عرب انقلابات کے موضوع اسرائیل و فلسطین کے لیے ون وائس کی گفتگو

AsiaNet 45522

لندن، 15 جولائی 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

ون وائس موومنٹ کے رہنماؤں نے جمعرات کو رائل سوسائٹی فار دی آرٹس میں دنیائے عرب میں انقلابات کے موضوع اور اسرائیل و فلسطین کے درمیان امن کے لیے نچلی سطح کو بطور قوت استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110117/DC31246LOGO-b)

180 حاضرین نے مقررین کے پینل کی گفتگو سنی اور ان سے سوالات کیے، جس میں ون وائس اسرائیل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیل ہیرس اور ون وائس فلسطین کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیر مخلوف شامل تھے، جنہوں نے ایک کامیاب بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں سیاست دانوں کی ناکامی کو موضوع گفتگو بنایا۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک پرامن مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے عوام کو قدم اٹھانا ہوگا۔

ہیرس نے کہا کہ “اشرافیہ نے تنازع کے ایک خیالی حل کی کامیابی کی تلاش میں اسرائیلی عوام کو بے وقوف بنایا ہے، یہ ہمارا کام ہے کہ اسرائیل پر ظاہر کریں کہ یہ تنازع کا خاتمہ کر سکتا ہے اور ان کے حالات کو تبدیل کر سکتا ہے۔”

آر ایس اے چیف ایگزیکٹو میتھیو ٹیلر کی زیر نگرانی بحث نے نچلی سطح کے افراد، ادبی شخصیات اور سیاسی اشرافیہ کو اپنے خیالات کو مجتمع کرنے کا موقع فراہم کیا کہ اس غیر یقینی وقت میں مشرق وسطی میں حالات کس طرف جا رہے ہیں۔ انتہائی قابل عزت ڈینس میک شین رکن پارلیمان، سابق وزیر برطانوی دفتر خارجہ اور ڈاکٹر کلیئر اسپنسر، سربراہ مشرق وسطی و شمالی افریقہ پروگرام چیٹ ہیم ہاؤس، پینل کے اراکین میں شامل تھے ۔

یہ تصور کہ مشرق وسطی کی اقوام پر اقرباء پرور آمر حکومت کر رہے ہیں ختم ہورہا ہے۔ عوام میں بڑے پیمانے پر یہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ آزاد تمام افراد کے لیے ایک بنیادی انسانی حق ہے اور ان کی زندگیاں، اظہار رائے اور رائے دہی ہمیشہ سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔

مخلوف نے کہا کہ “فلسطینیوں نے پہلی انتفاضہ کے ذریعے عرب لوگوں کو سکھایا کہ اختیار میں کس طرح لاتے ہیں، لیکن ہمیں اپنے بھائیوں کو اپنی طاقت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے۔ اب لوگ نہیں چاہتے ہیں کہ وہ اپنی اشرافیہ کو ایک مرتبہ پھر ناکام ہونے کی اجازت دیں اور قبضے کے خلاف اور آزادی کے لیے ان کی جدوجہد کو سڑکوں پر لائیں۔”

ڈاکٹر میک شین نے خبردار کرتے ہوئے ایک انتباہی یادداشت پیش کی کہ نچلے پیمانے پر فعالیت – ارادوں کا اچھی طرح علم ہونے کے باوجود – کو اب بھی ذمہ دارانہ سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مناسب نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ “مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ عرب اسپرنگ ایک واضح سیاسی پلیٹ فارم سے محروم نظر آ رہی ہے اور حقیقی تبدیلی کو ایک لچکدار قیادت کی ضرورت ہوگی۔

جان لینڈن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ون وائس یورپ نے کہا کہ “آراء اور تجزیوں کا یہ زاویہ نظر شاندار رہا، طویل عرصے سے یہ تنازع خوفناک صورتحال اور جمود کا شکار ہے۔ آج ہم نے جو کچھ سنا وہ ظاہر کرتا ہے کہ – گو کہ نسل میں پہلی مرتبہ – سیاسی قیادت کے پیروں تلے سے زمین سرک رہی ہے۔ دونوں طرف کے معتدل مزاج افراد کو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہونا ہوگا کہ ان کے رہنما دلیرانہ انداز سے صورتحال کا جواب دیں اس سے پہلے کہ تبدیلی کا یہ موقع ضایع ہو جائے۔”

ون وائس ایک بین الاقوامی نچلے پیمانے تک کام کرنے والی تحریک ہے جس کا مقصد اسرائیلی اور فلسطینی معتدل مزاج حلقوں کی آواز کو اجاگر کرنا ہے اور دو ریاستی حل کے مطالبے کے لیے انہیں قوت بخشنا ہے۔ تحریک اسرائیلی و فلسطینی نوجوانوں کو قائدانہ مہارتوں، غیر متشددانہ فعالیت، اور جمہوری ضوابط پر شعور اور تربیت دیتی ہے۔ ون وائس کو سپورٹ کرنے اور اس کا ساتھ دینے کے لیے www.onevoicemovement.org پر شمولیت اختیار کیجیے۔

ذریعہ: دی ون وائس موومنٹ

رابطہ:

جوئل براؤنولڈ،

ڈائریکٹر خارجی تعلقات،

پیس ورکس فاؤنڈیشن،

ون وائس،

ٹیلی فون: +44-208-948-5218،

فیکس: +44(0)208-332-6423،

www.OneVoiceMovement.org