پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گورنر کے قتل کی ای او پی ایم کی جانب سے مذمت

AsiaNet 42859

برسلز، 12 جنوری / پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

یورپین آرگنائزیشن آف پاکستانی مائناریٹریز (ای او پی ایم) نے پاکستان میں صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والی انتہاپسند قوتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور مبینہ توہین کے ارتکاب پر پاکستانی عدالت کی جانب سے سزائے موت پانے والی ایک غریب عیسائی خاتون آسیہ بی بی کے لیے صدارتی معافی کے حصول کی کوششوں کے باعث ظالمانہ اور سنگ دلانہ قتل پر ان کے عزیز و اقارب سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔

ظالمانہ قتل کے بذات خود ایک بزدلانہ اور سنگدلانہ اقدا م ہونے کے باوجود گورنر کو قتل کرنے کے ذمہ دار قاتل جو بہترین حفاظتی لشکر کا رکن بھی ہے، کی ستائش اور معاونت کا اظہار  پاکستان میں معاملات  کی افسوسناک حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قاتل کا تعلق دعوت اسلامی اور طالبان تک سے ہے۔

ملک میں ایسے غیر قانونی اقدامات کو برداشت کرنا اقلیتوں کے خلاف عوامی تشدد کے فروغ اور ان پر مزید بزدلانہ اور ظالمانہ حملوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

پاکستانی حکومت اور اس کی ایجنسیوں کی ساکھ داؤ پر لگ چکی ہے اور ای او پی ایم نے پاکستانی اقلیتوں کی پریشانیوں کو حل کرنے کے معاملات اٹھانے کے لیے پاکستانی رہنماؤں کو سیاسی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے مغربی حکومتوں اور بین الاقوامی ایجنسیوں کو طلب کیا ہے۔

ای او پی ایم نے پاکستانی حکومت اور اس کی ایجنسیوں سے دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی حوصلہ افزائی  روکنے کا مطالبہ کیا ہے جو کہ مزید خونریزی و ظالمانہ اقدامات کو فروغ دے رہی ہے۔ ای او پی ایم کا نظریہ ہے کہ اگر پاکستانی حکومت حرکت میں  نہیں آئی تو یہ اعتدال پسند سیاست دانوں، رہنماؤں، ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے محافظوں پر حوصلہ شکنی کے لیے دباؤ ڈالے گی اور انتہاپسندی کے عمل کو مزید وسعت دے گی۔

ای او پی ایم نے پاکستانی حکومت پر دلیرانہ اقدامات اٹھائے،توہین کے قانون کو منسوخ کرنے اور مظلوم، کمزور اور بے زبانوں کے لیے اٹھ کھڑے ہونے والوں کو مناسب تحفظ اور ضمانت فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔ قتل کی تحقیقات میں مستحکم اقدامات اور وحشیانہ جرم میں ملوث شخص کی سزا درست اشارات دے گی اور اس نظریے کو تبدیل کرے گی کہ پاکستانی حکومت اور اس کی ایجنسیاں  غالباً مسئلہ حل کرنے کے بجائے اسے ہوا دے رہی ہیں۔

ای او پی ایم اس رائے پر قائم ہے کہ آسیہ بی بی کا مقدمہ ملک کو درپیش انتظامی مسائل کی صرف ایک مثال ہےجو جناب گورنر کے عاقبت نااندیشانہ قتل سے مزید واضح ہوگیا ہے، جن کا نام تاریخ میں شجاعت و بہادری کے باعث قتل کیے جانے والوں میں لکھا جائے گا۔ سال 2010ء نے اقلیتوں کے خلاف تشدد اور خون ریزی کے کئی خوفناک اقدامات دیکھے جن میں عبادتگاہوں پر حملے بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں اقلیتیں اپنے خلاف تشدد کے صدمے کو مسلسل برداشت کررہی ہیں بشمول اس قتل کے رونما ہونے سے ان کی موجودگی مزید مصیبت کا شکار ہوگئی ہے جس کے نتیجہ میں انتہا پسند مزید جڑیں پھیلا رہے ہیں تاوقتیکہ پاکستانی حکومت کاروائی عمل میں لائے یا مغربی ممالک کی جانب سے کاروائی کے لیےدباؤ ڈالا جائے۔

http://www.eopm.org

ذریعہ: یورپین آرگنائزیشن آف پاکستانی مائناریٹریز

ذرائع ابلاغ کے لیے رابطہ کی تفصیلات:

ہمایوں سنیل، پروجیکٹ کوآرڈینیٹر، info@eopm.org، یورپین آرگنائزیشن آف پاکستانی مائناریٹریز ، +32-808-6857۔