سیاسی غیر یقینی کیفیت کے باوجود کنیسٹ کے دو-ریاستی حل انجمن کی بنیاد

AsiaNet 42920

نیویارک، 18 جنوری 2011ء / پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

ون وائس امن کوششوں کو تعطل کا شکار کرنے والی سیاسی غیر یقینی کیفیت کے باوجود پہلے دو – ریاستی حل انجمن کے آغاز کے لیے پیر کو حزب اختلاف کی رہنما ایم کے زپی لیونی (کدیما) اور دیگر کنیسٹ اراکین کے ساتھ پیر کو شامل ہو گیا ہے۔ 

( تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110117/DC31246-a )

( لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20110117/DC31246LOGO-b )

انجمن کا تصور اور تخلیق ون وائس اسرائیل (او وی آئی) – بنیادی عالمی تحریک ون وائس کے مقامی حصہ – اور اسٹیٹ کنٹرول کمیٹی کی چیئرمین اور سابق او وی آئی یوتھ  رہنما ایم کے یوئل حاسن (کدیما) نے کی۔ اس کا مقصد کنیسٹ میں دو – ریاستی حل کے لیے معتدل اتحاد کو تقویت پہنچانا ہے اور اسرائیل حکومت پر اس مقصد کے حصول کے لیے دباؤ برقرار رکھنا ہے۔

لیونی  نے انجمن  کے لیے اپنے بیان میں کہا کہ “کدیما میں ہم ایک حقیقی زاویہ نظر اختیار کرنے سے وابستہ ہیں نا کہ دوغلے معاملات کے لیے جیسے آپ نے آج دیگر ایم کیز کی جانب سے دیکھے۔ ایک جمہوری یہودی ریاست کو یقینی بنانا صرف دو ریاستوں کے تصور سے ہی ممکن ہے۔ عوام اس کی حمایت کریں گے جب وہ یہ جان لیں گے کہ یہ دائیں یا بائیں کا معاملہ نہیں بلکہ واضح اسرائیلی مفاد ہے۔”

انجمن کے کٹر حامی اقلیتی امور کے وزیر اویشے بریورمین نے ایونٹ میں اپنے استعفی کے بعد اپنی تقریر منسوخ کردی۔ دیگر دو لیبر کابینہ کے وزراء اپنے عہدے  سے دستبردار ہوگئے ہیں اور جماعت کو طاقت کا مظاہرہ کرنے والی اتحادی حکومت سے باہر لے  آئے ہیں۔

بریورمین نے کہا کہ “باراک نے لیبر پارٹی کو اپنے استعفے سے پہلے چھوڑ دیا تھا جب انہوں نے امن عمل کی فوری ضروری کے بارے میں سرگرم قیادت کے ساتھ قوت جمع کی۔ اس حکومت کی جانب سے پیدا کیے جانے والے خلا کے درمیان انجمن  کے قیام میں ون وائس اسرائیل کی قابل تعریف کوششوں سے اسرائیل میں سول سوسائٹی  نے دو ریاستی حل کے دفاع اور اسرائیل کی طویل المیعاد حفاظت میں قدم رکھا۔”

تعطل کا شکار امن مذاکرات اور بڑھتی ہوئی سخت گیر حکومت نے کئی اسرائیل سیاستدانوں کے اثر کو زائل اور دو لوگوں کے لیے دو ریاستوں کے اصول میں اعتماد کو بحال کیا ہے۔

انجمن کے دیگر اراکین میں ایم کے نینو ابےساڈزے، زیو بیلکسی، شلومو مولا، نچمین شائے اور اورٹ زوارٹز ہیں۔ یہ تمام فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست سیاسی حل کو آگے بڑھانے کے لیے غیر جماعتی بنیاد پر متحد ہوئے ہیں۔

انجمن کے چیئرمین حاسن نے کہا کہ “ہم سب معاہدے کا خلاصہ جانتے ہیں تاہم ہم میں جو کمی ہے وہ ایسی جرات مند قیادت کی ہے جو اسرائیل اور فلسطین دونوں جگہ مشکل فیصلے کر سکے۔ دونوں گروہوں کو یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم اپنے خواب کی مکمل تعبیر کے لیے نہیں جارہے لیکن ہم متحد ہو کر اس کا بہترین حصہ ضرور حاصل کرسکتے ہیں۔”

او وی آئی اسرائیل میں تصادم کے خاتمہ کے لیے پہلے سے موجود سیاسی مقصد کو سہارا دینے کے ایونٹ میں مدد کررہی ہے جس کا ثبوت حال ہی میں 100 رکنی نمایاں اسرائیلیوں کے وفد اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان رملہ میں منعقد ہونے والی میٹنگ ہے۔

او وی آئی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹال ہیرس نے کہا کہ “ہم ایک حکومت سے زیادہ اہل ہیں جو کہ گرانے کی دھمکی دیتی ہے اگر آپ کوئی سیاسی پروگرام پیش کریں۔ آپ یقین کرسکتے ہیں کہ اکثر اسرائیلی اور فلسطینی اس تصادم کو ختم کرنے کے لیے ایک حقیقی سمجھوتہ کرنے پر تیار ہیں۔ ہم حکومت کی مدد کے لیے یہاں موجود ہیں جو ہمیں ایک سیاسی عمل میں لے کر جائے اور یہ ہمارے اوپر لازمی ہے کہ ہم ہر اس حکومت کو رد کر دیں جو اس معاملہ میں فیصلہ کرنے سے گریز کرے گی۔”

او وی آئی کے درجنوں رہنماؤں نے  ایونٹ میں شرکت کی۔ امریکی، برطانوی، شامی اور جاپانی سفارت خانوں کے نمائندوں کے ساتھ اسرائیلی سول سوسائٹی آرگنائزیشنز کے سربراہوں نے کنیسٹ کے یروشلم ہال کی تواضع میں شرکت کی۔

چار گروہوں کے نمائندوں  ٹونی بلیئر، ورلڈ جیوش کانگریس کے اعزازی نائب صدر لارڈ گریوائل جینر اور امریکی کاروباری شخصیت چارلس برونف مین نے انجمن کے اہم مقصد کی تائید میں خطوط لکھے۔ سابق فلسطینی حکومت کے وزیر اور فتح کے سینئر رکن صفیان ابو زیدی نے بھی انجمن کے لیے اپنی تائید کا اعلان  کیا۔

ذریعہ: دا ون وائس موومنٹ

رابطہ:

آئیوان کراکشیان

+1-212-897-3985، ایکس ٹینشن 124

    ivan@onevoicemovement.org