ٹائیفائیڈ کے خلاف اتحاد نے ٹائیفائیڈ ویکسین کے لیے عالمی ادارۂ صحت کی پری کوالیفکیشن کو سراہا ہے

Asianet 45201

واشنگٹن، 23 جون 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفکیشن ان افراد تک ویکسین پہنچانے کی سمت “اہم قدم” ہوگا جنہیں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے

میعادی بخار یعنی ٹائیفائیڈ کی ویکسینوں کی عالمی سطح پر فراہمی کے سلسلے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے Typhim Vi (ر) کے لیے پری کوالیفکیشن کی اجازت دے دی ہے، جو سنوی کے ویکسین شعبے سنوفی پاسچر کی جانب سے تیار کی گئی ٹائیفائیڈ Vi پولی سیکارائیڈ ویکسین ہے۔

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110623/DC25029LOGO)

یہ میعادی بخار کی پہلی ویکسین ہے جسے ڈبلیو ایچ او نے پری کوالیفائیڈ قرار دیا ہے، جو یونی سیف اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں اور پان امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن ریوولونگ فنڈ کو ویکسین بہم پہنچانے کے لیے کی اجازت دیتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفکیشن جی اے وی آئی الائنس کی مدد کے لیے بھی لازمی ہے۔

ہر سال میعادی بخار کی وجہ سے دنیا بھر میں کم از کم 2 لاکھ اموات ہوتی ہیں اور مزید 16 سے 33 ملین افراد بیمار پڑتے ہیں، اس لیے میعادی بخار کی ویکسینوں کا استعمال اقوام متحدہ کے ہزاریہ ترقیاتی اہداف کے حصول میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔

کراچی، پاکستان کی آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ صحت زچہ و بچہ کے سربراہ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ نے کہا کہ “ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفائیڈ ویکسینز کا بوجھ تلے دبے ممالک کی مخصوص آبادیوں میں استعمال جنوبی ایشیا کے لیے ترجیح ہے، جہاں 5 سال سے کم عمر بچوں پر بیماریوں کا بہت بوجھ ہے۔”

نیپال کی وزارت صحت و بہبود آبادی کے محکمہ خدمات صحت کے شعبہ صحت اطفال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیام راج اپریتی نے کہا کہ “ٹائیفائیڈ ویکسین کے لیے ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفکیشن نیپال اور ایشیا بھر میں اس ویکسین کی بچوں کے لیے دستیابی کے عمل کو تیز کرے گی، جہاں میعادی بخار کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔”

ڈبلیو ایچ او ساؤتھ ایسٹ ایشیا ریجنل آفس (SEARO) ویکسین ترجیحاتی ورکشاپ کی جانب سے ٹائیفائیڈ کی ویکسینز کو “فوری” نفاذ کی ترجیح دی گئی ہے۔ انتہائی خطرے سے دوچار گروہوں میں ٹائیفائیڈ ویکسین کا استعمال ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ترجیح شدہ ہے۔ ٹائیفائیڈ کی ویکسینز جی اے وی آئی الائنس کی جانب سے بھی ترجیح دی جاتی ہیں تاہم انہیں ابھی تک فنڈنگ نہیں کی گئی۔

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ میں ٹائیفائیڈ کے خلاف اتحاد کے دفتر کے ڈائریکٹر کرسٹوفر نیلسن، پی ایچ ڈی ایم پی ایچ نے کہا کہ “میعادی بخار کے نتیجے میں ہونے والی اموات اور بیماریوں سے تحفظ کے لیے ویکسین سب سے بڑی امید ہیں، اب فراہم کنندگان، بین الاقوامی اداروں، عطیہ دہندگان اور مقامی حکومتوں کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ ویکسین ان بچوں تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔”

ٹائیفائیڈ بخار کے بارے میں:

ٹائیفائیڈ بخار ایک خطرناک جراثیمی انفیکشن ہے جو اینٹیرک پیتھوجن سلمونیلا اینٹریکا سیروویر ٹائفی (S. Typhi)  سے ہوتا ہے۔ ایس ٹائفی انسانی فضلے سے آلودہ پانی یا غذا کے ذریعے پھیلتا ہے۔ گو کہ یہ مخصوص ممالک میں پایا جانے والا مرض ہے، لیکن ایس ٹائفی عالمگیر سطح پر وبائی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کی علامات سامنے آنے کے ایک سے تین ہفتے تک ظاہر ہوتی ہیں، اور درمیانے درجے سے لےکر شدید تک ہو سکتی ہیں۔ اس کی علامات میں تیز بخار، بے چینی، سر درد، قبض یا اسہال، سینے پر گلابی دانے، اور تلی اور جگر میں ورم شامل ہیں۔ شدید ٹائیفائیڈ آنتوں میں چھید اور موت کا سبب بن سکتا ہے۔ ٹائفائیڈ بخار کا علاج اینٹی بایوٹکس کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم عام اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بہت زیادہ ہے۔ اس لیے مناسب اینٹی بایوٹک علاج کے بغیر ٹائیفائیڈ سے اموات کی شرح 30 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اینٹی بایوٹک کے خلاف ٹائیفائیڈ کی مزاحمت کا پھیلتا اور بڑھتا ہوا نفوذ ویکسین متعارف کروانے کی فوری ضرورت کو بڑھاتا ہے۔ جرثوموں کا حامل ایک بظاہر صحت مند انسان کی حالت بعد ازاں شدید بیماری میں بھی بدل سکتی ہے۔ بظاہر صحت مند نظر آنے والے افراد کو خوراک کو چھونے کے عمل سے نکال دینا چاہیے۔ مزید معلومات کے لیے http://www.who.int/topics/typhoid_fever/ ملاحظہ کیجیے۔

ڈبلیو ایچ او پری کوالیفائیڈ ویکسینز کے بارے میں:

http://www.who.int/immunization_standards/vaccine_quality/PQ_vaccine_list_en/en/index.html

جی اے وی آئی الائنس نیو اینڈ انڈریوزڈ سپورٹ کے بارے میں

http://www.gavialliance.org/support/index.php

اقوام متحدہ کے ہزاریہ ترقیاتی اہداف کے بارے میں:

http://www.un.org/millenniumgoals/

ٹائی فم Vi (ر) کے بارے میں:

http://www.who.int/immunization_standards/vaccine_quality/pq_238_typhoid_20dose_sanofi_pasteur/en/index.html

سنوفی پاسچر کے بارے میں

http://www.sanofipasteur.com/sanofi-pasteur2/front/index.jsp?siteCode=SP_CORP

ٹائیفائیڈ کے خلاف اتحاد کے بارے میں:

ٹائیفائیڈ کے خلاف اتحاد (Coalition Against Typhoid) سائنسدانوں اور مامونیت کے ماہرین کا ایک عالمی فورم ہے جو مقامی امراض کے شکار ممانک میں ٹائیفائیڈ کی ویکسی نیشن کو بہتر بنا کر زندگیوں کو بچانے اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ اتحاد، جس کا دفتر سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ میں واقع ہے، ٹائیفائیڈ ویکسینز تک محفوظ، موثر اور سستی رسائی اور خطرے سے دوچار بچوں کے لیے زندگی بچانے والا تحفظ فراہم کرنے کے لیے عالمی، علاقائی اور مقامی سطح پر تعاون کو بہتر بناتا ہے۔ مزید معلومات کے لیے http://www.sabin.org/advocacy-education/coalition-against-typhoid ملاحظہ کیجیے۔

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ کے بارے میں

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ سائنسدانوں، محققین اور حامیوں کا ایک غیر منافع بخش 501 (سی) (3) ادارہ ہے جو منطقہ حارہ کے قابل علاج اور نظر انداز کیے گئے امراض کی ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث انسانوں کو ہونے والی پریشانیوں کو کم کرنے سے وابستہ ہیں۔ سابن دنیا بھر میں صحت کو خطرات اثر پذیر ترین خطرات میں سے چند کے لیے حل فراہم کرنے کی خاطر حکومتوں، معروف سرکاری و نجی اداروں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ 1993ء میں اورل پولیو ویکسین تیار کرنے والے ڈاکٹر البرٹ بی سابن کے نام پر قائم کیا گیا یہ ادارہ منطقہ حارہ کی قابل علاج بیماریوں کو روکنے، علاج کرنے اور خاتمے کے لیے نئی ویکسینز تیار کرنے، موجودہ ویکسینز کے استعمال کی حمایت کرنے اور سستے طبی علاج تک رسائی میں اضافے کو فروغ دینے کے لیے صف اول میں موجود ہے۔

ذریعہ: سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ

رابطہ: رچرڈ ہیزفیلڈ

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ

+1-202-294-4637

Richard.hatzfeld@sabin.org