سی پی آئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ چین نے 11 ویں توانائی شدت کے پنج سالہ منصوبہ میں ٹھوس پیش رفت کی ہے لیکن 12 ویں پنج سالہ منصوبہ کے اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے

AsiaNet 43377

بیجنگ، 25 فروری 2011ء / پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

کاربن کے لیے  مخصوص اور مزید موثر بہ لاگت حکمت عملی مستقبل میں ارزاں – کاربن ترقی

 کے لیے مواقع فراہم  کررہی ہیں

موسمی پالیسی اقدام (سی پی آئی) کی جانب سے ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ 2009ء سے چین 11 ویں پنج سالہ منصوبہ میں توانائی کی شدت میں تخفیف کے اہداف کو 20 فیصد تک حاصل کرنے کے لیے گامزن تھا  جس نے 2002ء تا 2005ء   میں بڑھتے ہوئے توانائی شدت کے رجحان کو واپس پھیر دیا ۔توانائی شدت میں کمی کے نتیجے میں کاربن شدت کم ہوئی  جو ارزاں – کاربن معیشت کی طرف  منتقلی میں توانائی کی استعداد کو ظاہر کرتا ہے؛ کاربن کے لیے  مخصوص اضافی حکمت عملیوں کے ساتھ چین توقع کرسکتا ہے کہ مستقبل میں توانائی کی شدت کے مقابلے میں کاربن کی شدت تیزی سے کم ہوگی۔

سی پی آئی کے ابتدائی تجزیہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 11 ویں پنج سالہ منصوبہ میں لاگو کیے گئے اقدامات میں بہت سے اوپر  سے نیچے کی جانب انتظامی اقدامات تھے جس نے اہم وسائل استعمال کیے اور چند حکمت عملیوں  جیسے کارخانوں کی بندش سے آگے بڑھنے کا عمل زیادہ مہنگا ہوجائے گا۔

تحقیق میں چین کی توانائی، صنعتی، تعمیراتی، نقل و حمل اور زراعت و جنگلات کے شعبوں میں لاگو حکمت عملیوں اور ارزاں – کاربن کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ۔ان میں سے توانائی اور صنعتی شعبوں نے کاربن کی بچت کےلیے وسیع صلاحیت فراہم کی۔

توانائی کے شعبے میں 2005ء تا 2008ء بجلی کی پیداوار میں 39 فیصد اضافہ ہوا لیکن یہ اضافہ کوئلہ سے چلنے والے توانائی کے کارخانوں میں فی کلو واٹ گھنٹہ میں استعمال ہونے والے ایندھن میں 5 فیصد  کمی اور کاربن ڈائی آکسائڈ مجموعی فی کلو واٹ گھنٹہ میں 6.5 فیصد کمی کا ردوبدل ہے۔ فی – یونٹ کمی کی وجہ یہ تھی:

–       کوئلہ – جلنے سے ہونے والی پیداوار کی اوسط کارکردگی میں بہتری جیسے نئی پیداواری صلاحیت میں شمولیت عام طور پر بڑا  اور زیادہ  موثر رہا ہے۔

–       چین کے 70 گیگا واٹ کے پرانے، چھوٹے، کم موثر کارخانوں  کی بندش سے کاربن ڈائی آکسائڈ اخراج کی 100 ملین ٹن سے زائد بچت ہوئی۔

–       ارزاں – کاربن پیداوار کی شمولیت جس میں 90 گیگا واٹ کی اضافی پن بجلی ، ہوا کے تقریباً 25 گیگا واٹ اور جوہری توانائی کے 2 گیگا واٹ  شامل ہیں۔

جب سے اوسط صلاحیت میں اضافہ ہوا اور کمترین – موثر کارخانوں کا ایک بڑا حصہ  بند ہوگیا، مستقبل کی کارکردگی میں بہتری اور زیادہ مشکل ہو گئی اور کاربن شدت بہتری کو ارزاں – کاربن پیداوار پر مزید بھاری انحصار کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

صنعتی شعبے میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی شدت 14.8 فیصد تک  کم ہوئی اور صنعتی قدر کے فی یونٹ توانائی کا استعمال 2005ء سے 2008ء تک میں 13.3 فیصد تک کا اضافہ شامل ہے۔ بناوٹی تبدیلیاں شامل ہوئیں جیسے بھاری صنعت کی ترقی دوسری صنعتوں کی نسبت سست رہی اور جیسے صنعت اعلیٰ اضافی – قدر کی مصنوعات کی جانب منتقل ہوئیں۔اس کے علاوہ 2005ء سے 2009ء کے عرصے کے دوران فولاد کی صنعت میں سے 5 فیصد، سیمنٹ کی صنعت میں سے 17 فیصد اور تانبے کی دھات کاری میں سے تقریباً 35 فیصد بند ہونے سے فی یونٹ پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری ہوئی۔ صنعتی شعبے میں استعمال کے آلات میں سے بہت سے اوپر-نیچے انضباطی اقدامات تھے  جس کے لیے نمایاں انتظامی وسائل درکار ہیں جو مستقبل کے اہداف کے حصول کے لئے زیادہ مؤثر بہ لاگت راستہ نہیں ہو سکتا۔

جنگلات کے شعبے میں جنگل لگانے کے کام  نے کاربن کا انجذابی عمل بنانے میں نمایاں حصہ لیا۔

ٹسنگ ہاؤ میں سی پی آئی کے ڈائریکٹر کیو یے نے کہا کہ “12 ویں پنج سالہ منصوبہ کی طرف دیکھتے ہوئے پالیسی ساز ان اقدامات کی توسیع دیکھیں گے جنہوں نے کام کرنے کے ساتھ قیمت کی تاثیر میں اضافہ کیا۔ہم امید کرتے ہیں کہ چوٹی کے 1000 انٹرپرائز منصوبے اور کارخانوں کی بندش کی حکمت عملی کی تاثیر پر سی پی آئی کی مزید تحقیق کی قدر کی جائے گی۔”

رپورٹ http://www.climatepolicyinitiative.org پر دستیاب ہے۔

سی پی آئی کے بارے میں

موسمی پالیسی اقدام ایک موثر حکمت عملی کی تحقیق اور مشاروتی خدمت ہے جس کا مقصد ارزاں – کاربن پیداوار کے حصول کے لیے قوموں کی کوششوں کی جانچ، تشخیص اور اس میں تعاون کرنا  ہے۔ جارج سوروس کی طرف سے طویل-مدتی تعاون کے ساتھ ایک آزاد ، غیر منافع بخش تحقیقی ادارہ سی پی آئی سان فرانسسکو میں صدر دفتر اور برلن، بیجنگ، ریو دے جینیرو اور وینس میں ضلعی دفاتر رکھتا ہے۔

ذریعہ: موسمی پالیسی اقدام

رابطہ: موسمی پالیسی اقدام کی روبی بارکلے،

+1-510-612-5180،

ruby@climatepolicyinitiative.org