حکومت برطانیہ اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے پولیو کے خاتمہ کے لیے نئے عہد کا اعلان کردیا

AsiaNet 43065

ڈیووس، سویٹزرلینڈ ، 29 جنوری 2011ء / پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

پولیو ویکسینز سے حاصل ہونے والے شاندار نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس نے عالمی رہنماؤں سے کام مکمل کرنے کا مطالبہ کردیا

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے آج کہا ہے کہ برطانیہ انسداد پولیو کے لیے اپنی موجودہ شراکت کو دوگنا کرے گا

جناب  کیمرون نے دیگر عطیہ کنندگان سے عالمی سطح پر انسداد پولیو کے اقدام کو مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے برطانیہ کی وابستگی کا اعلان کیا جس کی مدد سے مزید 45 ملین بچے بیماری کے خلاف مکمل طور پر ویکسی نیٹڈ ہوجائیں گے ۔

20 سالوں میں پولیو کیسز میں 99 فیصد تک کمی آچکی ہے اور یہ – چیچک کے بعد  – تاریخ انسانی میں مکمل طور مٹ جانے والی دوسری بیماری بننے کے قریب ہے ۔ 2010ء میں بھارت اور نائیجیریا – تاریخی طور پر خاتمے کے لئے سب سے مشکل مقابلے – میں سے ہر ایک میں 95 فیصد کیسز کم ہوئے۔ تاہم آج بھی پولیو درجن سے زائد ممالک میں موجود ہے  اور بچوں کو معذور  و ہلاک کررہا ہے۔

وزیر اعظم کیمرون نے کہا کہ “میں صمیم قلب سے یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس دنیا کو پولیو سے آزاد کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔ اس کام کے لیے ہمارے پاس ویکسینز اور آلات  دستیاب ہیں۔ اگر کچھ نہیں ہے تو اس کوشش کو اختتام تک لے جانے کے لیے ہموار سیاسی عزم نہیں ہے۔

“اسی وجہ سے میں آج اعلان کررہا ہوں کہ برطانیہ آئندہ دو سالوں کے دوران گلوبل پولیو ایریڈی کیشن انیشی ایٹو میں اپنی مدد کو دوگنا کرنے کے ذریعے پولیو کے خلاف مزید 45 ملین بچوں کو مکمل طور پر ویکسی نیٹڈ کرنے کے لیے تیار ہے ۔

“اس عہد کے بدلے میں ہم دیگر عطیہ کننددگان سے ان کا تھوڑا سا تعاون اور متاثرہ ممالک سے اپنے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

“ہم پولیو کو ختم کرنے کے انتہائی قریب آچکے ہیں۔ ہم اپنے تمام بچوں کو پولیو سے آزاد دنیا فراہم کرنے کے قریب ہیں۔ اب یہ کام مکمل کرتے ہیں۔ اور پولیو کو ایک بار ہمیشہ کے لیے ختم  کردیتے ہیں۔”

ڈیووس، سویٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے بل گیٹس نے اعلان کیا کہ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے مرض کے خاتمے پر مہر ثبت کرنے کی کوششوں میں مدد کے لیے مزید 102 ملین ڈالر  مختص کیے ہیں۔

گیٹس نے کہا کہ ” پولیو کا باقی ماندہ ایک فیصد وجود ختم کرنے کے لیے اس قسم کی سیاسی قیادت مطلوب ہے جیسی آج برطانوی حکومت اور وزیر اعظم کیمرون کی طرف سامنے آئی۔ انسداد پولیو کے لیے جدید سوچ اور سیاسی عزم کے ساتھ عطیہ کنندگان کی صف سے فنڈ بھی ضروری ہے تاکہ ایک جارحانہ پروگرام میں مدد سے اس کام کو مکمل کیا جاسکے۔”

برطانیہ کی بین الاقوامی ترقی کے لئے ریاست کے سیکرٹری اینڈریو مچل  نے کہا کہ “برطانیہ پولیو کے خلاف جنگ میں سب سے آگے ہے۔ ہم پہلے ہی گزشتہ دو سالوں کے دوران بچوں کو پولیو ویکسین کی  1.2 بلین خوراکوں کے لیے فنڈ فراہم کرچکے ہیں اور ہمارے اس نئی وابستگی کا مطلب ہے کہ اس خوفناک بیماری سے مزید لاکھوں بچے کو محفوظ ہوسکیں گے۔

