برسبین کی گیلری آف ماڈرن آرٹ کی جانب سے 21 ویں صدی کے بین الاقوامی آرٹ کا جائزہ

برسبین، آسٹریلیا، 23 ستمبر/میڈیانیٹ انٹرنیشنل-ایشیانیٹ/

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے معاصر بین الاقوامی آرٹ کی ایک شاندار نمائش 18 دسمبر 2010ء سے 25 اپریل 2011ء تک برسبین، آسٹریلیا کی گیلری آف ماڈرن آرٹ (GoMA) میں منعقد ہوگی۔

کوئنز آرٹ گیلری ڈائریکٹر ٹونی ایلووڈ نے کہا کہ ‘اکیسویں صدی: پہلی دہائی کا آرٹ’ میں 40 ممالک سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد بزرگ اور ابھرتے ہوئے فن کاروں کے 180 سے زیادہ فن پارے پیش کیے جائیں گے، جن میں سے بیشتر فن پارے گیلری کی اپنی کلیکشن کا حصہ ہیں۔

جناب ایلووڈ نے کہا کہ ‘کوئنزلینڈ آرٹ گیلری نے اپنی ایشیاپیسفک سہ سالہ معاصر آرٹ (APT) نمائش اور ایشیائی اور بحر الکاہل کے خطوں کی کلیکشنز کے باعث گزشتہ 20 سالوں میں معاصر آرٹ میں اپنا مقام مستحکم کیا ہے۔ ’21 ویں صدی’ معاصر آرٹ کلیکشن کی پیشرفت میں حقیقی بین الاقوامیت سے وابستگی کا اشارہ دیتی ہے۔’

نمائش گزشتہ دہائی میں گیلری میں شامل ہونے والے فن پاروں کو نمایاں کرتی ہے جس میں آسٹریلیا، ایشیا، بحر الکاہل، افریقہ، مشرق وسطی، یورپ، اور شمالی، جنوبی و وسطی امریکہ کے فن پارے شامل ہیں۔

پیش کیے جانے والے فن پاروں میں میں تحویل شدہ، آسٹریلین اور بین الاقوامی اداروں سے حاصل کردہ فن پارے، اور بچوں کے انٹرایکٹو کاموں کا ایک پروگرام شامل  ہوں گے۔

نمائش کے لیے ایک بلاگ www.21Cblog.com بین الاقوامی عجائب گھروں کے مہتمم اور مصنفین کے تبصرے پیش کرے گا جس میں 2011ء استنبول کے شریک مہتمم دو سالہ جینس ہوف مین (امریکہ) اور ایڈریانو پیڈروسا (برازیل) اور ٹام وینڈربلٹ (امریکہ) بھی شامل ہیں۔

‘اکیسویں صدی’ منصوبہ عالمی سیاسی، اقتصادی، ماحولیاتی اور ٹیکنالوجیکل تبدیلی کے اثرات کے فن کارانہ جواب اور معاصر آرٹ کے بارے اور نئے ہزاریہ کی ہنگامہ خیز پہلی دہائی میں عجائب گھروں کے کردار کے بارے میں موجودہ خیالات کو تلاش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘چند فن پارے اس دہائی کے دوران ہمیں درپیش مسائل کا خصوصی طور پر جواب دیتے ہیں، جبکہ دیگر وسیع تر سماجی و سیاسی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں، یا طویل المیعاد جمالیاتی یا فلسفیانہ تعلقات کے لیے نئے ذریعہ اظہار کو تلاش کرتے ہیں۔’

‘نمائش شائقین کو ایسے فن پاروں سے متعارف کروائے گی جو حالیہ معاصر آرٹ میں اثرات کے کلیدی مواقع کے نمائندہ ہیں جن پر حالیہ دہائیوں میں غور نہیں کیا گیا۔

‘گیلری اسٹاک ہوم کے فن کار کارسٹن ہولر کے ساتھ کام کرنے پر خوش ہے جنہوں نے GoMA کی ڈیوڑھی میں دو چکردار شکل کی سلائیڈز کی تنصیب کا نیا اضافہ کیا۔ سلائیڈز نمائش کے داخلی راستے پر ایک خوش اسلوب اضافہ ہیں اور شائقین کو گیلری کی تیسری منزل اور پہلی منزل کے درمیان فوری رسائی فراہم کریں گی۔

‘نمائش کی دیگر جھلکیوں میں لیاندرو ارلچ کا شاندار ترومپے لی اوئل مجسمہ، سوئمنگ پول، جس نے 2001ء وینس دو سالہ میں ارجنٹائن کی نمائندگی کی؛ ٹرنر پرائز فاتح مارٹن کریڈ کا فراہم کردہ جگہ میں نصف ہوا، جس میں وہ GoMA کی گیلریوں میں سے ایک میں نصف گیلری کو جامنی غباروں سے بھریں گے؛ اور فرانسیسی فن کار سیلست بورسیئر-موگنو کا نیا صوتی کام جس میں شائقین زندگی زیبرا فنچز کی گیلری ملاحظہ کریں گے، شامل ہیں۔

‘دیگر اہم فن پاروں میں ان ٹائٹلڈ (NASDAQ) 2003ء از کلاڈ کلوسکی (فرانس) ایک وال پیپر جو 2009ء کے مالیاتی بحران کو پیشگی تصور لیتا ہے، کیمرون کے فن کار مارتھائن تایو ہزاروں پلاسٹک کے تھیلوں کی تنصیب جو ایک بہت بڑی رنگین مجسماتی شکل میں ڈھلتی ہے، اور میکسیکو کے فن کار ہورگے مینڈیز بلیک کی ایک نئی دیواری تصویر شامل ہیں۔

‘اکیسویں صدی’ فلم اور وڈیوز بھی پیش کرے گی جس میں شان گلیڈویل (آسٹریلیا)، آئزک جولین (برطانیہ)، روبن رہوڈ (جنوبی افریقہ)، ایرنوٹ مک (نیدرلینڈز) اور ریان ٹریکارٹن (امریکہ) کے اہم کام شامل ہیں۔ 

گیلری کی نئی ملکیتیں جو اس نمائش میں پہلی بار ظاہر کی جائیں گی میں رومالڈ ہازومے (بینن)، فریڈرک برولی بوابرے (کوت دا ایووغ)، مترا تبریزیان (ایران) گائے ٹیلم (جنوبی افریقہ)، اولاف بریوننگ (سویٹزرلینڈ)، سپرفلیکس (ڈنمارک) اور شریف ویکد (فلسطین) شامل ہیں۔

’21 ویں صدی’ کا اختتام دو بڑے سینما پروگراموں، وسیع تر عوامی پروگراموں اور ایک اشاعت کے ذریعے ہوگا جو آسٹریلیا کے اور بین الاقوامی مصنفوں اور مہتمموں کی تنقیدی تحاریر پر مشتمل ہوگی۔

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے www.qag.qld.gov.au

 

رابطہ برائے ذرائع ابلاغ:

امیلیا گونڈلیک،

کوئنزلینڈ آرٹ گیلری

ٹیلی فون: +61-(0)-7-3840-7162

ای میل: amelia.gundelach@qag.qld.gov.au

 

ذریعہ: کوئنزلینڈ آرٹ گیلری