دوسری سالگرہ کے جشن کے ساتھ فلائی دبئی کی متاثر کن ترقی

Asianet 45261

دبئی، متحدہ عرب امارات، 29 جون 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

“مستقل، معیاری خدمات نے فلائی دبئی کو ایک انتہائی محبوب برانڈ بنا دیا ہے” شیخ احمد بن سعید المکتوم

دبئی کی پہلی کم خرچ ایئرلائن نے یکم جون 2009ء کو اپنی پہلی پرواز کے بعد سے اب تک ناقابل یقین ترقی کی ہے

“اگر ہم متحدہ عرب امارات جیسے کاروبار کے لیے انتہائی سازگار ماحول میں کام نہ کر رہےہوتے تو فلائی دبئی اتنی تیزی سے نہ پھلتی پھولتی،” سی ای او غیث الغیث

دبئی کی پہلی کم خرچ ایئرلائن فلائی دبئی زبردست اعداد و شمار کے ساتھ اپنی دوسری سالگرہ تک پہنچ چکی ہے جو ایئر لائن کی بڑھتی ہوئی کامیابی اور متحدہ عرب امارات کی ہوا بازی کی  مارکیٹ کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

ملٹی میڈیا نیوزریلیز دیکھنے کے لیے کلک کیجیے:

http://multivu.prnewswire.com/mnr/prne/flydubai/50523/

چیئرمین فلائی دبئی عزت مآب شیخ احمد بن سعید المکتوم نے کہا کہ “صرف دو سال کے عرصے میں فلائی دبئی اب خطے کے ہر گھر کا ایک مقبول نام بن چکا ہے۔ فلائی دبئی نے اپنے آپریشنز کے دو سالوں میں مستقل بنیادوں پر ایک معیاری وسستی سروس فراہم کی ہے اور سفر کو زیادہ قابل رسائی اور زیادہ سہل بنانے سے وابستہ رہتے ہوئے ایئر لائن سے لاکھوں افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ یہ مستقل معیاری خدمات کی فراہمی ہی تھی جس نے فلائی دبئی کو ایک انتہائی محبوب برانڈ بنا دیا ہے۔ خلیجی ممالک، مشرق وسطی، شمالی افریقہ، برصغیر پاک و ہند، ایشیا اور یورپ کی انتہاؤں تک پھیلے نیٹ ورک کے ساتھ فلائی دبئی سفر کی طلب کو تحریک دے رہا ہے اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ کاروباری و سیاحتی روابط بڑھانے کی خواہش کے ساتھ نئی مارکیٹيں تلاش کر رہا ہے۔ یہ معیشت کے تمام شعبوں کے لیے فوائد لاتا ہے اور میری نظریں آنے والے کئی سالوں میں ان بہترین کاموں کو جاری رکھنے پر مرکوز ہیں۔”

ایئرلائن نے اپنے آپریشنز کا آغاز یکم جون 2009ء کو کیا تھا جب 189 مسافروں کی حامل پہلی پرواز اس عہد کے ساتھ بیروت کے لیے روانہ ہوئی تھی کہ سفر کو آسان، زیادہ قابل رسائی اور زیادہ سستا بنایا جائے گا۔ مارچ 2008ء میں حکومت دبئی کی جانب سے اعلان کردہ اس ایئرلائن کا مقصد دبئی کے لیے پہلے سے معروف راستوں، جیسا کہ بیروت،  کے لیے ایک کم خرچ متبادل فراہم کرنا اور ساتھ ساتھ باکو، آذربائیجان جیسے متحدہ عرب امارات سے کم براہ راست روابط رکھنے والے مقامات کو بھی کھولنا تھا۔

فلائی دبئی کے سی ای او غیث الغیث نے کہا کہ “دو سال قبل اس مہینے میں ہماری پہلی پرواز نے اڑان بھری تھی۔ یہ ایک حیرت انگیز اور دلچسپ لمحہ تھا لیکن میں نے  کبھی تصور بھی نہ کیا تھا کہ دو سالوں میں ہم آج جیسی مضبوط پوزیشن پر ہوں گے۔ ہماری حکمت عملی ممکنہ حد تک تیزی پھیلنا، جہازوں اور نئے مقامات کی تیز رفتار شمولیت تھی تاکہ کم ترین ممکنہ وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کو یقینی بنایا جا سکے۔ آج ہم 16 ہوائی جہازوں اور 36 مقامات کے حامل ہیں – جو ہمیں تاریخ کا تیز ترین آغاز کرنے والی ایئرلائن بناتے ہیں۔

“اگر ہم متحدہ عرب امارات جیسے کاروبار کے لیے انتہائی سازگار ماحول میں کام نہ کر رہےہوتے تو فلائی دبئی اتنی تیزی سے نہ پھلتی پھولتی۔

