چین نے یوکرین کی مشرقی یورپ میں اپنے کلیدی شراکت دار کی حیثیت سے دوبارہ تصدیق کر دی

AsiaNet 45147

کیف، یوکرین، 20 جون 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

صدر عوامی جمہوریہ چین ہو جن تاؤ کے دورۂ یوکرین کے سرکاری دورے کے دوران چین اور یوکرین کے رہنماؤں نے اسٹریٹجک شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ رواں سال دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چین  کو یوکرین کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیحات میں سے ایک رکھنے کے ساتھ یوکرینی قیادت 2012ء تک دو طرفہ اشیاء کے حجم کے 10 ارب امریکی ڈالرز پہنچنے کی توقع رکھتی ہے۔

وکٹر یانوکووچ کے ساتھ اجلاس کے موقع پر پی آر سی کے چیئرمین نے کہا کہ “دونوں قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات تاریخی طور پر قائم ہوئے۔ تقریبا 0 سالوں سے یوکرین اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات مضبوطی سے بڑھ رہے ہیں۔” دورے کے دوران یوکرین کی وزارت اقتصادی ترقی و تجارت اور چین کی وزارت تجارت کے درمیان برآمدی-درآمدی اشیاء کی ایک عارضی فہرست کی فراہمی کے لیے دو طرفہ تعلقات کے پروٹوکول پر دستخط کیے گئے۔ ساتھ ساتھ فریقین نے یوکرینی حکومت کو 12.3 ملین امریکی ڈالر کی مالیت کی مفت مدد فراہم کرنے کے بین الحکومتی پر بھی دستخط کیے۔

اجلاس کے دوران یوکرین کے وزیر توانائی و کوئلے کی صنعت اور چين کی ریاستی توانائی انتظامیہ کے دوران توانائی کے شعبے میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے۔ یادداشت کے مطابق دو طرفہ تعلقات کے اہم شعبے یہ ہیں: تیل و گیس کے شعبے کے منصوبوں مشترکہ شراکت، تعمیرات یا جدید کرنے کی منصوبہ بندی رکھنے والی توانائی کی تنصیبات پر معلومات کا تبادلہ؛ جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں تعاون۔

وکٹر یانوکووچ نے کہا کہ دونوں ممالک جہاز سازی اور انجن کی پیداوار کے شعبے میں ثمر آور تعلقات رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ یوکرین کا ریاستی تعمیراتی ادارہ انتونوف بڑے اور درمیانے حجم کے ہوائی جہازوں، ٹربو جیٹ ٹرانسپورٹ جہازوں، اور اے ای-70، اے این-148 اور اے این-158  کی تیاری کے لیے چینی جہاز ساز اداروں کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔

یہ 2001ء کے بعد کسی بھی چینی صدر کا پہلا دورۂ یوکرین ہے۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر وکٹر یانوکووچ نے گزشتہ ستمبر میں بیجنگ کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ اس کا نتیجہ چین کی جانب سے یوکرین میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں چار ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے عہد کی صورت میں نکلا۔ سرکاری دورے کے دوران فریقین نے یورو 2012ء منصوبوں پر مرکوز سرمایہ کاری کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔

ذریعہ: سی ایف سی کنسلٹنگ ۔