ڈبلیو ای سی 2011ء نے توانائی کے مستقبل پر عالمی مذاکرے کا آغاز کر دیا

AsiaNet 44263

جنیوا، 21 اپریل/ پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

کاربن ڈائی آکسائڈ کی انتہائی کم تعداد پیدا کرنے والی توانائی کی فراہمی عملی اور مالی طور پر قابل عمل ہے۔ اس کا مظاہرہ ورلڈ انجینئرز کنونشن (ڈبلیو ای سی) 2011ء کی کال فرام جنیوا کی جانب سے کیا جائے گا۔ دنیا بھر کے انجینئرز کو تھیسس پر گفتگو کے لیے دعوت دی گئی ہے۔

سوئس وفاقی کاؤنسلر ڈوریس لیتھارڈ نے کہا کہ “یہ انجینئرز ہیں جو دنیا کی آبادی کے لیے دستیاب ٹیکنالوجی کا بندوبست کرتے ہیں اور ہم سب ہمیشہ دستیاب وسائل کو بہت بہتر انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ انجینئرنگ کو دفاتر کی پرسکون منصوبہ بندی میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ انجینئرز کو اس سیاسی گفتگو میں شامل ہونا ہے۔” اس خیال کا اظہار ڈبلیو ای سی 2011ء کے منتظمین کی طرف سے شیئر کیا گیا جنہوں نے کال فرام جنیوا کے ذریعے عالمی مذاکرے کی شروعات کی۔ کال سلگتے  ہوئے سوالات پر موقف بیان کرے گا، جیسے:کیا انجینئرز کے پاس عالمی حدت میں اضافے کے بغیر ہر ایک کو توانائی فراہم کرنے کا تکنیکی حل موجود ہے؟ کیا ایسی توانائی جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی انتہائی کم تعداد پیدا کرے  کی فراہمی مالی طور پر قابل عمل ہے؟

“یورپ اپنی توانائی کی فراہمی بغیر کسی مسابقتی دشواری کے خودمختار طریقہ سے تبدیل کرسکتا ہے ” یہ کال فرام جنیوا کے نتائج میں سے ایک ہے جس کا خلاصہ ڈبلیو ای سی 2011ء کے صدر اور سوئس نیشنل کانسل کے رکن ریوڈی نوسیر نے بیان کیا۔ دوسرے خطوں جیسے چین اور ریاستہائے متحدہ امریکا میں توانائی کی صورتحال http://www.wec2011.org پر  بلاگ  میں ہونے والی گفتگو کا حصہ ہے۔ بلاگ کے مضامین کو بیان میں شامل کیا جائے گا جو ڈبلیو ای سی 2011ء میں منظور کیا جائے گا۔

ڈبلیو ای سی 2011ء میں تقریباً 100 ممالک کے 2,000 سے زائد انجینئرز، محققین اور سیاسی و کاروباری نمائندگان ملاقات کریں گے اور ماحول دوست توانائی کے مستقبل کے لیے حلوں پر گفتگو کریں گے۔

ورلڈ  انجینئرز کنونشن (ڈبلیو ای سی) 2011ء

انجینئرز دنیا کی طاقت – عالمی توانائی مقابلے کا سامنا

4- 9 ستمبر 2011ء، جنیوا، سوئٹزرلینڈ

بلاگ، اندراج: http://www.wec2011.org

رابطہ برائے ذرائع ابلاغ: کرسٹا روزاٹزن، media@wec2011.org، فون: +41-44-445-19-94۔

ذریعہ: ورلڈ انجینئرز کنونشن (ڈبلیوای سی)