الغیث نے مزید کہا کہ “نئے ادارے کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک اس تیزی سے پھیلاؤ کو سنبھالنا تھا جبکہ نظام، طریق کار اور عملے کو بھی برقرار بنانا تھا تاکہ خدمات کی سطح مستقل بنیادوں پر قائم رہ سکے۔فلائی دبئی میں ہم نے یہ مقاصد بھی حاصل کیے اور اس سے کہیں زیادہ بھی۔ ہوا بازی کی صنعت کے لیے ایک مشکل وقت میں کام کا آغاز کرنے کے باوجود فلائی دبئی نہ صرف اپنے بلند حوصلہ ترقی کے منصوبے پر ڈٹا رہا، بلکہ مزید چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے اس میں مزید اضافہ بھی کیا جیسا کہ تمام دیکھ بھال اور انجینئرنگ ازخود کرنا۔ ہم نے یہ تمام منازل کامیابی کے ساتھ عبور کیں اور ساتھ ساتھ بروقت کارکردگی کا ریکارڈ بھی برقرار رکھا جو 85 فیصد کے ساتھ صنعت کے بہترین اوقات میں سے ایک ہے۔ اور بلاشبہ ان سب سے اہم یہ کہ ہمارے تمام مسافر جب بھی فلائی دبئی میں پرواز کے لیے جہاز پر آتے ہیں اب بھی ان کا پرجوش خیرمقدم کیا جاتا ہے۔

“ہم نے نظریے کو کاغذ پر اتارا اور پھر اسے ایک حقیقت کا روپ دے دیا – ایک ایسی حقیقت جو بہترین انداز میں کام کرتی ہے۔ ہم نے نظام، تربیتی منصوبے، طریق ہائے کار مرتب کیے جنہوں نے حکومت دبئی کے وژن کو عملی صورت دی۔ ہم نے ایک بلند نظر منصوبہ شروع کیا اور اس منصوبے کو حقیقت کا روپ دے رہے ہیں۔

“ہم نے بہت مختصر عرصے میں ایک ناقابل یقین حجم حاصل کیا ہے اور اس پر مجھے حقیقتا بہت فخر ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ایسا کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں حکام اور عرب امارات کے لوگوں کی جانب سے جو مدد  ملی وہ ناقابل یقین تھی۔ دبئی کاروبار کرنے کے لیے ایک شاندار مقام اور لوگوں کے آنے اور رہنے کے لیے ایک متاثر کن جگہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ موزوں ترین عملے کو حاصل کرنا چنداں مشکل نہیں ہے۔

“میں فلائی دبئی کے لیے ایسا شاندار ماحول ترتیب دینے پر چند ذمہ داران کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ خصوصی شکریہ بلاشبہ ہمارے چیئرمین شیخ احمد بن سعید المکتوم کا، جن کی رہنمائی نے ہمیں درست طریق پر برقرار رکھا جس کا مقصد عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کے وژن کو پورا کرنا تھا جو فلائی دبئی کے ذریعے دبئی کی تجارتی و سیاحتی ضروریات کو پورا کرنا چاہتے تھے۔

ہماری تیز تر ترقی جی سی اے اے، ڈی سی اے اور دبئی کے ہوائی اڈوں کی مدد کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی تھی جنہوں نے ہمیں تنصیبات و سہولیات فراہم کرنے اور اپنی توسیع کے لیے ضروری آپریٹنگ سلاٹس پیش کرنے کے لیے مل جل کر کام کیا۔ فلائی دبئی کی اس تیز رفتار ترقی نے ان کے وسائل اور تنصیبات پر دباؤ ڈالا کہ وہ بھی تیزی سے ہماری رفتار کے ساتھ بڑھیں اور میں سپورٹ فراہم کرنے اور تحمل پر ان کا شکر گزار ہوں۔

کام کے دو سالوں میں ایئرلائن نے اپنے عہد کے مطابق کام کیا ہے اور بیڑے، نیٹ ورک اور مسافروں میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے کے باوجود اپنی خدمات کے معیار کو اعلی سطح پر برقرار رکھا۔ ایئرلائن کی کارکردگی کو جانچنے کا ایک معیار یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کی دستیاب نشستیں فی کلومیٹر (ASKM) اور آمدنی فی کلومیٹر (RPKM) کتنی ہیں۔ جون 2010ء سے مئی 2011ء تک فلائی دبئی نے گزشتہ 12 ماہ کے مقابلے میں اے ایس کے ایم میں 161 فیصد اور آر پی کے ایم میں 181 فیصد اضافہ کیا۔ صرف یہ بے پناہ اضافہ ہی نہیں بلکہ آر پی کے ایم کا اے ایس کے ایم سے زیادہ بڑھنا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ ایئرلائن بہتر انداز میں کام کر رہی ہے اور اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ زیادہ آمدنی اکٹھی ہو رہی ہے۔

کامیابی کی ایک اور اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ کتنی فلائٹ تاخیر سے پہنچیں۔ اس سلسلے میں فلائی دبئی کا ریکارڈ صنعت کے بہترین اداروں میں سے ایک ہے اور اس کا بروقت کارکردگی پیش کرنے کا تناسب 85 فیصد ہے۔

