ڈیووس: روسی حکومت نے شمالی قفقاز میں اسکی سیاحت کی ترقی کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں سے 15 ارب ڈالرز کا مطالبہ کر دیا

AsiaNet 42987

ڈیووس، سویٹزرلینڈ، 26 جنوری/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

– قفقاز میں پانچ نئے اسکی ریزورٹس کے منصوبے کے لیے 15 ارب ڈالرز کی سرکاری-نجی سرمایہ کاری کے انتظام کی خاطر نارتھ کاؤکیسس ریزورٹس کمپنی (NCRC) کا قیام

– صدر مدویدیف: “پیک 5642 قفقاز کی کایا پلٹنے جا رہا ہے”

– احمد بلالوف، نائب صدر روسی اولمپک کمیٹی، این سی آر سی کے بورڈ کے چیئرمین مقرر: “دہشت گردوں کو کچھ نہیں ملا – ہم نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے منصوبے کے خاتمے پر غور نہیں کیا”

– منصوبوں کا پہلا مرحلہ آج رات کو ڈیووس تقریب میں پیش کیا جائے گا

قفقاز میں پہاڑی ریزورٹس کے قیام کے لیے 15 ارب ڈالرز کے پروگرام کے نفاذ کے لیے روس کی وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا گیا نیا سرکاری ادارہ نارتھ کاؤکیسس ریزورٹس کمپنی (NCRC) آج رات اپنے منصوبوں کا پہلا مرحلہ سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرے گا۔

ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں ایک تقریب کے موقع پر این سی آر سی کے بورڈ کے مقررہ چیئرمین روسی اولمپک کمیٹی کے نائب صدر احمد بلالوف اس ترقی سے قفقاز کے علاقے میں آنے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالیں گے، اور 2014ء تک پہلے مہمانوں کے خیر مقدم کے لیے پانچ نئے اسکی ریزورٹس کی تیاری کے حوالے سے ادارے کے منصوبے ظاہر کریں گے۔

روسی اولمپک کمیٹی کے نائب صدر احمد بلالوف، جنہیں این سی آر سی کے بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، ادارے کے منصوبوں کے پہلے مرحلے کا انکشاف کریں گے، جس کی نگاہیں 2014ء کے اوائل تک سیاحوں کی میزبانی کے لیے پانچ نئے اسکی ریزورٹس کے تیار ہونے پر مرکوز ہیں۔

صدر مدودیف نے کہا کہ “پیک 5642 قفقاز کی کایا پلٹنے جا رہا ہے،” جنہوں نے ماسکو کے ہوائی اڈے دومودیفو پر ہونے والے دھماکے کے بعد ڈیووس کے لیے اپنا دورہ مؤخر کر دیا تھا۔ “یہ ظاہر کرے گا کہ ہم کس طرح سیاحت کے ذریعے غربت اور دہشت گردی کو شکست دیتے ہیں۔ 2014ء میں دنیا سوچی کا رخ کرے گی، اور ہم چاہتے ہیں کہ دنیا متواتر اس علاقے کا رخ کرتی رہے۔”

قفقاز کے علاقوں نے سالوں تک مسلح تنازعات اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو جھیلا ہے، جو خطے میں کم سرمایہ کاری، بے روزگاری اور ہجرت کا سبب ہے۔ امید کی گئی ہے کہ پیک 5642 علاقائی معیشت میں بہتر لانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جو سماجی فوائد کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف رکاوٹ لائے گی۔

منصوبے کا مقصد زیادہ تر غیر ترقی یافتہ قفقاز کے پہاڑوں کو ایک عالمی معیار کے سیاحتی مقام میں تبدیل کرنا ہے۔ علاقے کی ایشیا سے قربت کا مطلب ہے کہ یہ اسکیئرز کی ایک بڑی اور تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے لیے بڑی حدتک قابل رسائی ہے، جبکہ 240 ایام پر مشتمل موسم سرما، وافر برف باری، قدرتی چشمے اور دلفریب مناظر روس اور یورپی اتحاد دونوں کے سیاحوں کے لیے ایلپس کے کھچاکھچ بھرے ہوئے اور مہنگے ریزورٹس کو ممکنہ طور پر سخت مسابقت دیں گے۔ یہ بھی توقع ہے کہ سرمایہ کاری روسی باشندوں کی اسکی انگ میں دلچسپی کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ اس وقت محض 2 فیصد روسی باشندے اس کھیل میں حصہ لیتے ہیں۔

