پیباڈی انجینئرنگ اور سنکیانگ کی حکومت سنکیانگ، چین میں 50 ملین ٹن سالانہ سطحی کان کی تعمیر کریں گے

Asianet 45506

سنکیانگ، چین، 14 جولائی 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

پیباڈی انرجی (این وائی ایس ای: BTU) اور حکومت سنکیانگ اویغور خود مختار علاقہ نے آج ایک بنیادی ڈھانچے کے معاہدہ کیا ہے جس کے مطابق وہ ایک جدید 50 ملین ٹن سالانہ سطحی کان کی تیاری کے لیے کام کریں گے جو کئی دہائیوں تک چلے گی۔

معاہدے پر  آج سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی میں ایک تقریب کے دوران کیے گئے جس میں پیباڈی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر گریگری ایچ بوائس، پیباڈی کے سینئر نائب صدر فریڈرک ڈی پالمر، پیباڈی کے صدر برائے ایشیا زین چن شی اور سنکیانگ کی حکومت کے اعلی عہدیداروں نے شرکت کی۔ معاہدے کی تخلیق میں شامل پارٹی اراکین میں پارٹی سیکرٹری چانگ چن سیان، گورنر نیور بائکیلی اور نائب گورنر کوریسی مائیہاسوتی شامل تھے۔

بوائس نے کہا کہ “پیباڈی دنیا کی سب سے بڑی اور تیزی سے ابھرتی ہوئی کوئلے کی مارکیٹ میں عالمی معیار کی بڑی سطحی کان کو جدید ترین بنانے کے لیے حکومت سنکیانگ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر  فخر محسوس کرتا ہے۔ ہم مل جل کر سنکیانگ کے توانائی کے وسیع ذخائر کے مکمل فوائد ظاہر کر سکتے ہیں تاکہ ضروری توانائی کی رسد حاصل کی جا سکے اور روزگار کی تخلیق، اقتصادی ترقی اور سماجی ذمہ داری کے ذریعے خطے کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔”

گورنر بائیکیلی نے کہا کہ “ہم پرخلوص تمنا رکھتے ہیں کہ پیباڈی اپنی جدید ترین کان کنی کی تکنیک، انتظامی نظاموں اور ماحولیاتی تحفظ اور حفاظت کے معیارات کے نفاذ کے ذریعے اس تعاون پروگرام کو چین بلکہ دنیا کی جدید ترین کوئلے کی کان میں بدل دیں کے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا سنکیانگ ریجنل کمیٹی اور سنکیانگ کی عوامی حکومت سنکیانگ میں پیباڈی کے ترقیاتی کاموں کو مکمل سپورٹ دے گی کہ وہ جلد از جلد تعاون پروگرام کو شروع کرے، جس کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فریقین کے لیے بہترین ممکنہ فائدہ تخلیق کرے گا۔”

معاہدے کی شرائط کے تحت پیباڈی کان کی تعمیر، انتظام اور چلانے کا کام کرے گا، جو چین کی سب سے بڑی سطحی کانوں میں سے ایک ہوگی، جس کے لیے تحفظ، تربیت، پیداواری صلاحیت، وسائل کی بحالی، ماحولیاتی معیارات اور زمین کی بحالی کی بہترین مشقوں کو استعمال کیا جائے گا۔

سنگیانگ چین کا سب سے بڑا انتظامی علاق ہے جس میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ چین کے کل ذخائر کا 40 فیصد ہوں گے۔ حکومت امید کرتی ہے کہ سنکیانگ کے کوئلے کے ذخائر کا اضافہ 2010ء میں 100 ملین ٹن سے ایک ارب ٹن سے زائد تک ہو سکتا ہے۔

ایک نیا ریل رابطہ زیر تعمیر ہے جو 2013ء تک مکمل ہو جانے کا امکان ہے اور یہ چین کی تیزی سے ابھرتی ہوئی توانائی کی مارکیٹوں کے لیے خطے کو مزید کھول دے گی۔

آنے والے مہینوں میں پیباڈی سنکیانگ حکومت کے تعاون سے ارضیاتی، انجینئرنگ اور ماحولیاتی تجزیے کرے گا تاکہ تنصیب کے لیے حتمی مقام کا انتخاب کیا جاسکے۔ حکومت سنکیانگ منصوبے کے لیے اعلی کوئلے کے وسیلوں کے تعین کو تیز کرنے سے وابستہ ہے۔

چين دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت اور دنیا کا سب سے بڑا توانائی استعمال کنندہ ہے۔ بین الاقوامی انرجی ایجنسی کے مطابق ملک 2035ء تک کوئلے کے ایندھن سے بجلی کی پیداوار کو 600 گیگاواٹ تک لانے کی توقع رکھتا ہے، جس کے لیے ہر سال 2 ارب ٹن کوئلے کی ضرورت ہوگی۔ اس سال چین اکیلے اپنی کوئلے کی طاقت سے بجلی کی پیداوار کی صلاحیت کو 50 گیگاواٹ تک لے جانے کی توقع رکھتا ہے جو سالانہ متعدد ملین ٹن اضافی کوئلے کی استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔

پیباڈی انرجی نجی شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا کوئلے کا ادارہ اور صاف کوئلے کے حل فراہم کرنے میں عالمی رہنما ہے۔ 2010ء میں 246 ملین ٹن کی فروخت اور تقریباً 7 ملینن ڈالرز کی آمدنی کے ساتھ پیباڈی امریکی توانائی کے 10 فیصد اور عالمی بجلی کے 2 فیصد کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔

اس خبری اعلامیہ کے متعدد بیانات مستقبل کے حوالے سے ہیں جن کی تعریف پرائیوٹ سیکورٹیز لٹی گیشن ایکٹ 1995ء میں کی گئی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے یہ بیانات متعدد مفروضوں پر مبنی ہیں جن کوادارہ معقول سمجھتا ہے، لیکن یہ متعدد عدم ممکنات اور وسیع کاروباری خطرات سے دوچار ہوتے ہیں جو حقیقی نتائج کو توقعات کے بالکل برعکس کر سکتے ہیں۔ ان عوامل کی درست پیش بینی کرنا مشکل ہے اور  یہ ادارے کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو  سکے ہیں۔ ادارہ مستقبل کے حوالے سے ان بیانات کو اپ ڈیٹ کرنے کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ نتائج کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھنے والے یہ عوامل، جن میں اس اعلامیہ میں پیش کردہ کے علاوہ دیگر خطرات بھی شامل ہیں، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے روبرو پیش کی گئی ادارے کی رپورٹوں میں تفصیلاً درج ہیں۔

 

رابطہ:

بیتھ سٹن

(314) 342-7573

ذریعہ: پیباڈی انرجی