سائنسدان ماہی گیری کے ماحول دوست حل کی تلاش کے لیے بحر الکاہل میں ٹونا مچھلی پکڑنے والے جہاز کے عملے کے ساتھ کام کریں گے

AsiaNet 44511

مانتا، ایکویڈور، 10 مئی 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

عالمی اتحاد کا ٹونا مچھلی کے ذخیروں اور آبی حیات کے تحفظ کے جدید بحری منصوبے کا آغاز

ماہی گاہیں، تحقیقی سائنسدان اور ٹونا مچھلی پکڑنے والے آج مانتا، ایکویڈور میں ایک جہاز میں سوار ہوں گے اور اگلے دو ماہ سمندر میں گزاریں گے تاکہ ٹونا مچھلی کی ماہی گیری کے ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم کرنے کے موثر و فعال طریقوں کو فروغ دینے کے عالمی ہم آہنگ منصوبے کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جا سکے۔

جال کیسہ جہاز، جو مچھلی پکڑنے کے لیے بڑے جال استعمال کرتے ہیں، ہر سال دنیا کو لاکھوں ٹن ٹونا مچھلی فراہم کرتے ہیں۔ جب عملہ مچھلی کو متوجہ کرنے کے لیے تیرتی ہوئی اشیاء استعمال کرتا ہے، جنہیں ایف اے ڈیز کہا جاتا ہے، تو یہ طریقہ وقت اور ایندھن کی زیادہ بچت فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس میں ایک نقص بھی ہے – اور وہ ہے پکڑتے ہوئے، بحری حیات کو غیر ارادی طور پر جال میں آ جانا۔ اوسطا ایک جہاز کی پکڑی گئی مچھلیوں میں سے 5 فیصد ٹونا کے علاوہ دیگر مچھلیاں اور شارک ہوتی ہیں۔ انٹرنیشنل سی فوڈ سسٹین ایبلٹی فاؤنڈیشن (ISSF) نے ممکنہ طور پر ماحول کو نقصان پہنچانے والے فضلے میں بڑے پیمانے پر کمی کا مطالبہ کیا ہے اور عالمی منصوبے کی کمل منصوبہ بندی کے لیے ایک سال لگا چکا ہے جس میں تحقیق، ماہی گیروں کی تعلیم اور نئے طریقوں اور موجودہ ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہیں۔

آئی ایس ایس ایف کی صدر سوسن جیکسن نے کہا کہ “مسئلہ اور اس کی وسعت کا اندازہ لگا لیا گیا ہے، اب یہ وقت ہے کہ پانیوں کا رخ کیا جائے اور صنعت کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر ایسی بہتری لائی جائے جو ٹونا کے عالمی ذخائر اور سمندر کے پیچیدہ بحری حیاتی نظام میں بگاڑ پیدا کیے بغیر ان کے لیے زیادہ سے زیادہ عملی ہو۔ “

پہلاسفر – جو آئی ایس ایس ایف اور انٹر-امریکن ٹراپیکل ٹونا کمیشن (IATTC) کے سائنسی اشتراک سے ہوگا– میں ایک جال کیسہ یولاندا ایل میں مشرقی بحر الکاہل میں دو ماہ گزارے جائیں گے، یہ جہاز فریگوری فیکوس پیسکوئروس انفر ی پسکا کی ملکیت ہے اور اس کے کپتان ریکارڈو ڈیاز ہیں۔ایک کارآمد کشتی یولاندا ایل پر مختلف تجربات کرنے کے لیے موجود ہوں گی جو ایف اے ڈیز کے متعلق ٹونا مچھلیوں کے اجتماع پر تجربات کرے گی اور ریموٹلی آپریٹڈ وہیکل (ROV)، ایک جدیدایکو ساؤنڈر اور آبی ٹریکنگ نظاموں سے لیس ہوگی۔ یہ ٹیکنالوجیز سائنسدان ماہی گیری کی نئی مشقوں کو تلاش کرنے اور پہچاننے کے لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ جال کیسہ کشتیوں کو زد پذیر نسلوں پر اثرات کم سے کم رکھتے ہوئے ٹونا مچھلیوں کی بڑی تعداد کو پکڑنے میں مدد دی جا سکے۔

جیکسن نے کہا کہ “درحقیقت تمام اقسام کی ماہی گیری میں کچھ تبادلہ ہوتا ہے اور ماحول پر اثرات کسی نہ کسی سطح پر مرتب ہوتے ہیں۔ چند حلقوں نے اس قسم کی ماہی گیری پر پابندی کا مطالبہ کیا ، اک ایسا قدم جس پر صنعت نے متنبہ کیا کہ یہ دنیا بھر میں ٹونا کی فراہمی کو نصف تک پہنچا دے گی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہوں گے اور ترقی پذیر معیشتوں پر اضافی مالیاتی بوجھ پڑے گا، اس لیے بجائے ہتھیار پھینکنے اور معاملات سے نظریں چرانے کے ہمیں ایک خواہشمند صنعت کو اپنی مشقوں کو بہتر بنانے میں مدد دینی چاہیے۔”

