صحت مندانہ برتری اور مالیاتی خدمات کی وسیع رینج کی پیشرفت کے لیے مائیکروفنانس ماڈلز کو ترقی دینا ضروری ہے، سی جی اے پی

AsiaNet 42530

واشنگٹن، 10 دسمبر 2010ء / پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ /

آندھرا پردیش میں آنے والا بحران موثر نگرانی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے

بھارتی ریاست آندھرا پردیش مائیکروفنانس بحران کے دوران سی جی اے پی چیف ایگزیکو آفیسر ٹلمین ایہربیک نے غریب افراد کے لیے ضروری مصنوعات اور خدمات کی وسیع تر رینج کی صحت مندانہ ترقی اور پیشرفت کے ارتقاء کو سپورٹ کرنے کے لیے مائیکروفنانس کی فراہمی کے ماڈل کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی مائیکروفنانس تنظیم نے آج آندھرا پردیش کی حالیہ صورتحال کے تجزیے پر مبنی صفحہ جاری کیا ہے اور دنیا بھر میں غریب افراد کی مالیات تک رسائی کو بڑھانے کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔

آندھرا پردیش کی ریاستی حکومت مائیکروفنانس ادارہ ہونے کے ناطے اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اس بحران کو حل کرنے کے لیے کام کررہی ہے، ایہربیک نے کہا کہ مائیکروفنانس شعبے کے لیے اس صورتحال سے درست سبق حاصل کرنا  اہم ہے تاکہ عالمی سطح پر اقتصادی شمولیت کو درست سمت میں آگے بڑھایا جاسکے۔

سی جی اے پی کا جاری کردہ صفحہ، آندھرا پردیش 2010ء : بھارتی مائیکروفنانس بحران کے عالمی مضمرات، اشارہ کرتا ہے کہ آندھرا پردیش میں مائیکروفنانس رسائی بھارت کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، جہاں صرف ایم ایف آئیز ہی سے نہیں بلکہ بلکہ دیگر کئی ذرائع سے ہاؤس ہولڈ قرضہ جات آتے ہیں۔ سی جی اے پی کے نمائندہ برائے جنوبی ایشیا اور پیپر کے مصنفین میں سے ایک گریگ چین نے کہا کہ “آندھرا پردیش کے خاندانوں نے  مختلف قرض دہندگان  سے اوسطاً چار قرض اور بڑے واجب الادا قرض لے رکھے ہیں۔ لیکن یہ واضح رہے کہ یہ غیر معمولی ہے: دنیا بھر کے 2.7 کھرب افراد اب بھی کسی قسم کی باضابطہ اقتصادی خدمات تک رسائی نہیں رکھتے وہ خدمات جو قرض دہندہ اور دیگر غیر رسمی آپشنز کے مقابلے میں کم قیمت اور قابل اعتماد ہیں۔ دریں اثناء ہمیں اس بحران سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں ذہن میں رکھنا چاہے کہ یہ صورتحال ہمیں عالمی اقتصادی شمولیت کی ترجیحات کے راستے سے ہٹانہ سکے ۔”

آندھرا پردیش میں ترقی ان عوامل کو واضح کرتی ہے جو حالیہ چند سالوں میں دیگر اعلیٰ – ترقی مائیکروفنانس مارکیٹوں میں ظاہر ہوئے۔ سی جی اے پی نے خبردار کیا ہے کہ تیز ترقی کریڈٹ ڈسپلن کی جڑ کاٹ سکتی ہے، قرضوں کی تعداد میں غیر صحت بخش اضافہ  کر سکتی اور ضمانت کے عمل کو منقطع اور کریڈٹ کی حدود سے زیادہ فراہمی کا سبب بن سکتی ہے۔

ایہربیک نے کہا کہ “ایسی جگہ میں جہاں مائیکروکریٹڈ کا نفوذ بہت زیادہ ہو – جیسا کہ  آندھرا پردیش – ہم نے تیز ترقی کے باعث ہونے والے سامنے آنے والے منفی رجحانات کا ثبوت دیکھا ہے ۔ جیسے جیسے مقامی مارکیٹ پختہ ہوگی ویسے ہی مائیکروفنانس ماڈلز  کو غریب افراد کو درکار اقتصادی مصنوعات کی وسیع تر رینج کی صحت مندانہ ترقی اور پیشرفت کے لیے تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔”

سی جی اے پی کا آندھرا پردیش میں تیز ترقی کے اثرات پر تجزیہ  سی جی اے پی کی مختلف مائکروفنانس مارکیٹس جیسے بوسنیا و ہرزیگووینا، مراکش، نکاراگوا اور پاکستان میں کیے جانے والے ہائپر – گروتھ کے سابقہ تجزیے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

سی جی اے پی کے مطابق آندھرا پردیش کی صورتحال لازمی کنٹرولز کی ضرورت کو بھی نمایاں کرتی ہے:

–        اداروں کی سطح پر مضبوط کاروباری نمونے میں مدد، جس میں ہر سطح پر ملازمین کی حوصلہ افزائی اور کسٹمر کیئر کے لیے موثر فروغ اور تربیت شامل ہو

–        صنعتی سطح پر، معلومات کی تقسیم / کریڈٹ بیوروشامل ہو

–        شرح سود کی حوصلہ افزائی اور قیمتوں کی شفافیت کے لیے ضروری قوانین ، ایک ایسے ماحول میں کہ جہاں غریب صارفین باخبر ہوں اور مصنوعات کو سمجھتے ہوں، ان کے موثر انداز میں استعمال کو جانتے ہوں اور تدابیر کے واضح مطالب جانتے ہوں۔

ایہربیک نے کہا کہ “پوری دنیا اوربھارت میں مائیکروکریڈٹ تحریک نے ثابت کردیا ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے غریب افراد کو بڑے پیمانے پر کسی ماتحت ادارے کے بھروسے کے بغیر اقتصادی خدمات فراہم کرنا ممکن ہے۔ اگر ہم واقعی اقتصادی شمولیت میں مصروف عمل ہیں تو ہمیں اسے اگلی سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے۔ غریب افراد کو صرف قرض نہیں چاہیے۔ بچت، مائیکرو انشورنس اور رقم کی منتقلی وہ تمام خدمات ہیں جو غریب افراد چاہتے ہیں اور جو غریب خاندانوں کو گھریلو اقتصادی معاملات کو بہتر انداز میں انتظام میں مدد دے۔ ہمیں باقی بچ جانے والے 2.7 کھرب افراد کو اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنے کا ذمہ لینے کی ضرورت ہے۔”

پیپرکا مطالعہ کیجیے : http://www.cgap.org/gm/document-1.9.48945/FN67.pdf

ذریعہ: سی جی اے پی

رابطہ: جینٹے تھامس، jthomas1@cgap.org، +1-202-744-4829