مختصر، زیادہ مختلف اور خودمختار بورڈ رومز – نئی ایورشیڈز رپورٹ نے ادارے کی کامیابی کا معیار پہچان لیا

AsiaNet 43561

لندن، 7 مارچ / پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

–       بورڈ روم تہذیب پر ہونے والی نئی اہم بین الاقوامی تحقیق نے بورڈ کی ترتیب، حصص  قیمت کارکردگی اور ادارے کی معاشی بحران سے قبل، اس کے دوران اور بعد  کی کامیابی کے درمیان تعلق ڈھونڈ نکالا۔

–       مختصر بورڈز، اضافی جداگانہ حیثیت  اور بورڈ کی زیادہ خودمختاری کامیابی کے لیے اہم عوامل میں شامل ہیں

–       تسلسل کے لیے غیر – انتظامی مجلس منتظمین / ادارے کی کارکردگی کی اضافی جانچ ؟

بین الاقوامی قانونی فرم ایور شیڈذ کی جانب سے آج (7 مارچ) کو شائع ہونے والی ایک نئی اہم رپورٹ کے مطابق مختصر بورڈز، زیادہ خاتون ڈائریکٹرز اور خودمختار ڈائریکٹرز کا زیادہ تناسب ادارے کی کامیابی کے لیے بورڈ روم کے اہم حصہ ہیں۔

ایور شیڈز بورڈ رپورٹ ایک مستقبل کی سوچ کی تحقیق ہے جس نے یہ جاننے کے لیے کہ آیا اقتصادی بحران کے وقت میں بورڈ کی ترتیب کا ادارے کی قابلیت سے براہ راست تعلق ہے اکتوبر 2007ء اور دسمبر 2009ء کے درمیان یورپ، ریاستہائے متحدہ امریکا اور ایشیا پیسیفک *میں تقریباً 250 ممتاز اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔

اگرچہ یہاں چند علاقائی فرق موجود تھے – سب سے بہترین کارکردگی رکھنے والے ادارے ہانگ کانگ  میں پائے گئے جہاں یورپ میں 29 فیصد  اوسط کمی کے مقابلہ میں حصص کی قیمت 15.6 فیصد اوسط اضافہ ہوا – بورڈ روم کامیابی کے چند عالمی رجحانات ابھر کر سامنے آئے۔

بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اداروں کے بورڈز میں مجموعی طور پر کم تعداد میں ڈائریکٹرز موجود ہیں – یہ ہانگ کانگ، ریاستہائے متحدہ امریکا اور یورپ کے لیے خاص طور پر ٹھیک رہا۔ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کامیاب بورڈ کے لیے کم از کم حجم 11 ڈائریکٹرز سمجھا جاتا ہے – سروے میں شامل کئی لوگ  یقین رکھتے ہیں کہ یہ معاملات پر زیادہ گہری نظر رکھنے، صدارت سے بہتر انتظام ، فوری فیصلہ سازی اور بورڈ اراکین کے درمیان بہتر مجموعی حرکیات کا نتیجہ ہے۔

رپورٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ ادارے جن میں خواتین ڈائریکٹرز زیادہ ہیں نے اقتصادی بحران کے دوران بہتر کارکردگی دکھائی – یہ خاص طور پر برطانیہ اور بینکاری کے شعبے میں تھا۔تاہم جب ملاقات کی گئی تو ڈائریکٹرز کی صرف 55 فیصد تعداد نے خیال ظاہر کیا کہ  تنوع بذات خود بورڈ اور ادارے کی کارکردگی کے لیے مفید ہے اور ان میں سے نصف تعداد نے بورڈ میں مزید خواتین کی تقرری کے لیے مثبت اقدامات اٹھانے کی براہ راست حمایت کی۔

یہاں حصص قیمت کارکردگی اور ادارے کے بورڈ میں خودمختار ڈائریکٹرز کی تعداد کے درمیان بھی گہرا تعلق ہے۔ جب ملاقات کی گئی تو ڈائریکٹرز نے تجربہ پر آزادی کو بمشکل ترجیح دی، جبکہ 67 فیصد کے خیال میں دونوں یکساں اہم ہیں۔

مضبوط حصہ داروں –وہ ادارے جن کے حصص کا سرمایہ حصص رکھنے والوں کی جانب سے دیا گیا ہے جو جاری کردہ حصص سرمایہ کا 3 فیصد یا  زیادہ رکھتے ہیں – نے بھی کامیابی کے لیے ایک عنصر کو ثابت کیا۔ ادارے جنہوں نے اقتصادی بحران کے دوران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا میں سے زیادہ تر مضبوط حصہ داری کے ساتھ  بڑی تعداد میں حصہ داروں کے حامل ہیں۔

ایورشیڈز کے چیئرمین جان ہیپس نے تبصرہ کیا کہ :