بگ آئی نسل کی ٹونا مچھلی پر ایف اے ڈی ماہی گیری کے اثرات کی وجہ سے مشرقی بحر الکاہل اس مہم کے آغاز کا اہم مقام ہے۔ حالیہ سالوں میں حد سے زیادہ ماہی گیری کے باعث بحال ہونے میں خطے کے مچھلیوں کے ذخیروں کی بحالی میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ آئی اے ٹی ٹی سی سینئر سائنسدان کورٹ شیفر یولاندا ایل پر موجود ٹیم کی تجربات میں قیادت کریں گے جو بائیو ڈی گریڈ ایبل مواد کے ذریعے بنائے گئے مختلف ڈیزائنوں کے تجربات کے ذریعے ایف اے ڈیز میں کچھووں اور شارک مچھلیوں کے پھنسنے سے بچنے کے طریقوں پر بھی غور کریں گے۔

آئی ایس ایس ایف سائنٹیفک ایڈوائزری کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر وکٹر ریستریپو نے کہا کہ “یہ سفر ہمارے سائنسدانوں اور شراکت داروں کی ٹیم کو تعلیمی ورکشاپوں کو بہتر بنانے میں مدد دیں گے جو پہلے ہی دنیا بھر کے ماہی گیروں میں کی جا رہی ہیں۔ سائنسدان جیسے جیسے نئے حل ڈھونڈتے جائیں گے، ہم ان کے نتائج کو ورکشاپس میں شامل کرتے جائیں گے تاکہ ناخدا اور جہازوں کے کپتان فوری نتائج سے آگاہ کر سکیں۔ اگر کوئی عمل حقیقت پسندانہ نہیں یا ماہی گیروں کو سمجھ نہیں آتا کہ اسے کہتے بہتر بنائیں، تو ہمارے پاس یہ صلاحیت ہوگی کہ ہم اس خیال کو ایک مرتبہ پھر پانی تک پہنچائیں۔”

ورکشاپس پہلے ہی امریکین، افریقہ، یورپ اور بحر الکاہل کے جزیروں کے علاقوں میں ماہی گیروں کی بندرگاہوں پر ہو رہی ہیں۔ آنے والے مہینوں میں مزید کی منصوبہ بندی بھی ہے۔

اب جبکہ پہلا منصوبہ مشرقی بحر الکاہل میں اپنا کام کر رہا ہے، اضافی بحری جہاز اگلے چند سالوں میں مغربی اور وسطی بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس میں تجربات کریں گے۔

انٹرنیشنل سی فوڈ سسٹین ایبلٹی فاؤنڈیشن (آئی ایس ایس ایف) کے بارے میں

انٹرنیشنل سی فوڈ سسٹین ایبلٹی فاؤنڈیشن (آئی ایس ایس ایف) سائنسدانوں، ٹونا مچھلی کی صنعت اور دنیا کی سب سے بڑی تحفظ  کی انجمن ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کا عالمی اتحاد ہے، جو ٹونا مچھلیوں کے ذخیروں کی طویل المیعاد حفاظت اور ماحول دوست استعمال کے لیے سائنسی منصوبوں، ان کوپکڑنے میں کمی اورماحولیاتی صحت کو فروغ دے رہا ہے۔ مزید جاننے کے لیے ان کی ویب سائٹ ملاحظہ کیجیے http://iss-foundation.org۔

انٹر-امریکن ٹراپیکل ٹونا کمیشن (آئی اے ٹی ٹی سی) کے بارے میں

انٹر-امریکن ٹراپیکل ٹونا کمیشن (آئی اے ٹی ٹی سی) مشرقی بحر الکاہل میں ٹونا اور ٹونا سے ملتی جلتی نسلوں اور ان کا شکار کرنے والے جہازوں کے تحفظ اور انتظام کا ذمہ دار ہے۔ کمیشن کا مقصد مچھلی کے ذخیروں کا طویل المیعاد تحفظ اور ماحول دوست استعمال ہے جسے کنونشن کا تحفظ حاصل ہے، جو متعلقہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔ اس کا قیام 1949ء میں کوسٹاریکا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان ایک معاہدے کے تحت عمل میں آیا، جس میں 2003ء میں اینٹیگا معاہدے کے تحت ترمیم کی گئی ، اور آج اس کے 20 اراکین اور دو معاون فریق ہیں۔ مزید جاننے کے لیے www.iattc.org ملاحظہ کیجیے۔

ذریعہ: انٹرنیشنل سی فوڈ سسٹین ایبلٹی فاؤنڈیشن

رابطہ:

مائیکل کرسپینو،

+1-703-226-8102،

mcrispino@iss-foundation.org؛ یا

ایرن گرینڈ اسٹاف،

erin@bluelinesc.com یا

کیٹی ردرفورڈ،

kati@bluelinesc.com،

دونوں برائے +1-202-280-6770

ہدایت برائے مدیران: مانتا، ایکویڈور میں ہونے والی آج کی پریس کانفرنس ہائی ریزولیوشن تصاویر اور ہائی ڈیفی نیشن وڈیوز دستیاب ہیں۔ اضافی اعداد و شمار اور سائنسی وسائل بھی دستیاب ہیں۔