کورن/فیری کی بورڈز میں صنفی تنوع پر کی گئی تحقیق کے مطابق ایشیا بحر الکاہل کے بورڈز میں خاتون ڈائریکٹرز کی طلب بہت زیادہ لیکن نمائندگی بدستور کم ہے

AsiaNet 43602

سنگاپور، 7 مارچ، 2011ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

– ایشیا بحر الکاہل کے اداروں کے بورڈز میں خواتین کی بدستور کم نمائندگی

– خواتین ڈائریکٹرز کے نمایاں اعداد و شمار مرد ڈائریکٹرز سے بہت زیادہ مختلف پائے گئے

کورن/فیری انٹرنیشنل کی بورڈ تنوع تحقیق کے ابتدائی نتائج کے مطابق ایشیا بحر الکاہل خطے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خواتین کی نمائندگی بدستور کم ہے اور خواتین ڈائریکٹرز مرد ڈائریکٹرز کے برخلاف مختلف نمایاں اعداد و شمار کی حامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق ڈائریکٹرز کے تعین کے وقت صنف سمیت تنوع لانے کے لیے بورڈز میں تسلیم کرنے میں اضافے کے باوجود خطے بھر میں خاتون ڈائریکٹر کا تناسب بدستور کم ہے۔ پانچ ممالک – ہانگ کانگ، بھارت، ملائیشیا، نیوزی لینڈ اور سنگاپور – میں 70 فیصد سے زائد بورڈز میں آزاد خواتین ڈائریکٹرز نہیں ہیں۔ تین یا اس سے زائد خواتین ڈائریکٹرز کے حامل بورڈز شاذ و نادر ہی ہیں، جبکہ تین یا اس سے زائد آزاد خواتین ڈائریکٹرز کے حامل بورڈز تقریبا معدوم ہیں۔

یہ نتائج کورن/فیری کی بورڈ تنوع کے موضوع پر ایک وسیع تر تحقیق کا حصہ ہیں جس کی قیادت نیشنل یونیورسٹی سنگاپور کے این یو ایس بزنس اسکول کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ماک یوئن ٹین نے کی جو ایشیا میں میں کارپوریٹ گورننس پر ایک مسلمہ سند سمجھے جاتے ہیں۔

بورڈ تنوع کے موضوع پر ایشیا بحر الکاہل خطے کی یہ اولین تحقیق آسٹریلیا، ہانگ کانگ، بھارت، ملائیشیا، نیوزی لینڈ اور سنگاپور میں مارکیٹ سرمایہ کاری کے لحاظ سے 100 سب سے بڑے مقامی کمپنیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ تحقیق اس وسعت کا موازنہ کرتی ہے جس میں خواتین اور مرد ڈائریکٹرز بورڈز میں کلیدی قائدانہ عہدوں کے حامل ہیں، ساتھ ساتھ ان ممالک میں مرد اور خواتین ڈائریکٹرز کے پروفائلز کا بھی۔ تحقیق میں ان اداروں میں کل 5335 ڈائریکٹرشپس کے حامل 4630 ڈائریکٹرز کو شامل کیا گیا۔

کورن/فیری انٹرنیشنل ایشیا پیسفک کی مینیجنگ ڈائریکٹر اسٹریٹجک کلائنٹ سروسز ایلیسیا یی نے کہا کہ “دنیا بحیثیت صارف، بحیثیت رہنما اور باصلاحیت افراد کی بڑھتی ہوئی اکثریت کے طور پر خواتین کی صلاحیت اور قوت پر توجہ دے رہی ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ “دنیا بھر میں خواتین بورڈ امیدواروں کی بڑھتی ہوئی طلب ہے کیونکہ ادارے اس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ کامیاب بورڈز اس مارکیٹ کے نمائندہ ہونے چاہئیں جس میں وہ خدمات پیش کر رہے ہیں اور یک صنفی قیادت پر مشتمل ٹیمیں بڑھتے ہوئے پیچیدہ کاروباری ماحول میں کاروبار کرنے کے لیے مکمل تیار نہیں ہو سکتیں۔”

تحقیق نے خواتین اور مرد ڈائریکٹرز کے درمیان خصوصیات کے اعداد و شمار میں موجود فرق کے کلیدی اعداد کو بھی ظاہر کیا ہے:

– تمام ممالک میں خواتین ڈائریکٹرز مرد ڈائریکٹرز کے اوسط تقریبا تین سال زیادہ نوجوان ہیں۔

– خواتین ڈائریکٹرز مرد ڈائریکٹرز کے مقابلے میں قانون اور  فن حساب داری کے تعلیمی پس منظر کی منظر ہیں، جبکہ مرد ڈائریکٹرز انجینئرنگ اور سائنس کے پس منظر کے حامل ہیں۔

