بل گیٹس نے تیسرا سالانہ خط جاری کردیا، عالمی صحت اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے ہموار غیر ملکی امداد کا مطالبہ

AsiaNet 43072

نیویارک، یکم فروری 2011ء / پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

تاریخی روزویلٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے گیٹس نےخلاصہ  پیش کیا کہ دنیا کو ویکسینز اور پولیو کے خاتمے کو ترجیح دینا کیوں ضروری ہے

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک چیئر بل گیٹس نے آج جاری کردہ اپنے تیسرے  سالانہ  خط  میں پولیو کے خاتمے اور بچوں میں  وسیع  پیمانے پر حفاظتی ٹیکوں کے معاملے پر اظہار خیال کیا ہے۔ان کی ذاتی ترجیحات پر مبنی خط ایک کٹھن اقتصادی ماحول کا سامنا کرنے کرتے ہوئے حکومت سے غیر ملکی امداد میں سرمایہ کاری کرنے کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔

خط میں گیٹس نے تحریر کیا کہ “اگر معاشرے افراد کو بنیادی صحت  فراہم نہیں کرسکتے، اگر یہ افراد کو خوراک اور تعلیم نہیں دے سکتے تو ان کی آبادی  اور مسائل  بڑھیں گے اور دنیا ایک غیر مستحکم جگہ بن جائے گی۔ خواہ  آپ اخلاقی ضرورت پر یقین رکھتے ہوں  یا امیر دنیا کے ذاتی مفاد روشن رکھنے میں، حالات کی حفاظت جو ہر ایک کے لیے ایک صحت مند، کامیاب مستقبل کی طرف لے جائے میرے خیال میں ایک ایسا مقصد ہے جس پر ہم سب اتفاق رکھتے ہیں۔”

گیٹس نے ریاستہائے متحدہ امریکا کے اسکولوں کی مسلسل بہتری کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ماں اور بچے کی صحت، ملیریا، ایچ آئی وی / ایڈز اور زراعت کے لیے مزید رہنمائی، جدت اور سرمایہ کاری کا تقاضہ کیا۔

گیٹس نے ویکسین کی قدر پر بطور پولیو کے خاتمے کی اہم مثال کے توجہ مرکوز کی۔  بچپن کے حفاظتی ٹیکوں کی عالمی جدوجہد کے نتیجے میں پولیو 99 فیصد تک ختم ہوا  اور صفحہ ہستی سے مٹنے والا محض دوسرا مرض بننے کی دہلیز پر ہے۔

گیٹس نے کہا کہ “پولیو سے چھٹکارا حاصل کرنے کا مطلب ہے کہ کوئی بچہ اس مرض سے مفلوج یا معذور نہیں ہوگا۔ انسانی حالات میں کوئی اہم پیش قدمی کے لیے حل اور دلیر قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم بہت قریب ہیں، لیکن ہمیں اس سفر کے آخری مرحلے کو ختم کرنا ہوگا۔”

پولیو کے لیے نئی امداد  کا اعلان گزشتہ ہفتے برطانوی حکومت اور ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان کی جانب سے کیا گیا جس سے  2012ء کے وسط تک انسداد پولیو کی کوششوں کو  مکمل فنڈ کرنے کے لیے درکار 720 ملین ڈالر کا خسارہ کم ہوگا۔ ایک حالیہ تحقیق سے اندازہ ہے کہ اس مرض کے خاتمے سے ہونے والے پیداوار میں اضافے اور علاج معالجے کی فراہمی سے چھٹکارہ پانے سے دنیا میں 50 ارب ڈالر تک کی بچت ہوسکتی ہے۔

گیٹس نے اپنا خط فرینکلن ڈیلانو روز ویلٹ کے سابقہ نیویارک رہائش تاریخی روز ویلٹ ہاؤس میں تقریر کے ساتھ جاری کیا ہے جہاں مستقبل کے صدر نے 39 سال کی عمر میں پولیو سے متاثر ہوجانے کے بعد تندرستی حاصل کی تھی۔ روز ویلٹ اور ان کے قانونی شراکت دار باسل او ‘ کینر نے بعد میں قومی فاؤنڈیشن برائے فالج اطفال کا آغا زکیا جس کی پولیو کے خلاف مارچ آف ڈائمز جدوجہد نے ملک کو متحرک کیا اور ایک موثر ویکسین کے تلاش میں مدد کے لیے لاکھوں ڈالر جمع کیے۔

