ڈی ایچ ایل نے بنگلہ دیش میں ہوائی اڈوں پر آفات سے تحفظ متعارف کروا دیا

AsiaNet 44943

بون، جرمنی اور ڈھاکہ، بنگلہ دیش، TBA جون، 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

— ڈوئچے پوسٹ ڈی ایچ اور اور اقوام متحدہ کا مستعدی کا پروگرام “ہوائی اڈوں کو آفات کے لیے تیار رکھیں”

— اگلی تربیت ڈھاکہ اور چٹاگانگ کے ہوائی اڈوں پر ہوگی

ڈوئچے پوسٹ ڈی ایچ ایل جون کے مہینے میں بنگلہ دیش کے ڈھاکہ اور چٹاگانگ ہوائی اڈوں پر اپنی “ہوائی اڈوں کو آفات کے لیے تیار رکھیں” (GARD) تربیت منعقد کرے گا، جو ہوائی اڈوں اور عملے دونوں کو بعد از آفت انتظام و انصرام کے لیے تیار کر رہی ہے۔ تربیت کا مقصد مقامی انتظامات کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے کہ تاکہ آفت زدہ ہوائی اڈوں پر اس وقت آمدورفت کے تنگ راستوں سے بچا جا سکے  جب امدادی سامان کی بڑی تعداد آنے لگے۔ انڈونیشیا اور نیپال میں تربیت کے بعد سامان کی نقل و حمل ےا دنیا کے معروف ادارے نے اپنے GARD مستفیدین میں تیسرے ملک کا اضافہ کیا ہے یعنی بنگلہ دیش۔ چار روزہ پروگرام میں تربیت حاصل کرنے والے – ہوائی اڈے کے عملے کے ساتھ ساتھ مقامی و حکومتی عہدیداران- مقامی ضروریات کا جائزہ لیں گے اور ناگہانی حادثے کی صورت میں منصوبہ بندی بنانا سیکھیں گے۔

(لوگو: http://www.prnasia.com/sa/2011/06/07/20110607646009-l.jpg )

(لوگو: http://www.prnasia.com/sa/2011/06/07/20110607284590-l.jpg )

GARD پروگرام اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے ساتھ ہوائی اڈے پر نقل و حمل کے انتظام کو سنبھالنے کے لیے ہوائی اڈوں کے عملے، مقامی سیکورٹی عہدیداران اور قدرتی آفات کے حوالے سے مقامی اداروں کے نمائندگان کی تربیت کے لیے بنایا گیا تھا۔ 2009ء میں شروع کیا گیا GARD نئے تجربات کے دور سے آگے نکل آیا ہے جنہوں نے ظاہر کیا کہ قدرتی آفات کی زد میں موجود علاقے اور ہوائی اڈوں کو ناگہانی صورتحال کے لیے تیار رکھنا کتنا اہم ہے جیسا کہ فوری طور پر کارروائی کرنا اور قدرتی آفات کے بعد امدادی سامان کی نقل و حمل میں درپیش چیلنجز سے موثر طور پر نمٹنا۔

ڈوئچے پوسٹ ڈی ایچ ایل کے سی ای او فرینک ایپل کہتے ہیں کہ “ہم نے یہ جاننے کے لیے قدرتی آفات کے موقع پر امدادی سرگرمیوں کا وسیع تجربہ حاصل کر لیا ہے کہ ہوائی اڈوں پر نقل و حمل کا موثر انتظام اس وقت بہت ضروری ہے جب معاملہ لوگوں کو ضرورت کے وقت امداد پہنچانے کا ہو۔ GARD منصوبہ ہمیں کسی ناگہانی آفت سے قبل فرصت کے وقت میں اپنے نقل و حمل کے تجربے کو مقامی برادریوں میں منتقل کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ اس طرح GARD قدرتی آفات کے بعد ہماری نمٹنے کی معمول کی سرگرمیوں میں ایک شاندار اضافہ ہے۔”

GARD کے اساتذہ ڈوئچے پوسٹ ڈی ایچ ایل کی جانب سے خصوصی طور پر تربیت یافتہ نقل و حمل اور تربیت دینے والے ماہرین ہیں، جن میں سے چند پہلے ہی ادارے کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ پروگرام میں بطور رضاکار شرکت کر چکے ہیں۔ وہ دارالحکومت ڈھاکہ اور جنوبی بنگلہ دیش میں واقع چٹاگانگ شہر دونوں میں تقریبا 20 شرکاء کو GARD تربیت دیں گے۔ تربیت حاصل کرنے والے افراد میں صرف ہوائی اڈے کے اہلکار ہی نہیں بلکہ سیکورٹی افسران اور عسکری حکام بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں، جیسا کہ عالمی غذائی پروگرام اور یو این اوچا (آفس آف دی کوآرڈی نیشن آف ہیومنٹرین افیئرز) کے نمائندگان بھی اہم شراکت داروں کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔

مینیجنگ ڈائریکٹر ڈی ایچ ایل گلوبل فارورڈنگ بنگلہ دیش جناب نور الدین چودھری نے کہا کہ “GARD ایک کارآمد منصوبہ ہے اور ڈوئچے پوسٹ ڈی ایچ ایل بنگلہ دیش میں ایک بے مثال موقع فراہم کر رہا ہے۔ GARD ان منصوبوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے ڈی ایچ ایل بنگلہ دیش اور دنیا بھر میں میں مقامی افراد کی مدد کر رہا ہے ۔”

