جے آر کا ان سائیڈ آؤٹ پروجیکٹ ہزاروں اسرائیلی اور فلسطینیوں کو اپنی تصاویر ظاہر کرنے کے لیے مدعو کرتا ہے

AsiaNet 46225

پیرس، 8 ستمبر 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

ٹائم از ناؤ، یالا! – جے آر تصویریں کھینچنے اور گلیوں میں چسپاں کرنے کے لیے سب کو فوٹو بوتھز فراہم کریں گے

مصور اور ٹی ای ڈی انعام یافتہ جے آر نے آج اپنے اِن سائیڈ آؤٹ پروجیکٹ کے حصے ٹائم از ناؤ، یالا! کا اعلان کر دیا ہے جس میں دنیا بھر کے لوگ اپنے علاقوں کی دیواروں اور گلیوں میں بڑی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر چسپاں کر کے اپنے یقین کا اظہار کریں گے۔

ٹائم از ناؤ، یالا! اس وقت اسرائیل (تل ابیب) اور فلسطین (بیت اللحم اور رملہ) میں جاری ہے۔ جے آر اور ان کی ٹیم نے تین عظیم الجثہ فوٹوبوتھز قائم کیے گئے ہیں، جو 3 سے 11 ستمبر تک چلیں گے، اور ہر روز تقریبا ایک ہزار تصاویر جاری کریں گے۔ فلسطینی اور اسرائیلی باشندوں کو ان بوتھز کا دورہ کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ہے جہاں وہ ایک ذاتی رائے کے بدلے میں ایک بڑے حجم کا پورٹریٹ حاصل کر کے اسے اپنی خواہش کے مطابق کہیں بھی چسپاں کر سکتے ہیں، انفرادی طور پر یا ایک گروہ کی صورت میں بھی۔

جے آر نے کہا کہ “جب میں نے پہلی مرتبہ فیس2فیس پروجیکٹ پر یہاں کام کیا تھا، تو میں نے ایک جیسے کام کرنے والے اسرائیلی اور فلسطینی باشندوں کے پورٹریٹس چسپاں کیے تھے تاکہ ظاہر کیا جائے کہ اختلافات کے باوجود فلسطینی اور اسرائیلی ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے کافی حد تک ایک جیسے ہیں۔ اور پھر میں 2010ء میں پہلے دوروں کو تشکیل دینے کے لیے واپس آیا جس نے اسی دورے میں لوگوں کے لیے اسرائیل اور فلسطین دونوں کو دریافت کرنے کی ممکن بنایا ۔ اب میں صرف ایک پرنٹر کی حیثیت سے واپس آیا ہوں، لوگوں کو مفت میں فوٹو بوتھز دے رہا ہوں جہاں وہ اپنے پورٹریٹس حاصل کر سکتے ہیں، اپنے موقف کو پھیلا سکتے ہیں اور اپنے علاقوں کی گلیوں میں چسپاں کر سکتے ہیں۔ ہر شخص اس فن پارے کے ذریعے کہانی بیان کر سکتا ہے، اور ٹائم از ناؤ اس اظہار کے لیے رکاوٹوں کو توڑ رہا ہے اور لوگوں کو وہ ذریعہ دے رہا جس کے ذریعے انہیں دیکھا اور سنا جائے۔”

اسرائیلی/فلسطینی صورتحال کے دوراہے –عرب دنیا کی از سر نو تشکیل اور اسرائیلی معاشرے میں سماجی انصاف پر زور – پر پہنچنے کے پیش نظر ٹائم از ناؤ اس خاموش اکثریت کی آواز سننے جا رہا ہے جو سمجھتی ہے کہ 2 لوگوں کے لیے 2 ریاستوں کا حل نفاذ کا منتظر ہے، اور دونوں کے لیے امن و ترقی لائے گا۔

جے آر نے کہا کہ “ہم ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ سرحد کے دونوں اطراف امن کے حامیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور نوجوان آگے بڑھنا اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارا کردار صرف اسرائیل اور فلسطین دونوں میں مثبت عوامی بصری بیان تخلیق کرنا ہے۔”

منصوبے کا نام “ٹائم از ناؤ، یالا!” رکھا گیا ہے کیونکہ “یالا!” ایک عربی لفظ ہے جسے فلسطینی اور اسرائیلی دونوں “چلو” کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جے آر نے ٹی ای ڈی انعام حاصل کرنے کے بعد ان سائیڈ آؤٹ پروجیکٹ تخلیق کیا –اس انعامی رقم سے ممتاز شخصیت کی دنیا کو تبدیل کرنے کی خواہش جاگی۔ اس خواہش کے ساتھ جے آر نے بڑے عالمی، مشترکہ فنی منصوبے کو جاری کیا۔ مارچ 2011ء میں اپنی خواہش کے اظہار کے بعد برازیل، تیونس، فرانس، امریکہ، جرمنی، پاکستان، جاپان، نیوزی لینڈ، یوراگوئے، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کے 40 ہزار سے زائد افراد نے اپنے پورٹریٹس پیش کیے۔

