ماحولیاتی سائنسز کے لیے پہلی عالمی درجہ بندی برائے جامعات شعبے میں بین الاقوامی برتری کو ظاہر کرتی ہے

AsiaNet 44655

لندن، 18 مئی/ پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

کیو ایس کویک کویریلی سائمنڈز نے آج http://www.topuniversities.com/university-rankings/world-university-rankings/2011/subject-rankings  پر پہلی کیو ایس عالمی جامعاتی درجہ بندی (ر): ماحولیاتی سائنس  کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔

– ہارورڈ درجہ بندی میں سرفہرست؛ یو سی برکلے دوسرے؛ ایم آئی ٹی تیسرے درجے پر

– برطانوی اداروں میں بہترین کارکردگی کے لحاظ سے کیمبرج (تیسرے)، آکسفرڈ (پانچویں) اور امپیریل کالج (9ویں) درجے پر

– آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی  نے 10 واں درجہ حاصل کیا جبکہ ٹوکیو یونیورسٹی (12 ویں) بہترین ایشیائی جامعہ ہے ۔ ای ٹی ایچ زیورخ (13 ویں) براعظمی یورپ کی سرفہرست جامعہ ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی، پانی کے لیے جنگوں اور روایتی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قلت سے متاثرہ دنیا کو عالمی اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، پہلی کیو ایس عالمی جامعاتی درجہ بندی (ر) ماحولیاتی سائنسز اس مخصوص موضوع پر عالمی اکادمی اور تحقیقی بہتری کی عکاس ہے۔

سرفہرست 200 میں 29 ممالک کی نمائندگی کے ساتھ، یہ درجہ بندی جامعات، حکومتوں اور کاروباری اداروں کی کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں اداروں کی کثیر الشعبہ جاتی تحقیق کو نمایاں کرتی ہے کہ وہ کس طرح ماحول دوست ترقی کی جستجو میں ایک انقلاب لا رہی ہیں اور ماحولیات کے ابھرتے ہوئے مسائل سے نمٹ رہی ہیں۔

سرفہرست 50 برائے ماحولیاتی سائنسز بمطابق ملک

ملک/خطہ جامعہ (درجہ)
برطانیہ کیمبرج (تیسرا)
ریاستہائے متحدہ امریکہ ہارورڈ (پہلا)
سویٹزرلینڈ ای ٹی ایچ زیورخ (13 واں)
جاپان جامعہ ٹوکیو (12 واں)
آسٹریلیا آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی (10 واں)
فرانس یونیورسٹی گرینوبل، جوزف فوریئر (42 واں=)
کینیڈا جامعہ برٹش کولمبیا (11 واں)
سنگاپور نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور (14 واں=)
چین پیکنگ یونیورسٹی (22 واں)
جنوبی کوریا سیول نیشنل یونیورسٹی (42 واں=)
ہانگ کانگ یونیورسٹی آف ہانگ کانگ (33 واں)
نیوزی لینڈ یونیورسٹی آف آکلینڈ (34 واں=)
سویڈن لونڈ یونیورسٹی(39واں=)
نیدرلینڈز واجن انجن یونیورسٹی (41 واں)

کیو ایس میں تحقیق کے سربراہ بین سووٹر کہتے ہیں کہ “امریکہ اور برطانیہ اس شعبے میں ہمیشہ مضبوط رہے ہیں اور سرفہرست 200 میں نمایاں طور پر موجود ہیں، لیکن درجہ بندی کے سرفہرست 200 میں 29 ممالک کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ دنیا بھر کی جامعات ماحولیاتی تحقیق اور تدریس کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دے رہی ہیں۔ شعبے میں چین کی مضبوط کارکردگی ملک کی زیادہ ماحول دوست ترقی کی جانب بڑھنے اور اپنی حیرت انگیز اقتصادی ترقی کے لیے ماحول دوست رسائی کو ظاہر کرتی ہے۔”

کیو ایس گلوبل اکیڈمک ایڈوائزری بورڈ زیادہ تفصیلی معلومات کی طلب کے جواب میں پہلی کیو ایس عالمی جامعاتی درجہ بندی (ر) تیار کی ہے۔ جامعات کو تعلیمی ساکھ، مالکان کی ساکھ اور تحقیقی حوالہ جات اور ہر مضمون کی اہمیت کے پیش نظر درجہ بندی دی گئی ہے۔

طبیعیات، دھات کاری اور مادیات، ارضی و بحری علوم اور کیمیا میں بہترین کارکردگی دکھانے والی جامعہ بھی آج http://www.topuniversities.com پر ظاہر کی گئی ہیں۔

ذریعہ: کیو ایس کویک کویریلی سائمنڈز

رابطہ صرف برائے ذرائع ابلاغ:

سمونا بزوزیرو،

simona@qs.com،

+44(0)7880-620-856؛

وکی چیو،

Vickie@qs.com،

+44(0)207-284-7292