آسٹریلیا کے پہلے عالمی تنازعاتی مرکز کا سڈنی میں آغاز

سڈنی،  آسٹریلیا، 10 اگست/میڈیانیٹ انٹرنیشنل-ایشیانیٹ/

سڈنی میں آسٹریلین انٹرنیشنل ڈسپیوٹس سینٹر کے آغاز کے ساتھ ہی آسٹریلیا بین السرحدی تنازعوں کے حل کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں عالمی کھلاڑی کی حیثیت اختیار کرنے کو تیار ہے۔

آسٹریلین اور نیو ساؤتھ ویلز کی حکومتوں اور آسٹریلیا کے واحد ثالثی منتظم، دی آسٹریلین سینٹر فار کمرشل آربٹریشن، کی جانب سے مشترکہ طور پر فنڈڈ یہ جدید تنصیب قومی و بین الاقوامی کمپنیوں کو اپنے تجارتی تنازعات کو مہنگے اور طویل قانونی عمل کے حامل عدالتی نظام سے گزرے بغیر حل کرنے کی سہولت دے گی۔

پرائس واٹر کوپر ہاؤس کے ایک سروے ‘انٹرنیشنل آربٹریشن: کارپوریٹ رویے اور مشقیں’ نے انکشاف کیا ہے کہ 73 فیصد ادارے بین الاقوامی مقدمے بازی کے بجائے اپنے بین السرحدی تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں اور ثالثی کو اپنے کاروباری تعلقات کو کامیابی سے محفوظ رکھنے کا سبب سمجھتے ہیں۔

ACICA کے صدر اور کلے ٹن یوٹز انٹرنیشنل آربٹریشن اور میجر پروجیکٹس گروپ کے سربراہ پروفیسر ڈوگ جونز اے ایم نے کہا کہ “بین الاقوامی ثالثی عالمی معیشت کے کاروباری اداروں کے لیے ایک پسندیدہ عمل کے طور پر ابھر چکا ہے۔”

جونز نے مزید کہا کہ “سرمایہ کار کسی غیر ملکی عدالتی نظام میں مقدمے بازی کی غیر یقینی کیفیات سے بچنا چاہتے ہیں جو قانونی عمل سے واقفیت میں کمی اور چند صورتوں میں زیادہ وقت اور اخراجات کا سبب ہوتا ہے۔ شیورون گروپ کے حوالے سے فیصلہ اس کی حالیہ مثال ہے۔”

(مارچ میں شیورون کو ہیگ میں قائم مستقل عدالت برائے بین الاقوامی ثالثی کی جانب سے 700 ملین امریکی ڈالرز سے نوازا گیا تھا جس نے ایکواڈور کے خلاف شیورون کے دعوے کے حق میں فیصلہ کیا تھا جو ماضی میں ادارے کے ٹیکساکو یونٹ میں جاری آپریشنز کے حوالے سے تھا۔ ٹریبونل نے پایا کہ ایکواڈور کی عدالتیں ٹیکساکو اور ایکواڈور کی حکومت کے درمیان معاہدے کے تنازع پر فیصلے میں تاخیر سے کام لے رہی ہے، اس طرح وہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ شیورون کو 22 دسمبر 2006ء کے مطابق اہم نقصانات اور سود سے نوازا گیا، اور محصولات، سود اور اخراجات کا احاطہ کرنے کے لیے مزید پیروی زیر غور ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ کی دوسری سب سے بڑی توانائی کمپنی کے لیے جنوبی امریکی ملک میں تیل کی پیداوار میں بڑھتے ہوئے تنازعات کی چار دہائیوں کے بعد ایک فتح تھی۔)

مرکز کو آسٹریلوی کاروبار نے منظور کیا ہے جس میں آسٹریلوی انڈسٹری گروپ کی چیف ایگزیکٹو محترمہ ہیدر رڈآؤٹ نے کہا کہ “تجارتی تنازعات کاروبار کی حقیقت ہیں؛ ان کو کم سے کم کرنا اور انہیں بہتر انداز میں حل کرنا کلید ہے۔ سینٹر کا زور ایک عالمی معیار کی تنصیب اور معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت فراہم کرنے پر ہے، جس کا آسٹریلوی اور علاقائی کاروباری اداروں کی جانب سے بھرپور خیر مقدم اور سپورٹ کیا جائے گا۔

بین الاقوامی وکیل مچل سنڈل سینٹر کے پہلے چیف ایگزیکٹو کے طور پر مقرر کی گئی ہیں۔

محترمہ سنڈلر یورپ میں بین الاقوامی ثالثی اور یورپ میں تنازعات کے حل میں کامیاب مشق کرنے کے بعد آسٹریلیا واپس آئی ہیں۔ AIDC کے چیئرمین ہون ٹریور مورلنگ کیو سی نے کہا کہ “مچل متبادل تنازعات کے حل میں ایک موثر پس منظر رکھتی ہیں، اور بین الاقوامی ثالثی کے حوالے سے ان کا خاص زاویہ نظر ہے۔ بورڈ نے بالاتفاق رائے اس امر پر رضامندی ظاہر کی کہ وہ سینٹر کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہوں گی۔”

سینٹر کا باضابطہ افتتاح آسٹریلیا کے اٹارنی جنرل رابرٹ مک کلے لینڈ اور نیو ساؤتھ ویلز ریاست کے اٹارنی جنرل جنرل جان ہیزیسترگوس نے کیا جبکہ اس موقع پر وفاقی عدالت آسٹریلیا کے چیف جسٹس پیٹرک کین، نیو ساؤتھ ویلز کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جیمز اسپگل مین اور دیگر اعلی شخصیات بھی موجود تھیں۔

اختتام

رابطہ برائے ذرائع ابلاغ:

گیانا ٹوٹارو

+61 438 337 328

GiannaTotaro@disputescentre.com.au

آسٹریلین انٹرنیشنل ڈسپیوٹس سینٹر (AIDC) کے بارے میں

آسٹریلین انٹرنیشنل ڈسپیوٹس سینٹر تنازعات کے حل کے لیے آسٹریلیا کا اعلی ترین مقام ہے۔ 2010ء میں آسٹریلیا کی حکومت اور نیو ساؤتھ ویلز کی ریاستی حکومت کی مدد سے قائم ہونے والے سینٹر میں معروف اے ڈی آر فراہم کنندگان شامل ہیں جن میں آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل کمرشل آربٹریشن (ACICA)، دی چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ آف آربٹریٹرز (آسٹریلیا) لمیٹڈ (CIArb) ، دی آسٹریلین میری ٹائم اینڈ ٹرانسپورٹ آربٹریشن کمیشن (AMTAC) اور دی آسٹریلین کمرشل ڈسپیوٹس سینٹر (ACDC) شامل ہیں۔ سینٹر ایک ہی مقام پر تمام متبادل تنازعاتی حل کی خدمات فراہم کرتا ہے جس میں تسلیم شدہ تنازعات حل کرنے والوں کے پینلز شامل ہیں۔ مزید معلومات کے لیے www.disputescentre.com.au

ذریعہ: آسٹریلین انٹرنیشنل ڈسپیوٹس سینٹر