تاریخی فیصلے نے آسٹریلیا کو عالمی تنازعات کے ثالث کا مقام عطا کردیا

AsiaNet 43734

سڈنی، آسٹریلیا، 14 مارچ 2011ء / میڈیا نیٹ انٹرنیشنل – ایشیا نیٹ /

حکومت آسٹریلیا نے آسٹریلوی مرکز برائے بین الاقوامی تجارتی ثالثی  (اے سی آئی سی اے) کو نئے بین الاقوامی ثالثی قانون کے تحت تجارتی تنازعات  حل کرنے  کے لیے  واحد بنیادی اتھارٹی مقرر کردیا۔

یہ تاریخی قدم  قانون کے تحت فریقین  کے لیے وفاقی عدالت ، ریاستی عدالتوں میں سے کسی ایک یا اعلیٰ عدالتوں کی عملداری میں ثالث مقرر کیے جانے کی ضرورت ختم کردے گا۔

فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اے سی آئی سی اے کے صدر اور کلائٹون یوٹز کے اہم منصوبوں اور بین الاقوامی ثالثی سربراہ پروفیسر ڈاؤگ جونز نے کہا کہ: “ایک علیحدہ، مرکزی جماعت کا حصول اخراجات و طوالت  کو کافی کم کرے گا،حتمی  کاروائیوں کو یقینی بنائے گااور  تقرری کے طریقہ کار کو تمام حصہ داروں  کے لیے  واضح علم  اور قابل فہم بنائے گا۔

گزشتہ عدالتی تقرری نظام کے تحت  فریقین کو یہ طے کرنا تھا کہ کس کورٹ – نو میں سے ایک کا انتخاب – میں  کاروائی شروع کی جائے۔

پروفیسر جونز نے کہا کہ ” اے سی آئی سی اے ایک ثالث کی تقرری کے لیے 1000 ڈالر  معاوضہ لیتی ہے جبکہ عدالتوں کی جانب سے ثالثوں کی تقرری پر شاید 20,000 ڈالر لاگت آتی ہے جو اس بات پر منحصر ہے کہ تنازعہ اختلافی ہے یا نہیں۔”

بین الاقوامی تجارتی ثالثی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ “یہ عالمی معیشت میں بین الاقوامی کاروباروں کے لیے پسندیدہ عمل کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔  سرمایہ کار ایک غیر ملکی عدالتی نظام میں کاروائیوں کے متعلق کم  واقفیت  اور مقامی  دائرہ اختیار سے باہر عمدرآمدگی  پر بے اعتباری کے ساتھ قانونی چارہ جوئی  کی غیر یقینی صورتحال سے اجتناب برتنا چاہتے ہیں۔”

2008ء میں ایک پرائس واٹر ہاؤس کوپرز سروے ‘بین الاقوامی ثالثی : کارپوریٹ نقطہ نظر اور طرز عمل’ نے  انکشاف کیا کہ 73 فیصد سند یافتہ ادارے اپنے سرحد پار تنازعات حل کرنے کے لیے بین الاقوامی قانونی چارہ جوئی  کے بجائے بین الاقوامی ثالثی کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں  اور ثالثی کو کامیابی کے ساتھ کاروباری تعلقات کی حفاظت سمجھتے ہیں۔

اٹارنی جنرل کے نمائندوں، اعلیٰ عدالت اور وفاقی عدالت کےاعلیٰ جج صاحبان، آسٹریلین بار ایسوسی ایشن کے صدر، آسٹریلیا کی قانونی کونسل کے صدر  اور دیگر صنعت کے نمائندگان پر مشتمل بورڈ تعیناتی کے عمل کی نگرانی کریں گے۔

اے سی آئی سی اے 50 سے زائد عالمی ثالثی اداروں کے ساتھ تعاون کے معاہدوں کا فریق ہے اور کاروباری اداروں و صنعت کے مختلف سلسلے  سےحاصل کردہ معزز مقامی اور بین الاقوامی ثالثی کرنے والوں کے پینل پر مشتمل ہے۔

بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے حل کے لیے  آسٹریلیا کو ایک پرکشش غیرجانبدار مقام کی حیثیت کے لیے اے سی آئی سے اے کی تقرری حتمی قانونی سازی میں بہتری کے ساتھ آسٹریلوی بین الاقوامی تنازعات مرکز (www.disputescentre.com.au) کے قیام کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

پروفیسر جونز نے کہا کہ “قانونی اور کاروباری  نقطہ نظر سے آسٹریلیا  ایک مناسب مقام ہے، اگر زیادہ نہیں تو پھر بھی خطہ میں  دوسری جگہوں سے زیادہ  ہے۔”

رابطہ: گیانا ٹوٹارو

اے سی آئی سی اے تعلقات ابلاغ عامہ

+61 (0)438 337 328

gtotaro@acica.org.au

ذریعہ: آسٹریلوی مرکز برائے بین الاقوامی تجارتی ثالثی