سماٹرا کے اورنگوتان بندروں کے بچاؤ کے منصوبے کو پلپ اور کاغذسازی صنعت سے خطرہ

AsiaNet 42575

جامبی، انڈونیشیا، 15 دسمبر 2010ء / پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

شیروں کے لیے عالمی ترجیحی مقام کے طور پر نامزد کیا جانے والا اور نایاب اورنگوتان بندروں کے حفاظتی منصوبے کا مسکن سماٹرا کا برساتی جنگل دنیا کے ایک بڑے کاغذ فراہم کنندہ کی جانب سے درختوں کا صفایے کا ہدف ہے۔

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 2004ء سے اے پی پی سے منسوب ادارے بوکٹ ٹگاپلوہ علاقے کے گھنے قدرتی جنگلات میں منتخب درخت کاٹنے کی رعایت تلاش کررہے ہیں۔ اداروں نے بعض اوقات قانوناً قابل اعتراض حالات میں جنگلات کو صنعتی لکڑی کے کارخانے کے لیے مزروعہ علاقے کی منظوری کا حکومتی فرمان  حاصل کیا ہوا ہے۔ یہ درختوں کو کاٹنے اور کاروباری کارخانے قائم کرنے، جنگل کے مقامی رہائشی قبائل کو بے گھر کرنے اور اس نسل کو ختم کرنے کا اجازت نامہ ہے۔  یہ ملک کے اس دعوے کی خلاف ورزی ہے کہ وہ اعلیٰ معیار کے جنگلات کا صفایا نہیں کررہا۔

آئیز آن دا فارسٹ کے سوسانتو کرنیاوان نے کہا کہ “ہماری تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ چھ سالوں میں، اس خطے کے ادارے نے کسی پیشہ وارانہ جانچ یا اسٹیک ہولڈر کے مشورہ کے بغیر اکیلے ہی جنگل کے تقریباً 60000 ہیکٹر کو ضائع کرنے میں حصہ لیا۔ بوکٹ ٹگاپلوہ وسطی سماٹرا میں باقی بچ جانے والے چند برساتی جنگلات میں سے ایک ہے؛ لہٰذا ہم حکومت سے اسے اے پی پی /ایس ایم جی کو نہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو بے دردی سے اسے ختم کردیں گے اور مقامی برادری اور حیاتی تنوع کو برباد  کردیں گے۔”

بوکٹ ٹگاپلوہ بندرگاہ قدرتی درختوں کے 320000 ہیکٹر کے قریب واقع ہے جہاں تقریباً 30 ٹائیگر، 150 ہاتھیوں اور 130 بچ جانے والے اورنگوتان رہتے ہیں جنہیں یہاں چھوڑا گیا تھا۔  فرینکفرٹ زولوجیکل سوسائٹی کے جولیوس پاؤلو سریگر نے کہا کہ “یہ عظیم بے دم بندر جانوروں کی غیر قانونی تجارت  سے بچ گئے تھے، اور انہیں بحق سرکار ضبط کرلیا گیا تھا اور آخرکار انہیں زندہ رہنے اور جانوروں کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ جنگلات کی تبدیلی کے منصوبہ کا مقصد ان میں سے بہت سوں کی موت ہے۔”

وارسی کی جانب سے ڈیکی کرنیاوان نے کہا کہ “یہ جنگل کے دو رہائشی قبیلوں کا بھی گھر ہے – ارانگ رمبا اور تالانگ مامک – جنہیں اے پی پی اور دیگر اداروں نے ان کی  آبائی سرزمین سے بے دخل کردیا تھا۔ اب ان میں بہت سے زندہ رہنے کے لیے بخشش کی بھیک مانگ رہے ہیں۔”

بوکٹ ٹگاپلوہ بین الاقوامی سائنسدانوں کی جانب سے شیروں  کی طویل المعیاد بقا کے لیے 20 سرزمینوں میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے۔ نومبر میں انڈونیشیا نے عالمی ٹائیگر سمٹ میں شیروں کے  تحفظ کے لیے اسے ایک مرکزی علاقہ بنانے کا عہد کیا تھا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف – انڈونیشیا کی  ادتیا بیاننڈا نے کہا کہ “بوکٹ ٹگاپلوہ انڈونیشیا کے مملکت ناروے کے ساتھ 1 ملین ڈالر کے ماحولیاتی معاہدوں کا زبردست امتحان ہے۔ ہم انڈونیشیا کے قدرتی ورثے اور جنگلات کے تحفظ کا راستہ تلاش کرنے میں حکومت کی مددکرنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔”

رپورٹ یہاں موجود ہے: http://www.wwf.or.id/btp_report_dec10_pdf

ادتیا بایوناندا: +62818265588 / abayunanda@wwf.or.id

ذریعہ: ڈبلیو ڈبلیو ایف

رابطہ: ادتیا بایوناندا، +62818265588، abayunanda@wwf.or.id