پولیو نے دنیا بھر کے بچوں کو ایک بار خوف میں مبتلا کیا تھا لیکن اب صرف چار ملک  – افغانستان، بھارت، نائیجیرا اور پاکستان – ایسے ہیں جہاں پولیو کا سلسلہ رکا نہیں۔ گزشہ سال نائیجیریا اور بھارت میں غیر معمولی پیش قدمی نظر آئی جہاں 2009ء کے مقابلہ میں پولیو کے کیسز تقریباً 95 فیصد تک کم ہوگئے۔ لیکن پھر بھی کچھ الگ کیسز حدود سے تجاوز کر سکتے ہیں اور یہ چنگاری  دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔

گیٹس نے زور دیا کہ انسداد پولیو کی تکمیل صحت کی سرمایہ کاری  – خصوصاً ویکسینز میں سرمایہ کاری  – کا حقیقی اثر دکھاتے ہوئے عالمی صحت کے میدان میں طاقت فراہم کرسکتا ہے۔  گزشہ سال گیٹس نے آیندہ  10 سالوں کو ویکسینز کی دہائی کے نام سے موسوم کیا تھا،آج سے دس  سال بعد کی دنیا کا تصور جہاں عالمی صحت کمیونٹی ہر ضرورت مند بچے کو زندگی – بچانے والی ویکسین فراہم کرنے کے لیے یکجا ہوجائے اور ان ویکسینز میں سرمایہ کاری کرے جو اب تک موجود نہیں۔

گیٹس نے تحریر کیا کہ “ہر کوئی میدان میں نہیں اتر سکتا  یا  عطیہ تک نہیں کرسکتا۔ لیکن ہم میں سے ہر ایک ان لوگوں کا وکیل ہو سکتا ہے جن کی آوازیں اکثر نہیں سنی جاتیں۔ میں لوگوں کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے کام کرنے میں شمولیت پر ہر ایک کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔یہ زندگی کے لیے اپنی طرف متوجہ کرے  گا۔”

سالنامہ خط کے بارے میں

–       بل گیٹس کا 2011ء سالنامہ خط یہاں سے حاصل کیا جاسکتا ہے: http://www.gatesfoundation.org/annualletter

–       31جنوری 2011ء کو “انسداد پولیو اور ویکسینز کی طاقت” کے ایونٹ  کی براہ راست ویب کاسٹ http://www.gatesfoundation.org  پر 9:30 صبح ای ٹی / 6:30 صبح پی ٹی پر دیکھی جاسکتی ہے۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے بارے میں

ہر  زندگی یکساں اہمیت کی حامل ہے، اس یقین کے ذریعے اپنی راہیں متعین کرنے والی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن دنیا بھر کے افراد کو صحت مند و سیر حاصل زندگی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں، اس کی نگاہیں لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے اور انہیں خود کو بھوک اور انتہائی غربت سے باہر نکلنے میں مدد دینے کا موقع فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔ریاستہائے متحدہ  امریکا میں، اس کی خواہش اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ تمام افراد – بالخصوص وہ جن کے پاس وسائل کم ہیں – کو اسکول اور زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری مواقع تک رسائی حاصل ہو۔ سیاٹل، واشنگٹن میں واقع فاؤنڈیشن کی قیادت سی ای او جیف ریکس اور شریک چیئر ولیم ایچ گیٹس سینئر کر رہے ہیں، اور بل اور میلنڈا گیٹس اور ویرن بوفیٹ کی زیر ہدایت کام کر رہے ہیں۔

ہائی – ریزولیشن غیر متحرک فوٹو گرافی اور نشریاتی – معیار کی فوٹیج کے لیے  ملاحظہ فرمائیں: http://www.gatesfoundation.org/press-room/Pages/news-market.aspx۔

ذریعہ: بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

رابطہ: بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، +1-206-709-3400، media@gatesfoundation.org