GARD تربیتی پروگرام موجودہ صورتحال کے جائزے کے ساتھ شروع ہو رہا ہے، جس میں دستیاب اہلکار، آلات اور فضائی پٹی کی صورتحال شامل ہیں۔ گودام میں خالی جگہ منصوبے کے کلیدی مرتکز علاقوں میں سے ایک ہے۔ تربیت حاصل کرنے والے افراد کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امدادی اشیاء کو محفوظ رکھنے کے آپشنز کا جائزہ لیں اور کیا امدادی سامان کو سنبھالنے کے ضروری آلات موجود ہیں جیسا کہ فورک لفٹ، پیلٹ، دستانے اور ڈبے۔ ورکشاپس میں تربیت حاصل کرنے والے مقامی افراد نتائج کا جائزہ لیں گے اور اسی طرح اپنے حادثاتی منصوبے بنائیں گے۔ GARD کے شرکاء سیکھیں گے کہ ہوائی اڈے پر بین الاقوامی امداد موصول ہونے کے بعد نقل و حمل کے عمل اور صلاحیتوں کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ایک مرتبہ تربیت حاصل کرنے کے بعد شرکاء بنگلہ دیش میں معمول کی بنیادوں پر اپنے حادثاتی منصوبوں کا جائزہ لے سکتے ہیں اور مقامی این جی اوز، حکومت اور ہوائی اڈے کے عہدیداران کے ساتھ کسی بھی بحرانی صورتحال کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ GARD بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے “کمپری ہنسو ڈیزاسٹر مینجمنٹ پروگرام 2010-2014ء (CDMP II) کے حصے کے طور کیا جا رہا ہے ، جو بنگلہ دیش کی وزارت خوراک و قدرتی آفات سے بچاؤ کا کثير العطیہ دہندگان کا یو این ڈی پی حمایت یافتہ منصوبہ ہے ، تاکہ تربیتی نتائج کے طویل المیعاد نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

بنگلہ دیش متواتر سیلابوں کے ساتھ ساتھ زلزلوں اور طوفانوں کے خطرے سے بھی دوچار ہے۔ ملک کا بیشتر حصہ گنگا-برہم پتر- میگھنا دریاؤں کے ڈیلٹائی علاقوں پر خلیج بنگال کے کناروں پر واقع ہے، جہاں مون سون کی بارشیں اور ہمالیہ کے پہاڑوں کی برف کا پگھلا ہوا پانی بنگلہ دیش کو سیلاب کے مستقل خطرے سے دوچار رکھتا ہے۔ ملک کے کئی بڑے شہر سطح سمندر سے محض چند میٹر کی بلندی پر واقع ہیں اور زلزلوں کے انتہائی خطرے سے دوچار ہیں۔

GARD کا خیال ڈوئچے پوسٹ ڈی ایچ ایل کا انسانی امداد سے وابستگی کا فطری اگلا قدم ہے، جس کا آغاز ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم (DRT) پروگرام کے ذریعے ہوا تھا۔ ادارے کی سماجی ذمہ داری کے منصوبے GoHelp کے تحت ڈی آر ٹیز 2005ء سے اب تک 20 سے زائد ہوائی اڈوں پر تعینات کیے جا چکے ہیں۔ ڈی آر ٹیز جو بغیر کسی تنخواہ کے اور اقوام متحدہ کے قریبی تعاون کے ساتھ کام کرتے ہیں، آنے والے امدادی سامان کے بہاؤ کو قدرتی آفت سے متاثرہ علاقوں کے ہوائی اڈوں پر متحرک رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔

– خاتمہ –

ڈوئچے پوسٹ ڈی ایچ ایل دنیا کا سب سے بڑا ڈاک اور نقل و حمل کی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ ڈوئچے پوسٹ اور ڈی ایچ ایل اپنی طرز کے واحد پورٹ فولیو کے نمائندہ ہیں یعنی نقل و حمل (ڈی ایچ ایل) کی اور مواصلات (ڈوئچے پوسٹ) کی خدمات۔ گروپ اپنے صارفین کو آسان استعمال کی معیاری مصنوعات کے ساتھ ساتھ جدید اور ضرورت کے لحاظ سے تیار کیے گئے حل فراہم کرتا ہے جو ڈائیلاگ مارکیٹنگ سے لے کر صنعتی رسدی زنجیروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ 220 سے زائد ممالک اور خطوں میں 470,000 سے زائد ملازمین اک ایسے عالمی نیٹ ورک کو تشکیل دیتے ہیں جو خدمت، معیار اور ماحول دوستی پر یقین رکھتا ہے۔ ماحول کے تحفظ، آفات سے بچاؤ اور تعلیم جیسے شعبوں میں منصوبوں کے ساتھ یہ گروپ سماجی ذمہ داری کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔ 2010ء میں ڈوئچے پوسٹ ڈی ایچ ایل کی آمدنی 51 ارب یوروز سے تجاوز کر گئی تھی۔

جرمنی کی ڈاک خدمات۔ دنیا بھر کا ادارۂ برائے نقل و حمل۔

ذریعہ: ڈوئچے پوسٹ ڈی ایچ ایل