آسٹریلیا، کیوبیک، برطانیہ اور امریکہ کے آتھرز اینڈ آتھرز کے گروپوں نے حق تصنیف کی خلاف ورزی پر ہاتھی ٹرسٹ، جامعہ مشی گن اور چار دیگر امریکی جامعات پر مقدمہ دائر کر دیا

AsiaNet 46308

نیو یارک، 14 ستمبر 2011ء/پی آر نیوزوائر-ایشیانیٹ/

معاملے پر ڈیجیٹل فائلیں گوگل نے فراہم کیں، جیسا کہ پلین ٹفس 7 ملین حقوق تصنیف سے محفوظ شدہ کتب کی بلا اجازت اسکین کو روکنا چاہتا ہے،کانگریسی اقدام زیر غور

آتھرز گلڈ، آسٹریلین سوسائٹی آف آتھرز، یونین دے ایکریوینے اے دے ایکری ویں کیوبیکوئے (UNEQ)، اور آٹھ انفرادی لکھاریوں نے وفاقی عدالت میں ہاتھی ٹرسٹ، جامعہ مشی گن، جامعہ کیلیفورنیا، جامعہ وسکونسن، جامعہ انڈیانا، اور جامعہ کورنیل کے خلاف حقوق تصنیف کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کر دیا ہے۔ پلین ٹف لکھاریوں میں بچوں کی کتابوں کے لکھاری اور خاکہ ساز پیٹ کمنگز، ناول نگار اینجلو لوکاکس، روکسانا رابنسن، ڈینیل سمپسن، اور فے ویلڈن، شاعر آندرے روئے، جامعہ کولمبیا کے پروفیسر اور شیکسپیئر عالم جیمز شاپیرو، اور پولٹر انعام اور نیشنل بک ایوارڈ جیتنے والے سوانح نگار ٹی جے اسٹائلز شامل ہیں۔

جامعات نے گوگل سے تقریباً 7 ملین حقوق تصنیف سے محفوظ شد کتب کے بلا اجازت اسکین حاصل کیے، جن کے حقوق درجنوں ممالک میں مصنفین کے پاس محفوظ ہیں۔ جامعات نے غیر قانون فائلوں کو جامعہ مشی گن کی جانب سے منظم کردہ ذخیرے میں محفوظ کیا جسے ہاتھی ٹرسٹ کا نام دیا گیا۔ جون میں مشی گن نے اپنے طلبہ اور اراکین کلیہ کی جانب سے اس محفوظ شدہ حقوق تصنیف کے حامل کام کے لامحدود ڈاؤنلوڈز کی اجازت دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا جو بننے والے مکتب کے قوانین کے مطابق “لاوارث” لگتا ہے۔ دیگر جامعات نے اگست میں مشی گن کے منصوبے میں شمولیت اختیار کی۔

نام نہاد لاوارث کاموں کا پہلا مجموعہ، جس میں فرانسیسی، روسی اور امریکی مصنفین کے 27 مجموعے شامل تھے، 13 اکتوبر کو ڈھائی لاکھ اساتذہ اور اراکینِ کلیہ کے لیے جاری کرنے کا منصوبہ تھا۔ اضافی 140 کتب، جن میں ہسپانوی،یہودی، فرانسیسی اور روسی زبان شامل ہے، جاری کی جانی ہیں جن کا آغاز نومبر میں ہو رہا ہے۔

آسٹریلین سوسائٹی آف آتھرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینجلو لوکاکس نے کہا کہ “یہ  لکھاریوں کو حقوق سے محروم کرنے کی افسوسناک اور ظالمانہ کوشش ہے، ہو سکتا ہے یہ چند افراد کے لیے اتنا گمبھیر معاملہ نہ ہو، لیکن کتب لکھنا لکھاری کی حقیقی زندگی کا کام اور اس کا ذریعہ معاش ہے۔ امریکی جامعات کے اس گروہ کو کو اختیار حاصل نہیں کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا، کب اور کس طرح لکھاری اپنے حقوق تصنیف کی حفاظت کھوئیں۔ یہ لاوارث نہیں ، بلکہ مغوی کتابیں ہیں۔”

