سائنسدانوں نے ‘لوسی’ کے 3.6 ملین سال پرانے رشتہ دار کی دریافت کا اعلان کر دیا

کلیولینڈ، 22 جون/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

انسان کے اس قدیم ڈھانچے نے تصدیق کی ہے کہ دو پیروں پر چلنے کا آغاز بہت پہلے ہوا تھا

“لوسی” کے لکڑ دادا سے ملیے، کلیولینڈ میوزیم آف نیچرل ہسٹری، کینٹ اسٹیٹ یونیورسٹی، کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی، عدیس ابابا یونیورسٹی اور برکلے جیوکرونولوجی سینٹر کے سائنسدان ایک ایسی بین الاقوامی ٹیم کا حصہ تھے جس نے ایتھوپیا میں 3.6 ملین سال پرانے ایک ادھورے ڈھانچے کو تلاش کیا۔ یہ ابتدائی زمانے کا انسان معروف ڈھانچے “لوسی” سے 4 لاکھ سال پرانا ہے۔ اس نئے نمونے پر تحقیق نے اشارہ دیا ہے کہ جدید انسان نما مخلوق نے ہمارے گزشتہ تصور سے کہیں پہلے دو پیروں پر چلنا شروع کیا تھا۔ دریافت اور ابتدائی تجزیے کے نتائج رواں ہفتے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے آن لائن ابتدائی ایڈیشن میں شایع ہوں گے۔

یہ ادھورا ڈھانچہ “لوسی” کی نوع، آسٹرالوپتھی کس آفرینسس، سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ڈھانچہ کلیولینڈ میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے کیوریٹر اور سربراہ فزیکل اینتھراپولوجی اور سب سے زیادہ اس ڈھانچے کو دریافت کرنے والے ڈاکٹر یوہانس ہیل-سیلاسی کی زیر قیادت ٹیم کو ایتھوپیا کے خطے افار کے علاقے وورانسو-ملے سے ملا ہے۔ یہ ادھورا ڈھانچہ 2005ء میں بازو کی زیریں ہڈی کی دریافت کے بعد پانچ سالوں میں کھود کر نکالا گیا ہے۔ کھدائی کے نتیجے میں انسانی فوصل کی تاریخ کی مکمل ترین ہنسلی کی ہڈی اور شانے کی مکمل ترین ہڈیوں میں سے ایک برآمد ہوئی۔

اس نمونے کو دریافت کنندگان کی جانب سے “کاڈانومو” (Kadanuumuu) کا نام دیا گیا۔ افار زبان میں “کاڈانومو” کا مطلب ہے “بڑا آدمی” اور یہ اس کے بڑے حجم کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مرد انسان 5 سے ساڑھے 5 فٹ لمبا ہے جبکہ “لوسی” ساڑھے 3 فٹ لمبی تھی۔

ہیل-سیلاسی نے کہا کہ “یہ  شخص مکمل طور پر دو پیروں پر چلنے والا تھا اور جدید انسان کی طرح چلنے کی صلاحیت رکھتا تھا، اس دریافت کے نتیجے میں، ہم مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ‘لوسی’ اور اس کے رشتہ دار دو پیروں پر چلنے کے بالکل اسی طرح عادی تھے جس طرح ہم ہیں، اور ہم انسانوں کے ارتقاء میں دو پیروں پر چلنے والا مرحلہ ہماری سوچ سے کہیں پہلے آیا تھا۔”

کینٹ اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر برائے اینتھروپولوجی اور دریافت کنندہ، ڈاکٹر سی اوون لوجوائے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نیا ڈھانچہ ہمیں ‘لوسی’ کے مقابلے میں کولہے، سینے اور پسلی  کی ہڈیوں کے بارے میں کہیں زيادہ معلومات دیتا ہے۔”

اس تحقیق کے مصنفوں میں ویسٹرن ریزرو یونیوسرٹی میں ڈائریکٹر برائے سینٹر آف ہیومن اوریجنز ڈاکٹر بروس لاٹیمر اور کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی ہی کے جیولوجیکل سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر بیورلے سیلر شامل ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے لیے خبر کا پس منظر اور تصاویر یہاں ملاحظہ کیجیے

http://www.cmnh.org/site/Kadanuumuu.aspx

ذریعہ: کلیولینڈ میوزیم آف نیچرل ہسٹری

رابطہ: گلینڈ بوگر،

+1-216-231-2071

gbogar@cmnh.org

یا

میری گراف

+1-216-231-2070

دونوں برائے کلیولینڈ میوزیم آف نیچرل ہسٹری