بازارِ فن میں جھٹکے کی لہر ۔ ۔ ۔ چین اب اول نمبر پر، ریاستہائے متحدہ امریک اور برطانیہ سے آگے

AsiaNet 43842

پیرس، 20 مارچ / پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ/

بازارِ فن میں عالمی رہنما آرٹ پرائس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر تھیئری آہرمین کے مطابق “بازارِ فن  کی تاریخ میں یہ غیر معمولی خبر ایک اہم نقطہ انقلاب کا اظہار کرتی ہے: فائن آرٹ سے حاصل نیلامی کی آمدنی  کے اعتبار سے چین اب پہلے نمبر پر موجود ہے۔” چین نے 1950ء سے مارکیٹ کے عظیم سرداروں ریاستہائے متحدہ امریکا اور برطانیہ سے آگے نکل کر 2007ء میں تیسرے درجے (پہلے فرانس کے پاس موجود)سے 2010ء میں پہلے مقام تک اوپر آنے کے لیے صرف تین سال کا عرصہ لیا۔

عالمی بازارِ فن کا رخ مغرب سے مشرق کی طرف پلٹنے   کے لیے چین نے عیاری مثلاً آرٹ گیلری سے فرضی اعداد و شمار (عوامی نیلامی کے مقابلے میں ایک غیر شفاف بازار) یا  روایتی چینی اشیائے فن یا ساز و سامان (جن کی قیمتیں دنیا بھر میں تیز ہورہی ہیں) تک کے بغیر یہ کام انجام دیا۔ 1950ء سے بازارِ فن کے لیے حوالہ درجہ بندی  عوامی نیلامیوں میں فائن آرٹ  کی ہی رہی ہے۔

2010ء میں چین نے عالمی فائن آرٹ فروخت  (پینٹنگز، تنصیبات، مجسمے، تصویر نگاری،  تصویرکشی ،پرنٹس)کا 33 فیصد اپنے نام کیا بمقابلہ ریاستہائے متحدہ میں 30 فیصد، برطانیہ میں 19 فیصد اور فرانس میں 5 فیصد۔ *

مزید برآں 2010ء کے لیے نیلامی سے حاصل آمدنی کے اعتبار سے 10 بہترین عالمی مصوروں کی درجہ بندی میں 4 چینی مصور شامل ہیں (بمقابل 2009ء میں1) جن میں سے کم تر نے رواں سال کے دوران 112 ملین ڈالرز حاصل کیے۔ کیو بایشی  اینڈی وارہول اور اپنے ہم وطن ژانگ داکیان سے آگے دوسرے نمبر پر ہیں؛ زو بیہونگ نے مجموعی طور پر 176 ملین ڈالرز کے ساتھ چھٹا اور فو بوشی نے نواں مقام حاصل کیا۔ چینی مصوروں کی نوجوان  نسل پہلے کے مقابلے میں اب خود کو مزید مستحکم انداز سے مرعوب کن بنا رہی ہے: 2010ء کے 10 بہترین عالمی ہم عصر  مصوروں میں صرف 3 امریکیوں (بیسکوائٹ، کونز اور پرنس) کے مقابلے میں نصف سے زائد تعداد چینیوں  (زینگ فینزائے،چن یفائے، وینگ یڈونگ، زینگ ژیاگینگ، لوئی ژیاؤڈونگ اورلیو یی)کی ہے۔ *

اب بازار کا دل عالمی بازارِ فن کے طاقتور مراکز بیجنگ، ہانگ کانگ اور شنگھائی میں دھڑکتا ہے۔ 2010ء میں سوتھ بائز کی ہانگ کانگ آمدنی 2 فیصد تک رہی۔ اس اثناء میں کرسٹی کا 2010ء ہانگ کانگ مجموعہ 2,5 فیصد اور چین کے 4 بڑے سالانہ آمدنی پولی انٹرنیشنل (7,4 فیصد)، چائنا گارجین (5,32 فیصد)، بیجنگ کونسل (2,07 فیصد)، بیجنگ میں ہانہائی آرٹ آکشن (2,74 فیصد) رہی۔ *

نہ صرف چین کی اقتصادی ترقی (2010ء میں دوسری عالمی طاقت) نے اس کے بازارِ فن کو ترقی  اور دنیا بھر میں اس کی ثقافت کو ظاہر کیا بلکہ چین کے شعبہ فن نے بھی اپنی حکومت اور چینی جمعکاروں کی طرف سے فائدہ حاصل کیا جو اتنے ہی محب وطن ہوتے ہیں جتنا کہ وہ سرمایہ کاری میں متحرک ہیں۔ چین قوموں کی تاریخ میں فن کی طاقت کو سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ  چینی فن پاروں کے لیے نیلامی کی ریکارڈ تعداد چینی کھرب پتیوں کی تعداد سے بندھی ہوئی ہے جن میں 2014ء تک سالانہ 20 فیصد اضافہ ہوگا بہ مقابل دیگر دنیا کے لیے 5.6 فیصد پی اے۔

* آرٹ پرائس بازارِ فن رپورٹ 2010ء سے اخذ کیا گیا جو 5 اپریل 2011ء سے انگریزی، فرانسیسی، چینی، جرمنی، ہسپانوی اور اطالوی زبانوں میں http://www.artprice.com سے مفت ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔

ذریعہ: http://www.artprice.com (c) 1987-2011 تھیئری آہرمین

آرٹ پرائس کی دنیا اور الکیمی کو دریافت کریں: http://web.artprice.com/video/

آرٹ پرائس 27 ملین سے زائد نیلامی قیمتوں اور 450,000 سے زائد فن کاروں پر مشتمل فہرستوں کے ساتھ بازارِ فن معلومات میں عالمی رہنما ہے۔ آرٹ پرائس امیجز (ر) دنیا میں بازارِ فن معلومات کی سب سے بڑی ڈیٹابیس تک لامحدود رسائی  پیش کرتا ہے جو آج تک 108,000,000 تصاویر اور 1700 تک کے نقش نگاری فن پاروں کی لائبریری ہے۔ آرٹ پرائس 3,600 بین الاقوامی نیلامی گھروں سے حاصل معلومات کے ساتھ اپنی ڈیٹابیس کو مسلسل اپڈیٹ کررہا ہے اور دنیا بھر میں مرکزی اقتصادی ابلاغی ایجنسیز اور 6,300 ابلاغی خطابوں کو بازارِ فن کے رجحانات کی معلومات روزانہ فراہم کرتا ہے۔ آرٹ پرائس اپنے 1,300,000 اراکین (لاگ ان رکن) کو معیاری اشتہارات پیش کرتا ہے اور فن پاروں کی خرید و فروخت  کے لیے دنیا کی قائدانہ بازار مقام ہے (ذریعہ: آرٹ پرائس)۔

آرٹ پرائس یورونیکسٹ کی جانب سے یورولسٹ  میں شامل ہے: یورو کلئیر: 7478 – بلومبرگ: پی آر سی – رائٹرز: اے آر ٹی ایف

آرٹ پرائس اعلامیہ: http://serveur.serveur.com/press_release/pressreleaseen.htm

آرٹ پرائس کی جانب سے ٹویٹر پر رئل ٹام بازارِ فن: http://twitter.com/artpricedotcom/

رابطہ: جوسیٹ مے

فون: +33(0)478-220-000

ای-میل: ir@artprice.com

ذریعہ: آرٹ پرائس ڈاٹ کام