عملے کو بھرتی کرنے اور ان کو تربیت دینے کے حوالے سے اعلی سطحی کے منصوبوں کی تیاری کی جانب قدم بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایئر لائن نے اپنی از خود مینٹی ننس اور انجینئرنگ ٹیم بھی تشکیل دی ہے تاکہ فلائی دبئی کے بڑھتے ہوئے فضائی بیڑے کی دیکھ بھال کی جا سکے۔

80 ہزار سے زائد افراد نے ایئرلائن میں شمولیت کے لیے درخواستیں دیں، جو بہترین باصلاحیت افراد کے لیے پرکشش ادارہ ہونے اور انہیں بھرتی کرنے کے لیے فلائی دبئی کی مضبوطی ظاہر کرتا ہے۔

ملازمین کی تعداد کے حال ہی میں ایک ہزار کا ہندسہ عبور کرنے کے ساتھ یہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ ہر عہدے کے لیے 80 درخواستیں موجود ہیں، جو ایئرلائن کو بہترین امیدواروں میں سے انتخاب کرنے کا موقع دیتی ہے۔

پروازوں میں 78 فیصد، جہازوں میں 100 فیصد، راستوں میں 150 فیصد اور مسافروں میں 200 فیصد اضافے کے ساتھ اب واضح ہو چکا ہے کہ فلائی دبئی کیوں دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے چلنے

والی دوسری سب سے بڑی ایئرلائن ہے۔

دبئی ایئرپورٹس کے سی ای اے پال گریفتھس نے کہا کہ “صرف دو سالوں میں فلائی دبئی خطے کی ہوا بازی کی صنعت کی ایک بڑی  قوت بن چکی ہے۔ دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز بھرنے والی دوسری سب سے بڑی ایئر لائن کی حیثیت سے فلائی دبئی نے ہوائی اڈے کی مستقل کامیابی اور مسافروں میں اضافے میں اہم کردار اداکیا ہے۔  نئی اور پہلے نہ چھوئی گئی مارکیٹیں کھول کر فلائی دبئی خطے اور اس سے کہیں آگے سے مسافروں کا بڑھتا ہوا حجم دبئی لانے میں مدد کر رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ فلائی دبئی آنے والے سالوں میں قوی سے قوی تر ہوتا جائے گا اور میں مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔”

الغیث نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “آج ایسی ناقابل یقین کامیابیوں کا اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں۔ فلائی دبئی ٹیم نے فلائی دبئی کو اس مقام تک پہنچانے کے لیے سخت محنت کی ہیں اور یہ کامیابی ان کی محنت و جفاکشی کا صلہ ہے۔

“ہماری حکمت عملی محنت کا پورا معاوضہ دینا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مارکیٹ میں ہمارے لیے ایک مقام تھا اور ہم نے سخت محنت کی اور یقینی بنایا کہ ہم اپنا مقام خود بنائیں۔ ہم نے کاروبار میں براہ راست ٹکر لی، تمام رکاوٹوں پر غلبہ پایا اور اسے کارآمد بنایا۔ جب میں گزشتہ دو سالوں پر نظر دوڑاتا ہوں کہ ہم نے پرواز کی اور دیکھا کہ کتنا دور جا سکتے ہیں، تو مجھے فخر محسوس ہوتا ہے۔

“ہم اپنے آپریشنز کے دو سال گزار چکےہے اور اب درست طریق پر ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری حکمت عملی درست ترین ہے۔ فلائی دبئی مستقبل میں جدید اختراعات کے ساتھ نئی مارکیٹوں میں قدم بڑھانے کے لیے بالکل تیار ہے۔ مجھے امید ہے کہ 2011ء فلائی دبئی کے لیے ایک اور اچھا سال ثابت ہوگا۔

:ہدایت برائے مدیران

فلائی دبئی کے بارے میں

مارچ 2008ء میں قائم ہونے والی فلائی دبئی ایک کم خرچ ایئر لائن ہے جس نے اپنے آپریشنز کا آغاز یکم جون 2009ء کو کیا۔ حکومت دبئی کی جانب سے قائم کی گئی فلائی دبئی کا مقصد سفر کو کم پیچیدہ، کم پریشان کن اور کم خرچ بنایا جائے۔

کم خرچ کاروباری نمونے کی طرز پر بنائی گئی فلائی دبئی ایک انتہائی مسابقتی قیمتوں کے جیب کے لیے ہلکی مصنوعات پیش کرتا ہے۔ اس کی ویب سائٹ (http://www.flydubai.com) صارفین کے لیے ایک اہم انٹرفیس ہے، ساتھ ساتھ کال سینٹر (+9714 301 0800) اور سفری شراکت دار بھی ۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے:

ہیتھر ایسٹبری، پی آر مینیجر برائے فلائی دبئی

موبائل: (+971)50-950-8420؛

ای میل: heather.astbury@flydubai.com

میبھ او ریلی، سینئر اکاؤنٹ مینیجر، ڈی اے بی او اینڈ کمپنی

موبائل: +971-50-915-5735؛

ای میل: meabh.o@daboandco.com

ذریعہ: فلائی دبئی