یو این ای کیو کے صدر ڈینیل سمپسن نے کہا کہ “جب مجھے یہ معلوم ہوا تو میں ششدر رہ گیا، کیوبیک، اطالیہ اور جاپان میں موجود لکھاریوں کو کیسے معلوم ہوگا کہ ان کے تخلیقی کاموں کو این آربر، مشی گن کے ایک گروہ کی جانب سے ‘لاوارث قرار دیا جا چکا ہے؟ اگر یہ کالج اپنے قوانین مرتب کر سکتے ہیں، تو پھر ہر ملک کا ہر کالج اور جامعہ ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟”

شکایت میں 7 ملین غیر قانونی ڈیجیٹل فائلوں کی حفاظت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حیران کن ہیں۔ جامعات نے، بغیر اجازت کے، ہزاروں ایڈیشنز کو ڈیجیٹائزڈ کر کے ہاتھی ٹرسٹ کے آن لائن سرور پر منتقل کر دیا ہے، جن میں سائمن دے بیووئے، اطالو کالوینو، برنارڈ کلاویل، امبرتو ایکو، کارلوس فیونٹس، گنٹر گراس، پیٹر ہینڈکے، مائیکل ہویلے بیک، کلیرائس لیس پیکٹر، ماریو ورگس لوسا، ہرتا مولر، ہاروکی موراکامی، کینزابرو اوئی، اوکتاویو پاز اور ہوزے سیراماگو سمیت دیگر ان گنت لکھاریوں کے ترجمے شامل ہیں۔ تقریباً ہر ملک کے تخلیقی کام کو ڈیجیٹائزڈ کیا گیا ہے۔ ہاتھی ٹرسٹ کے ڈیٹا بیس میں 2001ء میں شایع ہونے والی 65 ہزار سے زائد تصانیف موجود ہیں، مثال کے طور پر چین، فرانس، جرمنی، بھارت، انڈونیشیا، اطالیہ، جاپان، روس، جرمنی، ہسپانیہ اور برطانیہ، میں اس سال شایع ہونے والی ہزاروں تصانیف، اور آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، مصر، اسرائیل، لبنان، میکسیکو، نیدرلینڈز، فلپائنز، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ، تھائی لینڈ، ترکی اور ویت نام کی سینکڑوں تصانیف شامل ہیں۔

آتھرز گلڈ کے صدر اسکاٹ ٹورو نے کہا کہ “یہ کتابیں، جامعات اور گوگل کے غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے، غیر ضروری اور ناقابل برداشت ڈیجیٹل خطرے سے دوچار ہیں۔ حتیٰ کہ اگر یہ احمقانہ و عارضی منصوبے کے لیے بھی نہیں، تب بھی ہمیں ڈیجیٹل ذخیرے سے بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ لکھاری اپنے کاموں کے حوالے سے ایسے گروہ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتے جو اپنی مرضی کے قانون مرتب کر رہا ہو۔”

گوگل کا لائبریری اسکیننگ منصوبہ پہلے ہی نیو یارک میں وفاقی کلاس-ایکشن مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔ اس جمعرات 15 ستمبر کو جج ڈینی جن کے روبرو اس مقدمے میں ایک اسٹیٹس کانفرنس طے شدہ ہے۔

فرینکفرٹ کرنٹ کلائن اینڈ سیلز کے اٹارنیز ایڈورڈ روزنتھال اور جیریمی گولڈمین اس مقدمے میں پلین ٹفس کی نمائندگی کر رہےہیں۔

ذریعہ: دی آتھرز گلڈ

رابطہ: ڈی کے سی پبلک ریلیشنز،

+1-212-685-4300