“مکمل خاتمے کی حتمی منزل صرف اسی صورت میں حاصل کی جاسکتی  ہے کہ جب دیگر ممالک اور انجمنیں اپنا کردار ادا کریں اور فنڈ فراہم کریں۔”

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مارگریٹ چن جنہوں نے گلوبل پولیو ایریڈی کیشن انیشی ایٹو کی سربراہی کی اعلان کے لیے وزیر اعظم اور جناب گیٹس کے ساتھ شامل ہوئے۔

ڈاکٹر چن نے کہا کہ “یہ نئی سرمایہ کاری پولیو کے خلاف جنگ میں اہم وقت پر آئی  ہے۔ اب ہمارے پاس ایک وقت میں سب سے کم کیسز کے ساتھ بہت سے مواقع ہیں۔ لیکن اگر یہاں کہیں بھی پولیو ہوا تو ہمیں ہر جگہ پولیو کا خطرہ ہوگا۔ صرف خاتمہ ہی اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ عالمی خطرہ کے طور پر پولیو دوبارہ نہیں اٹھے گا۔”

برطانیہ کی جانب سے نئے فنڈ کے ساتھ اس ہفتہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادے عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان کی اعلان کردہ مدد 720 ملین ڈالر کے خلا کو پر کرنے میں مدد کرے گی۔

پولیو کا مرض  چار ممالک  – افغانستان، بھارت، نائیجیریا اور پاکستان  – میں موجود ہے اور گزشہ سال انکولا، وسطی جمہوریہ کانگو اور تاجکستان میں بھی یہ  بیماری پھوٹی تھی۔

نئی فنڈنگ جی پی ای آئی کو ویکسینز کی خریدار اور حفاظتی ٹیکوں کی سرگرمیاں انجام دینے میں مدد کرے گی۔ آئندہ دو سالوں میں نوعمر بچوں میں حفاظتی ٹیکوں کے لیے تین ارب  سے زائد اورل پولیو ویکسینز کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ حفاظت  اور تکنیکی مدد جیسی سرگرمیوں کے لیے بھی فنڈنگ درکار ہے۔ انسداد پولیو کے ملازمین کم آمدنی والے ممالک میں حفاظتی ٹیکوں کے لیے تکنیکی مدد کا واحد بڑا ذریعہ ہیں۔ اس پروگرام کے تحت نئے فنڈز حال ہی میں وائرس کی وبا سے متاثر ہونے والے علاقوں جیسے جمہوریہ کانگو  میں ہنگامی امداد کے لیے بھی مختص کیے جائیں گے۔

گزشہ سال عالمی اقتصادی فورم میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس نے اگلے 10 سالوں کو ویکسینز کی دہائی کے نام سے موسوم کیا تھا۔آج سے 10 سال بعد کی دنیا کا تصور جہاں عالمی صحت کمیونٹی ہر ضرورت مند بچے کو زندگی – بچانے والی ویکسین فراہم کرنے کے لیے یکجا ہوجائیں اور ان ویکسینز میں سرمایہ کاری کریں جو اب تک موجود نہیں۔

اس پہلے سال نے یادگار کامیابی دیکھی:

–       برکینا فاسو میں گردن توڑ بخار کی ایک نئی ویکسین پیش کی گئی

–       لاطینی  امریکا اور افریقہ میں نمونیا ویکسین فراہمی فنڈ میں گاوی کا اعلی درجے مارکیٹ عہد کا نظام

–       نائیجیریا (2009ء میں 388 سے 19 کیسز تک کمی) اور بھارت (2009ء میں 741 کے مقابلہ میں 41 کیسز) میں پولیو میں غیر معمولی کمی

–       ایک عملی  ملیریا ویکسین تیار کرنے میں اہم پیش رفت

دنیا بھر سے شراکت دار  اگلی دہائی میں دریافت کی رہنمائی، ترقی اور  زندگی بچانے والی ویکسین کی فراہمی کے لیے ایک گلوبل ویکسین ایکشن پلان کی وضاحت کرنے کے لیے جمع ہورہے ہیں۔

مدیران کے لیے ہدایات

جنوری 2011ء کو ڈیووس پر برطانوی پولیو اعلان کے بارے میں

موضوع کے لیے دو شرائط، برطانیہ آئندہ دو سالوں کے دوران جی پی ای آئی میں اپنی مدد کو دوگنا کرے گا  (40 ملین جی بی پی سالانہ تک) جو کہ  مزید 45 ملین بچوں کو مکمل طور پر ویکسنیٹ کرنے میں مدد فراہم کرے  گا۔ دونوں شرائط ہر سال صرف اضافی 20 ملین جی بی پی پر لاگو ہوں گی:

–       پہلی، یہ مزید مدد حفاظتی ٹیکوں کے معمول کو مضبوط بنانے کی اضافی عہد  کی تائید میں فراہم کی جارہی ہے۔ معمول کے کام ملک کی بنیادی پر حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت اہم ہیں کہ مستقبل میں پولیو کے خاتمے کو برقرار رکھا جاسکے۔ اگر ہم مستقبل میں خاتمے کو برقرار رکھنے کی توقع کرتے ہیں تو اب ممالک کو ترجیحی بنیادیوں پر قومی صحت نظام بنانے کی ضرورت ہے۔

–       دوسری، ہماری مدد فنڈ کی بنیادی مماثلت کے ذریعے وسعت اور گہری فنڈنگ  کی ترتیب میں دوسروں کی کوششوں پر مثبت انداز سے اثر انداز ہوتا ہے

–       فنڈ کی بنیادی مماثلت کس طرح کام کرتی ہے؟ یکم جنوری 2011ء سے 31 دسمبر  2012ء تک دوسروں کی جانب سے ہر 5 ڈالر کا عہد کے لیے برطانیہ اپنی مدد میں 1 ڈالر سے لے کر اعلان کردہ مزید 40 ملین جی بی پی تک بڑھا ئے گا۔

برطانیہ کے چیلنج کا مقصد جی پی ای آئی کے عطیہ کنندگان میں وسعت  میں مدد فراہم کرنا  اور مستقبل میں جانے کے ہموار فنڈنگ کے اختیارات کو مضبوط کرنا اور دوسروں کو اس میں شامل ہونے کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے بارے میں

ہر  زندگی یکساں اہمیت کی حامل ہے، اس یقین کے ذریعے اپنی راہیں متعین کرنے والی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن دنیا بھر کے افراد کو صحت مند و سیر حاصل زندگی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں، اس کی نگاہیں لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے اور انہیں خود کو بھوک اور انتہائی غربت سے باہر نکلنے میں مدد دینے کا موقع فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔ریاستہائے متحدہ  امریکا میں، اس کی خواہش اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ تمام افراد – بالخصوص وہ جن کے پاس وسائل کم ہیں – کو اسکول اور زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری مواقع تک رسائی حاصل ہو۔ سیاٹل، واشنگٹن میں واقع فاؤنڈیشن کی قیادت سی ای او جیف ریکس اور شریک چیئر ولیم ایچ گیٹس سینئر کر رہے ہیں، اور بل اور میلنڈا گیٹس اور ویرن بوفیٹ کی زیر ہدایت کام کر رہے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ فرمائیں: http://www.gatesfoundation.org

فاؤنڈیشن کے کاموں کے بارے میں  معلومات اور ہائی – ریزولیشن غیر متحرک تصویر کے لیے  ملاحظہ فرمائیں: http://www.gatesfoundation.org/press-room/Pages/news-market.aspx۔

گلوبل پولیو ایریڈی کیشن انیشی ایٹو کے بارے میں

گلوبل پولیو ایریڈی کیشن انیشی ایٹو ایک پبلک – پرائیوٹ شراکت داری ہے جس کی قیادت قومی حکومتیں اور رہنمائی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، روٹری انٹرنیشنل، امریکی مرکز  برائے امراض کنٹرول و بچاؤ (سی ڈی سی) اور اقوام متحدہ فنڈ برائے اطفال (یونیسف) کررہی ہیں۔ اس کا مقصد دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ ہے۔

امریکی حکومت، روٹری انٹرنیشنل، حکومت ہندوستان، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور برطانوی حکومت جی پی ای آئی کے بڑے  عطیہ کنندگان ہیں۔

ذریعہ: بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

رابطہ: ایلکس ریڈ، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن

Alex.reid@gatesfoundation.org

+44-7912-242-416؛

بینجمن سوؤل، وزیر اعظم کے ابلاغ دفتر

BSaoul@no10.x.gsi.gov.uk

+44(0)20-7930 4433؛

یا روب کیلی، ڈی ایف آئی ڈی

R-Kelly@dfid.gov.uk

+44(0)207-023-0600