ان سائیڈ آؤٹ اسرائیل و فلسطین: ٹائم از ناؤ، یالا! اب تک کا سب سے بڑا مجموعی ایکشن بن سکتا ہے۔ ایک مرتبہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ، اس کے اثرات کو ظاہر کرنے کے لیے عربی، عبرانی، فرانسیسی اور انگریزی میں ایک کتاب شایع کی جائے گی۔ ہدایت کار ایلسٹر سڈنز کی جانب سے ایک مختصر دستاویزی فلم بھی بنائی جائے گی، جو ان سائیڈ آؤٹ پروجیکٹ کو دیکھ رہے ہیں اور تیونس کے بارے میں ایک مختصر فلم پہلے ہی جاری کر چکے ہیں [http://www.youtube.com/theinsideoutchannel ]۔

ٹی ای ڈی انعام کی ڈائریکٹر ایمی نوووگراٹز نے کہا کہ “جے آر کے ان سائیڈ آؤٹ پروجیکٹ سے سامنے آنے والی تصاویر اور کہانیوں سے متاثر نہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ کئی مثبت کہانیاں تنازع میں کھو جاتی ہیں، اور میرا یقین ہے کہ ان سائیڈ آؤٹ اس نظریے کو ختم کر رہا ہے اور لوگوں کو دنیا کے سامنے ظاہر کرنے کا موقع دیا ہے کہ وہ کون ہیں اور وہ کیا سوچتے ہیں۔ مجھے کوئی شبہ نہیں کہ ٹائم از ناؤ، یالا! زیادہ خوبصورت تصاویر، زبردست لمحات اور پرامید طور پر تبدیلی کے لیے ایک موقع فراہم کرے گا۔”

ان سائیڈ آؤٹ پروجیکٹ کے بارے میں

ان سائیڈ آؤٹ ایک بڑے پیمانے پر مشترکہ فنی منصوبہ ہے جو ذاتی شناخت کے لیے پیغامات کو فن پاروں میں تبدیل کرتا ہے۔ ہر کسی کو دنیا بھر میں بلیک اینڈ وائٹ تصویری پورٹریٹ استعمال کر کے ان کہی کہانیوں اور لوگوں کی تصاویر کو دریافت، ظاہر اور پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل طور پر اپلوڈ کی گئی ان تصاویر کے پوسٹرز بنائے جاتے ہیں اور منصوبے کے شریک تخلیق کاروں کو بھیجے جاتے ہیں، تاکہ وہ اپنے علاقوں میں ان کی نمائش کریں۔ لوگ انفرادی طور پر یا گروپ کی صورت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ پوسٹرز کہیں بھی لگائے جا سکتے ہیں، ایک دفتری کھڑکی پر، ایک اجاڑ عمارت کی دیوار کے ساتھ  واحد تصویر کی صورت میں یا ایک مکمل اسٹیڈیم میں۔ یہ نمائشیں دستاویزات، آرکائیو کا حصہ بنائی جائیں گی اور http://www.insideoutproject.net پر آن لائن پیش کی جائیں گی۔

ان سائیڈ آؤٹ پروجیکٹ کو ٹی ای ڈی انعام کی سپورٹ حاصل ہے جو ہر سال ایک “دنیا کو تبدیل کرنے کی خواہش” کی حامل غیر معمولی شخصیت کو پیش کیا جاتا ہے۔ ٹی ای ڈی انعام غربت کا  خاتمہ کرنے، مذہبی عدم برداشت کا مقابلہ کرنے، عالمی صحت کو بہتر بنانے، بچوں میں موٹاپے سے نمٹنے، تعلیم کو بہتر بنانے اور اب دنیا بھر میں فن کو تحریک دینے کے لیے مدد کر رہا ہے۔

 

روابط:

http://www.tedprize.org

http://www.jr-art.net

http://www.dailymotion.com/jr

http://www.youtube.com/user/TheInsideOutChannel

http://www.facebook.com/pages/JR-Artist/223272651023002

http://www.facebook.com/timeisnowyalla

 

ذریعہ: ٹی ای ڈی انعام

 

رابطہ: ایرن آلوائز

+1-202-446-8265

eallweiss@groupsjr.com