ورلڈ انجینئرز کنونشن 2011ء کے لیے دعوت نامہ برائے ذرائع ابلاغ

AsiaNet 45513

جنیوا، 19 جولائی/ پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

ستمبر 2011ء میں جنیوا بین الاقوامی انجینئرنگ و توانائی ماہرین کے اجتماع کا مقام بن رہا ہے۔ رواں سال کے اجتماع کی توجہ توانائی کے ماحول دوست مستقبل کی تعمیر کے لیے عالمی چیلنجز پر مرکوز ہے۔ منتظمین نے دنیا بھر کے تمام حصوں سے حکومتی نمائندگان، معروف سیاست دان اور تحقیق و معیشت کے شعبوں کی فیصلہ ساز شخصیات کو اکٹھا کرنے کا انتظام کیا ہے۔

توانائی کا ایک ماحول دوست مستقبل متعین کرنے کے لیے انجینئرنگ، معیشت، سیاست اور معاشرے کی ایک اجتماعی وابستگی کی ضرورت ہے۔ عالمی انجینئرنگ کنونشن 2011ء دنیا بھر سے فیصلہ ساز شخصیات کو اکٹھا کر رہا ہے – جو اپنے ساتھ اپنا مختلف نقطہ نظر بھی لائیں گے۔ وہ عملی حلوں کی تشریح کریں گے اور ابھرتے ہوئے سوالات پر گفتگو کریں گے۔ 2 ہزار سے زائد بین الاقوامی شرکاء کی توقع ہے۔

جھلکیاں

فوکوشیما: حقائق و نتائج: جاپان اٹامک انرجی ایجنسی (JAEA) کے ڈائریکٹر، جاپان ینوکلیئر انرجی سیفٹی آرگنائزیشن کے صدر اور امریکہ اور فرانس کے ماہرین المناک حادثات کے حقائق و نتائج پر گفتگو کریں گے۔

حکومتی نمائندگان، یونیسکو، آئی ای اے اور ڈبلیو ایف ای او جیسی انجمنوں کے اراکین، انجینئرز، سائنسدان اور کاروباری نمائندے گول میز اجلاسوں میں اپنے نظریے کے بارے میں بات کریں گے۔

اعلان: ڈبلیو ای سی 2011ء ایک اعلان منظور کرے گا جو تجویز پیش کرے گا کہ کم کاربن کی حامل توانائی رسد قابل عمل ہے۔ بیانات پر اجلاس سے قبل بین الاقوامی سطح پر گفتگو کی جائے گی۔

چین، جاپان اور امریکہ کو درپیش آج کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خصوصی سیشنز منعقد ہوں گے۔

دعوت نامہ برائے ذرائع ابلاغ

ہم آپ کو ڈبلیو ای سی 2011ء میں ابلاغی نمائندے کے طور پر پرمسرت طور پر مدعو کرتے ہیں۔ اجلاس سے قبل اور اس کے دوران کلیدی مقررین اور منتظمین کے انٹرویو کے موقع کو استعمال کیجیے۔ اگر آپ دلچسپی رکھتے ہیں تو media@wec2011.ch پر ای میل کیجیے۔

میڈیا ایکریڈٹیشن اور مزید معلومات:  http://www.wec2011.org/Media Corner

ورلڈ انجینئرز کنونشن (ڈبلیو ای سی) 2011ء

انجینئر پاور دی ورلڈ – توانائی کے عالمی چیلنج کا سامنا

4 تا 9 ستمبر، جنیوا، سویٹزرلینڈ

http://www.wec2011.org

 

رابطہ  برائے ذرائع ابلاغ:

کرستا روسازن

media@wec2011.ch

ٹیلی فون: +41-44-445-19-94

 

ذریعہ: ورلڈ انجینئرز کنونشن (ڈبلیو ای سی) 2011ء