سگریٹ کی غیر قانونی تجارت دہشت گردی اور منظم جرائم کو سرمایہ فراہم کررہی ہے

کیف،یوکرین، 9 جون/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ

یہ واضح اور ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سگریٹ کی بین الاقوامی غیر قانونی تجارت (اسمگلنگ) سے حاصل ہونے والی کئی ارب ڈالرز کی آمدنی میں سے بڑی مقدار دہشت گرد گروہوں اور بین الاقوامی منظم شدہ مجرموں کے گروہوں کے حلقوں میں استعمال ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک تفتیشی انجمن، گروپ آف ایکسپرٹس، نے بتایا ہے کہ تمباکو سے حاصل ہونے والی غیر قانونی آمدنی میں سے کئی ملین ڈالرز کی رقم القاعدہ، طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو پہنچ رہی ہے اور بچوں کی مسلح گروہوں میں بھرتی، بڑے پیمانے پر عصمت دریوں اور قتل کے لیے کانگو کے باغیوں کو بھی مل رہی ہے۔

تمباکو کنٹرول کے حوالے سے عالمی ادارۂ صحت کے فریم ورک کنونشن کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 600 ارب ڈالرز مالیت کے جعلی اور اسمگل شدہ سگریٹ بین الاقوامی سرحدوں کے آر پار غیر قانونی طور پر منتقل کیے جاتے ہیں۔ یہ غیر قانونی تجارت دنیا بھر کے ممالک کو محاصل کی مد میں 50 ارب امریکی ڈالرز کا نقصان پہنچاتی ہے۔ امریکن کینسٹر سوسائٹی اور ورلڈ لنگ فاؤنڈیشن کے مستند ‘ٹوبیکو اٹلس’ کے تازہ ترین ایڈیشن نے بھی یہ نتیجہ پیش کیا ہے کہ “سگریٹ دنیا میں سب سے زیادہ اسمگل کی جانے والی جائز صارفی مصنوعات ہے۔”

کئی ممالک میں ہنگامہ خیز رحجانات کے باوجود یوکرین میں، جس کی آبادی 45 ملین ہے اور سرحدیں بھی بہت زیادہ مضبوط نہیں ہیں، اس کے باوجود وہ اپنی غیر قانونی تمباکو کی کل مارکیٹ کے محض 1.7 فیصد کی انتہائی کم ترین شرح کا حامل ہے۔ یوکرین مصنوعات کی غیر قانونی فروخت کو کنٹرول کرنے کے لیے EDAPS ٹیکس اسٹمپ  سسٹم کا استعمال کرتا ہے اور EDAPS اب دیگر اقوام کے لیے ہم پلہ نظام پیش کر رہا ہے۔

EDAPS کے چیئرمین الیگینڈر وازیلیف نے کہا ہے کہ ” ہولوگرام ٹیکنالوجی اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ساتھ نفاذ کا ہمارا طریق کار حکومتی اداروں کو نہ صرف قابل محصول مصنوعات کی فروخت کے ذریعے نہ صرف اپنی آمدنی میں بڑی حد تک اضافے کے قابل بناتا ہے بلکہ غیر قانونی استعمالات کو ڈرامائی حد تک روکنے کی قوت سے بھی لیس کرتا ہے جو اکثر اوقاات بین الاقوامی مجرمانہ اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے۔”

نائن الیون کے بعد سے، امریکن بیورو آف الکحل، ٹوبیکو، فائرورکس اینڈ ایکسپلوزِوز کے مطابق دہشت گرد گروہوں کے تعلق رکھنے والے اسمگلرز سگریٹوں کی غیر قانونی فروخت کے ذریعے کئی ملین ڈالرز حاصل کر رہے ہیں اور القاعدہ اور طالبان کو رقوم کی فراہمی کر رہے ہیں۔ سینٹر فار پبلک انٹیگریٹی کی حالیہ تحقیق کے مطابق بایں ہمہ بڑھتی ہوئی بلیک مارکیٹیں نہ صرف دہشت گرد گروہوں بلکہ درجنوں منظم جرائم پیشہ گروہوں کو بھی تقویت بخش رہے ہیں، جنہوں نے پایا ہے کہ زیادہ منافع اور کم خطرے سے بچنا مشکل ہے۔

سگریٹ کی اسمگلنگ کا پہلے بڑے مقدمے کی پیروی 2002ء میں شمالی کیرولینا میں کی گئی۔ چارلوٹ میں ایک وفاقی عدالت نے 28 سالہ محمود حمود کو ایک کئی ملین ڈالر سگریٹ اسمگلنگ کے عمل کے ذریعے منافع دہشت گرد گروہوںکو مدد کی فراہمی پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کا مجرم ٹھیرایا۔ مدعی نے اقرار کیا کہ اس کوشش سے حاصل ہونے والا کثیر منافع اعلی سطحی دہشت گرد رہنماؤں کو بھیجا گیا۔

اے ٹی ایف کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مائیکل بوچارڈ نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ “ہم ان معاملات کو اولیت دے رہے ہیں، اور ہم جتنا ان مقدمات کی تہہ میں گئے، دہشت گردی کے ساتھ ان کےتعلقات ظاہر ہوتے جا رہے ہیں۔”

یو ایس ہاؤس کمیٹی برائے ہوم لینڈ سیکورٹی کی تیار کردہ ایک کانگریشنل تحقیق بعنوان – “سگریٹ اسمگلنگ کس طرح بیرون ملک ہمارے دشمنوں کو سرمایہ دے رہی ہے” – نے نتیجہ نکالا ہے کہ “قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حالیہ تفتیش نے تمباکو کی غیر قانونی تجارت میں ملوث افراد کے بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ براہ راست تعلقات کو ظاہر کیا ہے۔”

انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کی ایک رپورٹ – “ٹوبیکو انڈرگراؤنڈ” – نے طالبان اور دیگر گروہوں کے لیے کام کرنے والے اسمگلروں کے طریقوں کو آشکار کیا ہے۔ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کئی ارب ڈالرز کا یہ کاروبار کس طرح منظم جرائم کو فروغ دینے، حکومتوں کو محصولات کی رقم سے محروم کرنے اور نشے بازی کی عادت کو پھیلانے میں کیا کردار ادا کر رہا ہے۔

انسداد جرائم اور فوجداری قوانین کے حوالے سے گزشتہ ماہ برازیل میں ہونے والی اقوام متحدہ کی بارہویں کانگریس نے بھی نتائج ظاہر کیے کہ “منظم جرائم اور دہشت گردی اس وقت بین الاقوامی امن اور استحکام کے لیے سب سے بڑے خطرات ہیں، اور جس بڑے پیمانے پر اب یہ خطرہ درپیش ہے اتنا پہلے کبھی نہ تھا۔”

وازیلیف نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں یقین ہے کہ ہمارا EDAPS ٹیکس اسٹمپ سسٹم بین الاقوامی جرائم اور دہشت گردی کی کئی اقسام کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والوں کے وسائل ختم کرنے کی عالمی کوششوں میں اپنا بڑا حصہ ڈال سکتا ہے ۔ “

ذریعہ: EDAPS کنسورشیم

رابطہ: اولگا لیوبیمووا

+38044-5612570 ایکسٹینشن 11

فیکس، +38044-5612545