عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے بچوں کے تحفظ کے لیے شراکت داری کرلی

AsiaNet 43015

سیاٹل اور ابوظہبی، متحدہ عرب امارات، 26 جنوری 2011ء / پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

افغانستان اور پاکستان میں بیماریوں سے بچاؤ  کے لیے دونوں مل کر 100 ملین ڈالر عطیہ دیں گے

متحدہ عرب امارات کی افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر اور ابوظہبی کے ولی عہد شہزادے عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان  اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک چیئر بل گیٹس نے آج اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان میں موجود بچوں کو زندگی بچانے والی ویکسینز فراہم کرنے کے لیے مل کر  کام کریں گے۔ یہ شراکت داری اہم ویکسینز کی خریداری اور تقسیم کے لیے مجموعی طور پر 100 ملین ڈالر – فی شراکت دار 50 ملین ڈالر – عطیہ کرے گی جو کہ افغان اور پاکستانی بچوں کو  محفوظ رکھیں گی اور زندگی بھر کے لیے امراض سے بچائیں گی۔

شیخ محمد بن زید نے کہا کہ “تمام بچوں کی طرح افغانستان اور پاکستان کے بچے بھی معیاری صحت اور مواقع ملنے کا حق رکھتے ہیں جو تحفظ بچپن میں فراہم کیا جاسکتا ہے۔ ذاتی، سماجی، قومی اور بین الاقوامی مفاد جو کہ بڑھنے والی نسل کو بیماریوں سے بچاؤ کے نتیجے میں  آنے والی نسلوں کو امکانی طور پر ان سے بچایا جاسکتا ہے۔”

افغانستان اور پاکستان کے بچے خصوصاً پولیو اور نمونیا جیسی خطرناک بیماریوں کی زد میں ہیں۔ ان بچوں تک رسائی میں حائل رکاوٹوں میں دونوں ملکوں میں موجود خطوں کے درمیان تنازعات، صحت کی غیر مساوی سہولیات اور صوبوں کے درمیان حفاظت کی سطح اور پاکستان کی صورت میں گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے بعد بحالی کا سست عمل ہے۔

جناب گیٹس نے کہا کہ ” ویکسین زندگی کے لیے بہت سی خطرناک بیماریوں سے بچوں کی حفاظت کر کے بچے کو زندگی کی صحت مند شروعات کرنے کا بہترین راستہ فراہم کرتی ہیں۔ یہ شراکت داری اس کی زبردست مثال ہے کہ کس طرح عالمی کمیونٹی مل کر افغان اور پاکستانی بچوں، ان کے خاندان اور معاشرے کوصحت مند بنانے میں مدد کر سکتی ہیں۔”

افغانستان میں چار بچوں/بچیوں میں سے ایک اپنی پانچویں سالگرہ دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہتا /رہتی، اس ملک میں شیرخوار اور پانچ – سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات  دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

مکمل فنڈ میں سے دو تہائی افغانستان میں نمونیا کی نئی ویکسین متعارف کروانے اور پنٹاولنٹ ویکسین کی خریداری  و تقسیم کے لیے گاوی الائنس کو دیا جائے گا۔ یہ ویکسین پانچ سال سے کم عمر بچوں کے سب سے بڑے قاتل بشمول نمونیا، خناق، کالی کھانسی،  ٹیٹنس، ہپاٹائٹس بی اور گردن توڑ بخار کا سبب ہیموفلوس انفلوئنزا ٹائپ بی (ایچ آئی بی) سے بچوں کی حفاظت کرے گا۔

