی برقی گاڑیاں اور فیول سیلز کی گاڑیاں۔” انہوں نے مزید کہا کہ آئی اے اےنے برقی نقل و رکت کے لیے ایک ایک پورا ہال وابستہ کر رکھا ہے۔  وی ڈی اے صدر نے کہا کہ “تو اس طرح –اگر آپ چاہیں  تو- آپ دنیا کے سب سے بڑے برقی نقل و حرکت کے میلے میں بھی آ سکتے ہیں۔”

مالیاتی مارکیٹوں کی صورتحال کے حوالے سے وزمان نے کہا کہ “ہم ابھی تک بحران کے دور  کا خاتمہ نہیں کر چکے اور مالیاتی مارکیٹ اب بھی مندی کی شکار لگتی ہیں۔ البتہ حقیقی زندگی نے اطمینان کو یقینی بنایا ہے۔ 2011ء ایک آٹوموٹو سال میں تبدیل ہو رہا ہے۔ 65 مسافر گاڑیوں کی فروخت کے ساتھ عالمی مارکیٹ اس سال پھیلے گی، جو گزشتہ سال قبل کے مقابلے میں 10 ملین زیادہ ہے اور ایک نیا ریکارڈ ہے۔ 2020ء کے لیے پیش بینی دنیا بھر میں 90 ملین مسافر گاڑیوں کی فروخت ہے!”

وزمان نے کہا کہ آٹوموٹو کاروبار حال ہی میں بحالی کے عمل سے گزر رہا تھا۔ “یہ کوئی نئی پیشرفت نہیں ہے۔ لیکن معیشت کی میری سمجھ کے مطابق، ‘گھٹتی ہوئی قوتیت’ اور ‘کساد بازاری’ کی غلط بات کے درمیان بہت فرق ہے۔” انہوں نے اضافہ کیا کہ سب سے پریشان امریکہ اور چند یورپی ممالک میں قرضہ جات کی صورتحال تھی۔ “حال اور مستقبل کے لیے لیے گئے یہ ‘قرضہ جات’ معقول انداز سے اور مضبوط قیادت کے تحت ختم کر دینا چاہیے۔ اگر بین الاقوامی قرضے کا تازیانہ ختم ہو سکتا ہے تو مالیاتی مارکیٹوں کے استحکام کے لیے اعتماد بھی بحال ہوگا۔ جرمن حکومت کو ہماری مدد حاصل تھی، اگر وہ مستقل یورپی خیال اور ہماری مشترکہ کرنسی کی مدد کرتا، تو معاً تسلسل سے ایک یورپی قرضہ حد تک پہنچ جاتا۔” صرف ایک مستحکم مینوفیکچرنگ سیکٹر، ایک مضبوط صنعتی بنیاد کے ساتھ جرمنی اور یورپ میں چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔  “مالیاتی مارکیٹوں کو مینوفیکچرنگ سیکٹر کو ایک مرتبہ پھر خدمات پیش کرنا ہوں گی۔ کمپیوٹر کی مدد سے زیادہ تسلسل کے ساتھ تجارت اور غیر شفاف مالیاتی مصنوعات کو جامع “ری نیچریشن’ کی ضرورت ہوتی ہے یعنی اس شعبے کی عالمی باقاعدگی کا عمل۔ اور ایک چیز لازماً لاگو ہوگی اگر یورپ عالمی مسابقت میں اپنا مقام برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کمزور ترین کبھی بھی معیار مرتب نہیں کرتے،بلکہ یہ سب سے جدید اور بہترین  کا کام ہے۔” وزمان نے کہا۔

آئی اے اے تجارتی ایام 15 اور 16 ستمبر ہیں، اور 64 ویں آئی اے اے کارز 17 سے 25 ستمبر 2011ء تک عوام کے لیے کھلی ہوگی۔ مزید معلومات آن لائن دستیاب ہیں http://www.iaa.de۔

رابطہ:

ایکے ہارٹ روٹر

وی ڈی اے – پریس ڈپارٹمنٹ

ٹیلی فون: +49 30 897842-120

ای میل: rotter@vda.de

ذریعہ: وی ڈی اے وربینڈ ڈیر آٹوموبائل انڈسٹری ای وی