سی جی اے پی مائیکروفنانس کے تصویر کشی مقابلے کے فاتحین کا اعلان

AsiaNet 45049

واشنگٹن، 14 جون 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

2010ء سی جی اے پی مائيکروفنانس تصویر کشی کے مقابلے کا پہلا انعام جاتا ہے محمد رقیب الحسن کو “چمڑہ سازی کی صنعت ” پر۔ حسن نے اپنے آبائی شہر ڈھاکہ میں، جہاں چمڑہ سازی کے بہت سارے چھوٹے موٹے کارخانے ہیں، ایک تصویر لی جس میں ہزاروںکھالیں سورج کی روشنی میں سنہری نظر آ رہی ہیں۔ یہ تیسرا موقع ہے کہ حسن مقابلے کے حتمی امیدواروں میں شامل ہوئے، لیکن انہوں نے اعلی ترین اعزاز پہلی مرتبہ حاصل کیا ہے۔ حسن ایک فری لانس فوٹوگرافر کے طور پر کام کرتے ہیں جبکہ وہ فلپائن میں ادینیو دی منیلا یونیورسٹی میں فوٹوجرنلزم میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما حاصل کر رہے ہیں۔

اس اعلامیہ سے متعلق ملٹی میڈیا اشیاء دیکھنے کے لیے کلک کیجیے : http://multivu.prnewswire.com/mnr/cgap/50702/

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110614/MM18311)

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110412/MM81963LOGO)

2010ء سی جی اے پی مائیکروفنانس تصویر کشی کے مقابلے میں حسن کی تصویر نے دنیا بھر کے پیشہ ور اور غیر پیشہ ور فوٹو گرافرز کی تقریباً 2 ہزار تصاویر کے مقابلے میں فتح حاصل کی [http://www.cgap.org/p/site/c/template.rc/1.26.16410/]۔

جنوبی ایشیائی فوٹوگرافرز نے اولین تین پوزیشنوں پر غلبہ حاصل کیا، لیکن دیگر 20 فاتحین دنیا کے تمام خطوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اور اس سال پہلی مرتبہ چین سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافرز فاتحین میں انتہائی سرگرمی سے سامنے آئے۔

دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی “پٹ سن دیو” از جاشم سلام بنگلہ دیش میں ابھرتی ہوئی پٹ سن کی صنعت کا ایک غیر معمولی زاویہ نظر ظاہر کرتی ہے۔ سلام بنگلہ دیش میں ساؤتھ ایشین انسٹیٹیوٹ آف فوٹوگرافی میں فوٹوجرنلزم کے ڈپلوما کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے مقابلے میں شرکت حاصل کی۔

ججوں نے چار تصاویر کو خصوصی تذکرہ کیا، جن تمام کی تمام نے اپنے بیان اور مزاج کے ساتھ کے ساتھ ساتھ تکنیکی ترتیب میں بھی تہلکہ مچایا۔ مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے جوائے مکھرجی کی “رکشا کھینچنے والا”، مائیکروکریڈٹ صارف ابراہیم کو کم مدوجزر کے دوران دریائے متلا پار کرنےمیں لوگوں کی مدد دینے کو ظاہر کرتی ہے۔ “غذائی کارخانہ” از چینی فوٹوگرافر تیان این چینی پین کیک تیار کرنے والی ایک چھوٹی دکان پر مالک کے پکاتے ہوئے روشنی اور تپش کے نیچے آنے کی منظرکشی کرنے والی تصویر ہے۔

سدپتو داس کی مغربی بنگال میں ایک دادا کی اپنے پوتوں اور پوتیوں کو کہانی سناتے وقت کی تصویر ججوں کی جانب سے ایک انوکھے لمحے  کو محفوظ کرنے والی تصویر قرار دیا گیا۔

ہاؤسن ہو کا بھی “برائے فروخت ہنس” پر خصوصی ذکر کیا گیا، جو چین کے صوبے چی جیانگ میں ایک کسان اور اس کے بیٹے کی ہنسوں کو بازار لے جاتے  ہوئے کی ایک دلچسپ تصویر ہے۔

سی جی اے پی کی سربراہ برائے کمیونی کیشنز جینیٹ تھامس نے کہا کہ “چاہے وہ دودھ کے نمونے کے تجربے کے نتائج کا بے چینی سے منتظر کرتی ہوئی پاکستانی دودھ فروخت کرنے والی خاتون ہوں، یا چین میں ایک تعمیراتی مقام پر عارضی دکان بنانے والا ٹوفو فروخت ، یا قصائی کو ایک بڑی ٹونا مچھلی فروخت کرنےوالا مسقط، عمان کا ماہی گیر، ہر تصویر لوگوں کی ہنر مندی کی شاندار عکاسی کرتی ہے۔ مڈگاسکر سے مدھیہ پردیش سےتک، فلپائن کے ایک موم بتی ساز سے بریسلیو، پولینڈ کے ایک پارچہ فروش تک، یہ تصاویر انتظامی جذبے اور دنیا بھر میں انسانی ہمت کی توانائی ظاہر کرتی ہیں۔”

جیتنے والی تصاویر کا ایک سلائیڈ شو [http://www.cgap.org/p/site/c/media/?play=1.9.50503] اور فاتحین کے بارے میں تفصیلات http://www.cgap.org پر موجود ہیں۔

2011ء سی جی اے پی مائیکروفنانس تصویر کشی کے مقابلے کے لیے انٹریز 15 جون 2011ء سے کھلیں گی۔

ذریعہ: سی جی اے پی

رابطہ: جنییٹ تھامس، +1-202-744-4829، jthomas1@worldbank.org