عالمی یوم خواتین2011ء: یہ وقت مساوات کے وعدہ کو پورا کرنے کا ہے

AsiaNet 43625

    نیویارک،7مارچ2011ء /پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

مندرجہ ذیل پیغام اقوام متحدہ خواتین کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مچیل بیکلیٹ کا ہے:

سو سال  پہلے آج ہی کے روز، پوری دنیا کی خواتین نے مساوات کے حصول کی طویل شاہراہ پر ایک تاریخی قدم اٹھایا۔ سب سے پہلا عالمی یوم خواتین کام کرنے کے ناپسندیدہ اور اکثر خطرناک حالات کی طرف توجہ دلانے کے لئے منعقد ہوا تھا جن سے پوری دنیا میں بہت ساری خواتین کو دوچار ہونا پڑتا تھا۔ حالانکہ یہ تقریب صرف مٹھی بھر ملکوں میں ہی منعقد ہوئی تھی، لیکن اس نے ایک ملین سے زیادہ خواتین کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا، جو نہ صرف کام پر بہتر حالات کا ہی مطالبہ کررہی تھیں بلکہ ووٹ دینے، عہدہ سنبھالنے اور مردوں کے ساتھ برابر کی شریک ہونے کے حق کا بھی مطالبہ کررہی تھیں۔

مجھے شبہ ہے کہ وہ با حوصلہ رہنما آج کی ہماری دنیا کو فخر اور مایوسی کی ملی جلی نگاہ سے دیکھیں گے۔ یہاں حیرت انگیز پیش رفت ہوئی ہے جیسا کہ پچھلی صدی نے خواتین کے جائز حقوق اور حقداری میں بے نظیر توسیع کا مشاہدہ کیا ہے۔ درحقیقت، حقوق نسواں کی ترقی سب سے گہرے سماجی انقلابو میں سے ایک  ہونے کا دعوی کرسکتی ہے جس کا دنیا نے مشاہدہ کیا ہے۔

ایک سو سال پیشتر، صرف دو ممالک نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی۔ آج، فی الواقع وہ حق عالمگیر بن چکا ہے اور اب ہر براعظم میں حکومت کی سربراہی کے لئے خواتین کا انتخاب ہوتا ہے۔ خواتین بھی ان پیشوں میں قائدانہ مناصب حاصل کرتی ہیں جن سے کبھی انہیں باز رکھا جاتا تھا۔ ایک صدی سے بھی بہت کم عرصہ میں پولیس، عدالتیں اور پڑوسی اب تک گھر میں ہونے والے تشدد کو خالصتاً نجی معاملہ سمجھتی تھیں۔ آج دو تہائی ممالک میں مخصوص قوانین ہیں جو گھریلو تشدد پر سزا دیتے ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اب جنسی تشدد کو لڑائی کی سوچی سمجھی تدبیر مانتی ہے۔

لیکن پچھلی صدی میں اس تمام  پیش رفت ہونے کے باجود اس پہلے عالمی یوم خواتین میں مساوات کی جن امیدوں کا اظہار کیا گيا تھا وہ حقیقت سے اب بھی کوسوں دور ہیں۔ تقریباً تین ناخواندہ بالغان میں سے دو خواتین ہیں۔ اسکولوں میں اب بھی لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی شرح کم ہے۔ ہر دن کے ہر 90 سیکنڈ پر، ایک خاتون کی حمل کی حالت میں یا وضح حمل سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے موت ہوجاتی ہے حالانکہ ہمارے پاس پیدائش کو محفوظ عمل بنانے کے علم اور وسائل موجود ہیں۔

پوری دنیا میں یکساں کام کے لئے خواتین کی کمائی مردوں کے مقابلے میں کم ہے۔ نیز  بہت سارے ممالک میں  انہیں زمین اور وراثت کے حقوق تک  غیر منصفانہ رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اور قابل توجہ پیش رفت کے باجود  خواتین کی مجلس قانون ساز حصہ داری اب بھی میں 19 فیصد، امن مذاکرات کرنے والوں میں 8 فیصد  اور صرف 28 خواتین ہی صوبہ یا حکومت کی سربراہ ہیں۔

اس امتیاز کی قیمت صرف خواتین کو ہی نہيں چکانی پڑتی ہے۔ دنیا کی نصف قابلیت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں ناکام ہونے کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہم اپنی جمہوریت کے معیار، اپنی اقتصادیات کی طاقت، اپنے سماج کی صحت اور امن کے استحکام کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ تعلیم، تربیت، سائنس اور ٹیکنالوجی تک خواتین کی مساوی رسائی پر اس سال کے عالمی یوم خواتین کا ارتکاز اس قوت پر دستک دینے کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔

جنسی مساوات اور حقوق نسواں کو مستحکم کرنے کا ایجنڈا عالمگیر ایجنڈا ہے ہر امیر اور غریب، شمالی اور جنوبی، ملک کے لئے ایک چیلنج ہے۔ یہ اس کی عالمگیریت اور اس کے انعام کو تسلیم کرتے ہوئے اگر ہم یہ حق حاصل کرلیں جس کے لیے اقوام متحدہ نے یو این وومین کی تخلیق کے لئے چار موجودہ تنظیموں کو ایک ساتھ جمع کیا۔ اس نئی تنظیم، جس کا سرابرہ بننے پر مجھے بے حد خوشی ہے، کا مقصد اقوام متحدہ کے مکمل نظام میں قوت پیدا کرنا ہے تاکہ ہم یو این چارٹر کے مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کے وعدہ کو پورا کرسکیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کے لیے میں نے اپنی پوری زندگی جدوجہد کی ہے۔

نوجوان ماں اور ماہر امراض  اطفال کی حیثیت سے میں نے کنبہ اور پیشہ میں توازن برقرار رکھنے کی جدوجہد کا تجربہ کیا اور مشاہدہ کیا کہ نگہداشت اطفال کی غیر موجودگی نے کس طرح خواتین کو باتنخواہ ملازمت سے روکا۔ انہیں رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کرنے کا موقعہ حاصل کرنا ان اسباب میں سے ایک تھا جو سیاست میں میرے قدم رکھنے کا باعث بنے۔ اسی وجہ سے میں نے ایسی سیاست کی حمایت کی جو خاندانوں کو صحت اور نگہداشت اطفال کی خدمات پیش کرتی تھی اور سماجی تحفظ کے لئے عوامی خرچ کو فوقیت دیتی تھی۔

صدر کی حیثیت سےمیں نے مرد اور عورت دونوں کے لئے مساوی مواقع پیدا کرنے کے لئے جانفشانی سے کام کیا تاکہ وہ ہمارے ملک کو درپیش مشکلات کے لئے اپنی صلاحیتوں اور تجربات کو صرف کریں۔ اسی وجہ سے میں نے ایسی کابینہ کی تجویز رکھی جس میں مرد اور خواتین کی تعداد برابر ہو۔

یو این وومین کی ايگزیکٹو ڈائرکٹر کی حیثیت سےمیں پوری دنیا میں حقیقی جنسی مساوات کی طرف پیش قدمی کی حوصلہ افزائی کے لئے اپنے سفر اور مجموعی علم و تجربہ کو اپنے ارد گرد استعمال کرنا چاہتی ہوں۔ ہم اس قیمتی مقصد کے حصول کے لئے اپنی سیاست، پروگرام اور بجٹ کو مضبوط کرنے میں ممالک کی مدد کرنے کے لئے مرد اور خواتین، لیڈر اور شہری، سول سوسائٹی، نجی سیکٹر اور مکمل یو این سسٹم کے ساتھ مل جل کر کام کریں گے۔

میں اپنی ذات کو دیکھتی ہوں  کہ خواتین اکثر سخت نامساعد حالات میں اپنے خاندانوں اور معاشرے کے لئے کیا کچھ کامیابی حاصل کرسکتی ہیں اگر انہیں موقع دیا جائے۔ طاقت، صنعت اور خواتین کی عقل انسانیت کے سب سے بڑے غیر مستعمل وسائل بنی ہوئی ہیں۔ ہم اس طاقت کو کھولنے کے لئے اگلے 100 سال تک مطلق انتظار نہیں کرسکتے۔

مصنفہ کے بارے میں مچیل بیکلیٹ: نئی تشکیل شدہ  اقوام متحدہ کی تنظیم یو این وومین کی پہلی ايگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں  جو جنسی مساوات اور خواتین کو اختیار دینے کے لئے وقف ہے۔ وہ چلی کی سابق صدر ہیں۔

ذریعہ: یو این وومین

رابط:گریچن لوچسنگر، +1-212-906-6506، موبائل: +1-201-736-2945، gretchen.luchsinger@unwomen.org

مدیران کے لئے ہدایت: تصاویر درخواست پر دستیاب ہیں۔