پیر کو ماسکو ہوائی اڈے پر دہشت گرد حملے کے بعد احمد بلاولف نے کہا کہ “ماسکو میں پیش آنے والے واقعات عسکریت پسندی کے خطرات کی بھیانک تنبیہ ہے۔ این سی آر سی اور اس کے شراکت داروں نے ایک لمحے کے بھی منصوبے کے خاتمے پر غور نہیں کیا۔ دہشت گرد لوگوں کو دھماکے سے اڑا کر قفقاز کے لیے آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کچھ بھی نہیں، یہ منکرین ہیں۔ دوسری جانب این سی آر سی قفقاز کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ایک اچھوتے خیال کی حامل ہے۔”

این سی آر سی کا کردار پانچ ریزورٹ علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ اور کاروبار ترتیب دینے کے لیے سرمایہ کاری کو حاصل کرنا اور انتظام کرنا ہوگا، ان علاقوں میں یورپ کا بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایلبرس بھی شامل ہے، جہاں دنیا کا دوسرا سب سے اونچا اسکی ریزورٹ بنایا جائے گا۔ دیگر چار ریزوٹس میں کراچائی-چرکاسیا میں ارخیز (3071 میٹر)، جہاں تعمیراتی کام اس ماہ شروع ہوگا، ادیگیا کی ریاست میں لاگوناکی (2450 میٹر)، شمالی اوسیشیا میں مامیسن (3732 میٹر) اور داغستان میں مطلس (2767 میٹر) شامل ہیں۔

این سی آر سی کا ہدف 2020ء تک سالانہ پانچ ملین سیاحوں کو خطے میں لانا ہے، جو اس وقت ایک ملین سالانہ ہیں۔ نئے ریزوٹ روزانہ 150,000 افراد کو رہائشی سہولیات فراہم کریں گے، جن میں سے 90,000 ہزار افراد کے لیے ہوٹل رہائش گاہ اوسطا 50 ڈالرز فی شب کی مناسب قیمت پر ہوگی۔ تمام ریزورٹس تک رسائی کے لیے اسکی اجازت نامہ تقریبا 20 سے 30 ڈالرز فی دن کے خرچ کا حامل ہوگا۔

ڈیووس میں آج کی تقریب میں بلالوف سرمایہ کاروں کے لیے 2011ء کے دوران بین الاقوامی شراکت داروں کی فہرست مختصر کرنے اور ان کے انتخاب کے منصوبوں کی تفصیلات پیش کریں گے۔ شراکت دار ان زمروں میں ہوں ہوں گے: انوسٹمنٹ بینکاری، آڈٹ، گلوبل مارکیٹنگ، انفرا اسٹرکچر، ماحول دوستی، پبلک ٹرانسپورٹ، ہوٹلز اور میزبانی، خوردہ فروشی، اسکی اور سرمائی کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ، گرمائی کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ۔

بلالوف نے کہا کہ “دنیا بھر میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ کہ انتہائی خطرناک علاقوں میں سیاحت کس طرح کامیابی سے فروغ پائی۔ ترکی، مصر اور اسرائیل کو دیکھئے۔ ہم سرمایہ کاری پر انتہائی متاثر کن ضمانت بھی پیش کر رہے ہیں۔” 

وفاقی حکومت خطے میں ایک خصوصی اقتصادی زون قائم کر چکی ہے، جس غیر ملکی کارکنوں کے لیے ترجیحی محصول، کسٹمز اور ویزا نظام ترتیب دیا گیا ہے۔

http://www.peak5642-davos.com

ذریعہ: نارتھ کاؤکیسس ریزورٹس کمپنی

 

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے (صرف ذرائع ابلاغ کے لیے):

press@peak5642-davos.com؛

انگریزی اور فرانسیسی میں سوالات کے لیے:

پیٹر براؤننگ،

لندن، برطانیہ،

+44-7760-168-969؛

روسی زبان میں سوالات کے لیے:

پاویل موروزوف،

ماسکو، روس،

+7-9166-777-001