ایچ کے یو ایس ٹی 2011ء کیو ایس ایشین یونیورسٹی رینکنگز (ٹ م) میں ایچ کے یو کو پھلانگ کر سرفہرست آ گئی

AsiaNet 44714

لندن،23 مئی/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

–         (درجہ بندی http://www.topuniversities.com/university-rankings/asian-university-rankings/2011 پر براہ راست)

ایچ کے یو ایس ٹی نے ایچ کے یو کو پیچھے چھوڑ دیا اور این یو ایس اور ٹوکیو سے آگے

–         جاپان سب سے بہترین نمائندہ قوم ہے،  جس کی اولین 10 میں پانچ اور اولین 200 میں 57 جامات ہیں، جو چین (40)  اور جنوبی کوریا (35)، تائیوان (16)، بھارت (11)، تھائی لینڈ (9)،  انڈونیشیا (8)، ملائیشیا (7) اور ہانگ کانگ (7) سے آگے ہے – فہرست میں کل 13 ممالک شامل ہیں، جن میں بنگلہ دیش اور پاکستان پہلی بار شامل ہوئے ہیں

سرفہرست 5 جامعات

2011ء

2010ء

ادارے کا نام

ملک/خطہ

1

2

دی ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

ہانگ کانگ

2

1

یونیورسٹی آف ہانگ کانگ

ہانگ کانگ

3

3

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور (این یو ایس)

سنگاپور

4

5

دی یونیورسٹی آف ٹوکیو

جاپان

5

4

دی چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ

ہانگ کانگ

(سرفہرست 200 جامعات دیکھیں http://www.topuniversities.com/university-rankings/asian-university-rankings/2011)

2011ء کیو ایس ایشین یونیورسٹی رینکنگز (ٹ م) ظاہر کرتی ہے کہ چین، جاپان، کوریا اور بھارت کی جامعات میں وسیع سرمایہ کاری کے باوجود ہانگ کانگ کی جامعات بدستور سرفہرست ہیں۔ ایچ کے یو  ایس ٹی نے اپنی بلند حوصلہ پیشرفت کے ذریعے ایچ کے یو کو پچھاڑتے ہوئے سرفہرست پوزیشن حاصل کی جبکہ چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ نے سرفہرست پانچ میں اپنا مقام برقرار رکھا۔

کیو ایس انٹیلی جنس یونٹ کے سربراہ بین ساؤٹر کہتے ہیں کہ “ایچ کے یو ایس ٹی اور ایچ کے یو بیشتر اشاریوں میں بہت مضبوط رہے، کیونکہ ان کی حقیقی بین الاقوامی حیثیت نے ان کو سب سے ممتاڑ رکھا۔ ایچ کے یو ایس ٹی کو تحقیقی پیداوار میں برتری حاصل تھی، جس شعبے میں 2011ء میں موجود خلا اور زیادہ وسیع ہو گیا تھا۔”

مشکل اقتصادی صورتحال کے باوجود جاپانی جامعات بدستور مستحکم کارکردگی پیش کرتی آ رہی ہیں۔ ٹوکیو اور کیوٹو دونوں ایک ایک درجہ ترقی پا کر بالترتیب چوتھے اور ساتویں نمبر پر آئے۔

سنگاپور میں این یو ایس نے سرفہرست تین میں جگہ برقرار رکھی اور این ٹی یو نے 2010ء کی مستحکم کارکردگی کو مزید مضبوط کیا اور ایک درجہ ترقی پا کر 17 ویں نمبر پر آئی۔

بر عظیم چین کی جامعات نے ساکھ کے اشاریوں میں بہترین کارکردگی ظاہر کی جس میں پیکنگ اور سنگ ہوا دونوں تعلیمی ماہرین کی جانب سے سرفہرست سات جامعات میں اور مالکان کی جانب سے تیسرے اور چوتھی بہترین جامعہ قرار دی گئیں۔

2010ء کے مقابلے میں سرفہرست 50 میں اس مرتبہ دو بھارتی جامعات کا اضافہ ہوا ہے جن میں آئی آئی ٹی کانپور (36) اور دو درجے کم یعنی 38 ویں نمبر پر آئی آئی ٹی بمبئی شامل ہیں۔ تحقیقی پیداوار میں حکومت کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے لیکن حوالہ جات دیے جانے کے کم اسکور کے باعث بھارتی تحقیق دیگر سرفہرست ایشیائی ممالک کے مقابلے میں فی الوقت اتنی زیادہ موثر نہیں ہے۔ سات میں سے چھ ملائیشین جامعات نے 2010ء کے مقابلے میں اپنی درجہ بندی بتر کی ہے، جن میں یو ایم تین درجے ترقی پا کر 39 ویں اور یو پی ایم 20 درجے پھلانگ کر 57 ویں نمبر پر آ گئی ہے۔

خطے کی بھرپور قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرفہرست 50 جامعات میں سے 20 فیصد 50 سال سے کم عمر ہیں، جن میں ایچ کے یو ایس ٹی بھی شامل ہے جس نے حال ہی میں اپنی 20 ویں سالگرہ منائی ہے۔

ذریعہ: کیو ایس کویک کویریلی سائمنڈز

رابطہ صرف برائے ذرائع ابلاغ

مزید معلومات یا انٹرویو کی درخواستوں کے لیے:

سائمنا بزوزیرو، سربراہ پی آر،

+44(0)207-284-7248، +44(0)7880-620-856،

simona@qs.com