مختص فنڈز میں سے باقی بچ جانے والے 34 ملین  افغانستان اور پاکستان میں پولیو ویکسین تقسیم کرنے کے لیے عالمی ادارہ صحت اور یونی سیف کو فراہم کیے جائیں گے۔ اگر چہ گزشہ 20 سالوں کے دوران دنیا بھر میں پولیو کا 99 فیصد خاتمہ ہو چکا ہے، لیکن افغانستان اور پاکستان صرف ان چار میں سے دو ملک ہیں  جہاں پولیو کی بیماری ختم نہیں ہوئی۔ ابھی تک  ان دونوں ممالک کی عوام کے درمیان معذوری کے  اس مرض کی سرایت کا سلسلہ جاری ہے۔

شراکت داری کے نتیجے میں افغانستان کے تقریباً پانچ ملین بچوں کو چھ جان لیوا بیماریوں سے بچاؤ اور عالمی ادارہ صحت اور یونی سیف کے کارکنوں کو اورل پولیو ویکسین کے ساتھ پاکستان اور افغانستان میں تقریباً  35 ملین بچوں تک رسائی میں مدد کرے گی۔

فاؤنڈیشن کے کاموں کے متعلق معلومات اور ہائی – ریزولیشن غیر متحرک تصویر کے لیے  ملاحظہ فرمائیں: http://www.gatesfoundation.org/press-room/Pages/news-market.aspx

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے بارے میں

ہر  زندگی یکساں اہمیت کی حامل ہے، اس یقین کے ذریعے اپنی راہیں متعین کرنے والی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن دنیا بھر کے افراد کو صحت مند و سیر حاصل زندگی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں، اس کی نگاہیں لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے اور انہیں خود کو بھوک اور انتہائی غربت سے باہر نکلنے میں مدد دینے کا موقع فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔ امریکہ میں، اس کی خواہش اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ تمام افراد – بالخصوص وہ جن کے پاس وسائل کم ہیں – کو اسکول اور زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری مواقع تک رسائی حاصل ہو۔ سیاٹل، واشنگٹن میں واقع فاؤنڈیشن کی قیادت سی ای او جیف ریکس اور شریک چیئر ولیم ایچ گیٹس سینئر کر رہے ہیں، اور بل اور میلنڈا گیٹس اور ویرن بوفیٹ کی زیر ہدایت کام کر رہے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے www.gatesfoundation.org  ملاحظہ فرمائیں یا فیس بک (http://www.facebook.com/billmelindagatesfoundation) اور ٹویٹر (http://twitter.com/gatesfoundation) کے ذریعے گفتگو میں شامل ہوں۔

افغانستان اور پاکستان کے لیے متحدہ عرب امارات کی انسانی ہمدردی

افغانستان

2009ء میں بڑے پیمانے پر عدم تحفظ، تشدد میں اضافے، غربت، شدید پسماندگی اور قدرتی آفات جیسے زلزلے اور سیلاب نے افغانستان کی بنیادی خوراک کے عدم تحفظ میں کردار ادا کیا ؛ 2007ء – 2008ء نیشنل رسک اینڈ ولنرایبلٹی اسسمنٹ نے یہ معلوم کیا کہ 7.4 ملین افراد – یعنی آبادی کا کم و بیش تہائی حصہ – زندہ رہنے اور صحت مند زندگی کے لیے معقول خوراک کے حصول میں ناکام ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے 2009ء میں افغانستان کی امداد میں 1.26 بلین عرب اماراتی درہم (343.4 ملین امریکی ڈالر) سے زائد عطیات دیے، جو متحدہ عرب امارات کی رواں سال غیر ملکی امداد کا 14 فیصد حصہ ہے۔گو کہ متحدہ عرب امارات کے کئی عطیہ کنندگان افغانستان میں مصروف عمل ہیں، امداد کا تقریباً 73 فیصد  (918.3 ملین عرب اماراتی درہم) گرانٹ کے طور پر ابوظہبی فنڈ برائے ترقی کے زیر انتظام ہے۔ اس رقم کا بڑا حصہ (863.2 ملین عرب اماراتی درہم) تعمیرات  کے لئے مختص ہے جبکہ بقیہ رقم ذرائع نقل وحمل اور غذا کو محفوظ بنانے کے لیے وقف ہے۔ تقریبا 26.8 ملین اماراتی درہم سماجی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور خدمات کے لیے خرچ کیے گئے۔