“دنیا بھر میں بورڈ رومز نے گزشتہ کئی سالوں میں غیر معمولی مقابلے کا سامنا کیا۔ اس کے ساتھ اقتصادی ماحول –جو شاید متوقع طور پر معاملات کی اس فہرست میں سب سے اوپر آگیا جو مجلس منتظمین کو راتوں میں جگائے رکھتے ہیں – میں ڈائریکٹرز سمجھتے ہیں کہ بہت زیادہ ہدایات، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ منتظمین کی ٹیم درست جگہ موجود ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ وہ تمام معاملات میں فرق کررہے ہیں۔

ہم نے اپنے صارفین کو درپیش مقابلوں کو سمجھنے اور اس کے ردعمل  کے لیے اس اہم بین الاقوامی تحقیق کا آغاز کیا۔ ہم یہ بھی جانا چاہتے تھے کہ اگر ان عناصر کی نشاندہی ہوسکے جو اقتصادی بحران کے دوران ادارے کی کارکردگی کے لیے بورڈ ترتیب سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔ اقتصادی بحران نے کئی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے بورڈز کے ڈھانچے کے بارے میں سختی سے سوچیں۔”

ایور شیڈز کے  کارپوریٹ شراکت دار مارک اسپنر نے اضافہ کیا کہ:

“اہم رجحانات  جو ہماری تحقیق سے سامنے آئے ہیں وہ بہت دلچسپ ہیں خاص طور پر زیادہ خودمختار، جداگانہ بورڈز کی کامیابی سے متعلق۔ اقتصادی بحران کے دوران کئی  ڈائریکٹرز نے بتایا کہ یہ ایگزیکٹو ڈائریکٹز کی غیر – انتظامی ڈائریکٹرز کے تجربے پر انحصار پہلے سے زیادہ ہوجانے کے ساتھ ایک ‘منتقلی اقتدار’ ہے۔ تاہم عام  اتفاق رائے سے ایسا نظر آتا ہے کہ یہ ایک مستقل تبدیلی نہیں ہو گی – کئی ڈائریکٹرز اب یقین کرتے ہیں کہ یہ غیر – انتظامی ڈائریکٹرز کے لیے ‘پیچھے ہٹ جانے’ اور ایگزیکٹو انتظامی ٹیم کو انتظام کی اجازت  دینے کا وقت ہے ۔

“ان عوامل سے سبق سیکھنا چاہیے جنہوں نے ادارے کی کارکردگی میں حصہ لیتے ہیں اور یہ واضح ہے کہ خواتین ڈائریکٹرز کے زیادہ تناسب کے ساتھ وہاں مناسب، زیادہ منظم، خودمختار بورڈز  کامیابی کی کنجیاں ہوسکتی ہیں۔

* تحقیق کا نمونہ:

اس تحقیق کے حصہ میں  اکتوبر 2007ء اور دسمبر 2009ء کے دوران 241 اداروں کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا گیا۔ نمونہ شامل ہے:

–       برطانیہ: ایف ٹی ایس ای 350 کے 75 ادارے بشمول مارکیٹ سرمایہ کے اعتبار سے ایف ٹی سی ای 100 میں 50 بہترین  ادارے اور ایف ٹی ایس ای 250 سے 25 ادارے۔

–       ریاستہائے متحدہ امریکا: ریاستہائے متحدہ امریکا میں ایس اینڈ پی 100 سےمارکیٹ  سرمایہ کے اعتبار سے 51 بہترین۔

–       براعظم یورپ: یورو اسٹاکس 50 سے مارکیٹ سرمایہ کے اعتبار سے 50 بہترین ادارے۔

–       ایشیا پیسیفک: 50 ادارے – ہانگ کانگ میں ہانگ سینگ سے 25 اور آسٹریلیا میں ایس اینڈ پی / اے ایس ایکس 50 سے 25 ادارے۔

–       241 ادارے بشمول 50 بینک۔

اگست 2010ء اور اکتوبر 2010ء کےدوران 241 اداروں میں سے رینڈم منتخب کیے جانے والے 50 ڈائریکٹرز سے بھی ملاقات کی گئی اس طرح نتیجہ نتائج کے عددی اور معیاری دونوں طرز کے تجزیہ کی اجازت ملی۔

مدیران کے لیے ہدایات

ایور شیڈز ایل ایل پی کے بارے میں

ایور شیڈز ایل ایل پی اور اس کے دنیا بھر میں منسلک دفاتر میں موجود 4,500 قانونی اور کاروباری مشیران نجی اور عوامی حلقہ کاروبار اور اقتصادی کمیونٹی کے لیے خدمات فراہم کررہے ہیں۔ان تمام خدمات تک رسائی 46 بین الاقوامی دفاتر اور 28 دائرہ اختیار کے ذریعے فراہم کی جارہی ہیں۔ ایور شیڈز  مقامی مارکیٹ کی معلومات اور رسائی کو دنیا کی بڑے قانونی اداروں میں سے ایک کی مہارت، وسائل اور بین الاقوامی قابلیت کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔

http://www.eversheds.com

چنٹل گوہل

برائے ایور شیڈذ ایل ایل پی

فون: + 44 (0) 207 919 4500

ای – میل: chantelgohil@eversheds.com

ذریعہ: ایور شیڈز ایل ایل پی