– آزاد خواتین ڈائریکٹرز کا اوسط عہد تمام ممالک میں مرد ڈائریکٹرز سے کم ہے۔

تحقیق کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر ماک نے کہا کہ “بورڈ کی موزوں ساخت پر گفتگو آزادی سے لے کر قابلیت اور وابستگی تک مختلف مراحل طے کرتے ہوئے اب تنوع تک  جا پہنچی ہے۔ اب یہ بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جا رہا ہے کہ بورڈز کو ڈائریکٹرز کے تعین کے وقت تنوع کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، جس میں صنفی تنوع بھی شامل ہے۔ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بورڈز میں متعین خواتین ڈائریکٹرز مرد ڈائریکٹرز کے مقابلے میں مختلف شماریاتی پروفائلز کی حامل ہیں، اور اس لیے صرف صنفی تنوع ہی نہیں بلکہ وہ اس سے کہیں آگے بورڈ کے تنوع میں بہتری لاتی ہیں۔”

یی نے کہا کہ “کئی معروف ادارے اب تنوع کے مسئلے کو سنجیدہ لے رہے ہیں، جس میں صنفی تنوع–ملازمین کے اہداف کا تعین، بہتری لانے کے طریقوں کو تلاش کرنا اور دیکھنا- بھی شامل ہے، کیونکہ بڑھتا ہوا رحجان ظاہر کرتا ہے کہ زیادہ متنوع بورڈز اور انتظامی ٹیمیں زیادہ موثر ہو سکتی ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “اب جیسا کہ ایشیا ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے اور عالمی معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، مجھے کوئی شبہ نہیں کہ بورڈ تنوع اور ترتیب کا یہ معاملہ رفتار پکڑے گا جیسے جیسے ادارے اس امر کو تسلیم کرتے جائیں گے کہ موثر ترین بورڈز وہ ہوں گے جو بین الاقوامی – اور ساتھ ساتھ زیادہ فعال، شعبہ جاتی اور صنفی متنوع – ہوں گے۔”

ایشیا بحر الکاہل کے بورڈز میں صنفی تنوع کے دیگر کلیدی نتائج میں شامل ہیں:

– خواتین ڈائریکٹرز عام طور پر بورڈ کے قائدانہ عہدوں پر خال خال ہی موجود ہیں جیسا کہ بورڈ کے چیئرز اور بورڈ کمیٹی کے چیئرز کے عہدوں پر۔

– آسٹریلیا خواتین ڈائریکٹرز کے سب سے زیادہ تناسب کا حامل ہے جہاں خواتین تمام ڈائریکٹرز کی 11.2 فیصد ہیں۔

– چھ ممالک کے 600 بورڈز میں سے صرف 14 میں دو سے زائد خواتین ڈائریکٹرز ہیں۔

– چھ ممالک کے 600 بورڈز میں سے صرف ایک میں تین یا اس سے زائد خواتین آزاد ڈائریکٹرز ہیں۔

– خواتین ڈائریکٹرز کا تناسب ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، غیر-آزاد نان-ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور آزاد نان-ایگزیکٹو ڈائریکٹرز تک پھیلا ہوا ہے۔ ہانگ کانگ خواتین ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے سب سے زیادہ تناسب کا حامل ہے؛ ملائیشیا غیر-آزاد نان-ایگزیکٹو خواتین ڈائریکٹرز کے سب سے زیادہ تناسب؛ اور آسٹریلیا آزاد نان-ایگزیکٹو خواتین ڈائریکٹرز کے سب سے زیادہ تناسب کا حامل ہے۔

کورن/فیری بورڈ اور سی ای او سروسز پریکٹس

کورن/فیری انٹرنیشنل کی بورڈ اور سی ای او سروسز پریکٹس بورڈ ڈائریکٹر تلاش اور انتخاب، سی ای او تلاش اور انتخاب، سی ای او کی جانشینی کی منصوبہ بندی اور جائزہ، بورڈ کی موثریت، اور ڈائریکٹر/ایگزیکٹو کی اجرت کی مشاورت پر صارفین کی مدد کرتا ہے۔

کورن/فیری انٹرنیشنل ایشیا پیسفک کے بارے میں

کورن فیری انٹرنیشنل امریکین، ایشیا پیسفک، یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ بھر میں موجود کورن/فیری انٹرنیشنل ٹیلنٹ مینجمنٹ حل پیش کرنے والا معروف عالمی فراہم کنندہ ہے۔ کورن/فیری ایشیا پیسفک میں کام کا آغاز کرنے والی پہلی عالمی ایگزیکٹو سرچ فرم تھی جب اس نے 1973ء میں ٹوکیو میں اپنے دروازے وا کیے اور آج خطے کے کلیدی کاروباری مراکز میں 18 دفاتر کا حامل ہے۔ لاس اینجلس میں قائم ادارہ مختلف حل پیش کرتا ہے جو صارفین کو باصلاحیت افراد کو کھینچنے، صلاحیتوں میں اضافہ کرنے، برقرار رکھنے اور ان کی حفاظت کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ کورن/فیری انٹرنیشنل کے اداروں کے بارے میں مزید معلومات کے لیے www.kornferry.com  ملاحظہ کیجیے، اور قیادت کے خیال، ملکیت دانش اور تحقیق کے لیے www.kornferryinstitute.com دیکھئے۔

ذریعہ: کورن/فیری انٹرنیشنل

رابطہ: کیرول لو برائے کورن/فیری انٹرنیشنل،

+65 6231 6219،

carol.lo@kornferry.com