متحدہ عرب امارات افغانستان میں بامعنی انسانی امداد  کا عمل جاری رکھے گا جیسا کہ وہ 2003ء  سے کررہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور رضاکاروں نے درج ذیل تعمیرات کے لیے انجمنوں جیسے ہلال احمر  کے ذریعے بڑی تعداد میں امداد دی:

–        11 اسکول جو روزانہ 300 طالب علموں کو تعلیم دیتے ہیں

–        چھ طبی دواخانے جو 35,000 افغان مریضوں کا علاج کرتے ہیں

–        زید یونیورسٹی، افغانستان 6,400 سے زائد طالب علموں کی مستفید کرتی ہے

–        7,000 مریضوں کی سالانہ گنجائش کا حامل ایک بڑا اسپتال

–        38 مساجد جن میں سے ہر ایک 300 افراد کو عبادت کی سہولت فراہم کرتی ہے

–        ایک عوامی کتب خانہ جو روزانہ 400 سے زائد طالب علموں اور حاضرین کی خدمت کرتا ہے

–        زید سٹی میں 200 دربدر خاندانوں کے لیے رہائش گاہیں؛ اور

–        پینے کے صاف پانی فراہم کرنے کے لیے 160 کنویں

پاکستان

2009ء میں وادی سوات ، جنوبی وزیرستان اور پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبوں کے تقریباً دو ملین افراد  کو پاکستان فوج اور طالبان کے درمیان تصادم کے نتیجے میں گھروں سے نکال دیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے شمال مشرقی پنجاب کے علاقہ میں سیلاب کے باعث 20 ملین افراد  دربدر ہوگئے۔

پاکستانی افراد کی ضروریات حکومت پاکستان کی گنجائش سے زیادہ ہوچکی ہیں اور اسی نے متحدہ عرب امارات کو بڑے رد عمل پر اکسایا۔ مجموعی طور پر پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے عطیہ کنندگان سے 1.6  بلین عرب اماراتی درہم کا عطیہ حاصل کیا۔ علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات کی فوج نے سیلاب سے تباہ ہونے والے دور دراز علاقوں میں امداد فراہم کرنے او ر ریلیف مشن چلانے کے لیے تین متحدہ عرب اماراتی چینوک ہیلی کاپٹر بھیجے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ منصوبے کے جواب میں حکومت نے ابوظہبی فنڈ برائے ترقی  کے زیر انتظام 998.5 عرب اماراتی درہم  کا عطیہ دیا۔ مختص کی جانے والی امداد میں نصف سے زائد صحت کے پروگراموں اور تقریباً تہائی جس میں ہنگامی امدادی کارروائی، تعمیر نو اور سانحے کی قبل از وقت تیاری کے لیے عام انسانی امدادمیں خرچ کی جائے گی۔

خلیفہ فاؤنڈیشن نے دربدر افراد کی فوری ضروریات کے لیے بڑی تعداد میں امداد فراہم کی جس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر)میں 55.1 ملین عرب اماراتی درہم سے زائد مالیت کی امداد بھی شامل ہے جو پورے سال کے دوران خرچ کی گئی۔

سال کے دوران حکومت نے مزید 590.6 ملین عرب اماراتی درہم کی امداد فراہم کی جس میں سے دو تہائی صحت کے منصوبوں  پر خرچ کی گئی۔ متحدہ عرب امارات کی انجمن ہلال احمر نے بھی 20.5 ملین عرب اماراتی درہم سے زائد عطیہ کیے۔

ذریعہ: بل اینڈ میلنڈاگیٹس فاؤنڈیشن

رابطہ: بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، media@gatesfoundation.org، +1-206-709-3400؛ Simon.pearce@eaa.gov.ae، +971-50-8181-627